عقیدہ کا لغوی معنی "گرہ باندھنا" یا "مضبوطی سے جوڑنا" ہے جو "عقد" سے مشتق ہے۔ اس سے مراد دل کا ایسا پختہ یقین اور ایمان ہے جس میں شک کی کوئی گنجائش نہ ہو۔ مطالعہ عقائد ہر مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے اور اسی پر اس کے اعمال کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ کیونکہ جس کے عقائد درست ہونگے تو اعمال بھی درست ہونگے اور اگر عقائد غلط سمت میں چلے گئے تو اعمال کی عمارت بھی کمزور ہو جائیگی۔ اللہ پاک نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ(۱۰۷) خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا(۱۰۸) ترجمۂ کنزُالعِرفان:بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے ان کی مہمانی کیلئے فردوس کے باغات ہیں ۔ وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، ان سے کوئی دوسری جگہ بدلنا نہ چاہیں گے۔ (سورة الكہف، آیت 107،108)

پہلے ایمان کا ذکر فرمایا پھر اعمال کا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عقیدہ ہر عمل سے پہلے ہے کیونکہ اعمال جتنے ہی زیادہ ہوں اگر عقیدے میں خرابی ہوگی تو نجات کی راہ ممکن نہیں۔اس دورِ پر فتن میں عقائد کے مطالعے کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ کچھ لوگوں نے ائمہ و علماء کے دامن کو چھوڑ کر خود سے عقائد کی تشریح کرنا شروع کر دی اور امتِ مسلمہ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور بیشمار لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ کسی نے کافروں کے بارے میں نازل ہوئی آیات کو مسلمانوں پر چسپاں کر دیا تو کسی نے بتوں کے بارے میں نازل ہوئی آیات کو اولیاء کے ساتھ جوڑ دیا کسی نے انبیاء کرام کی گستاخیاں کیں تو کسی نے مسلمانوں پر مشرک ہونے کا فتویٰ لگا دیا۔ العیاذ باللہ تعالیٰ۔

مطالعہ عقائد اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس میں قاری سب سے پہلے اللہ پاک کی ذات و صفات کے بارے میں جانتا ہے، پھر رسولوں کے بارے میں اور کتابوں کے بارے میں اور فرشتوں کے بارے میں پھر موت، تقدیر اور آخرت کے بارے میں جانتا ہے جس سے اس کا ایمان اور مضبوط ہو جاتا ہے اور شکوک و شبہات سے دور ہو جاتا ہے۔مطالعہ عقائد انسان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ باطل مذاہب اور عقائد کے پیروکار اور ملحدین کے باطل افکار و نظریات سے خود کو اور دوسرے مسلمانوں کو بچا سکتا ہے اور ان کا رد کر سکتا ہے۔

اسی طرح مبلغین کے لیے بھی عقائد کا مطالعہ ضروری ہے کیونکہ دورانِ تبلیغ اسے ہر طرح کے لوگوں کا سامنا ہوتا ہے جو طرح طرح کے سوالات کرتے ہیں۔ اگر مبلغ انہیں اپنے جوابات سے اطمینان بخش جوابات دینے میں کامیاب ہو جائے تو سائل متاثر ہو جائیگا اور اس کے برعکس اس کا مطالعہ نہ ہو اور جوابات نہ دے سکے تو سائل متنفر و بدظن ہو جائیگا اور قوی امکان ہے کہ گمراہ ہو جائے اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی کر دے۔عقائد کے مطالعے سے عبادت میں بھی خشوع و خضوع حاصل ہوتا ہے کیونکہ جب انسان کا دل و دماغ شکوک و شبہات سے پاک ہوگا اور اس کو اپنے رب کی صحیح پہچان حاصل ہو گی تو اس کی عبادات میں بھی اخلاص پیدا ہوگا۔


مطالعۂ عقائد دینِ اسلام کی بنیادوں کو مضبوط کرنے اور ایمان کو پختہ بنانے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ عقیدہ وہ اساس ہے جس پر انسان کے تمام اعمال کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، اگر بنیاد درست ہو تو عمارت مضبوط رہتی ہے اور اگر بنیاد میں کمزوری ہو تو نیک اعمال بھی غیر مستحکم ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اہلِ علم نے عقائد کی درستگی کو دین کی اولین ضرورت قرار دیا ہے۔ مطالعۂ عقائد انسان کو حق و باطل میں فرق کرنے، گمراہ کن نظریات سے بچنے اور اپنے ایمان کی حفاظت کرنے کا شعور عطا کرتا ہے۔

ایمان کی درستگی کا حکم:اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو! ایمان رکھو اللہ اور اس کے رسول پر۔(سورۃ النساء: 136)

اس آیت میں ایمان کو مزید مضبوط اور درست رکھنے کا حکم دیا گیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ عقائد کی اصلاح اور ان کا مطالعہ ہمیشہ ضروری ہے۔

گمراہی سے بچنے کا ذریعہ:رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِي یعنی میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔ (موطا امام مالک، کتاب القدر، حدیث نمبر 1594)یہ حدیث اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ صحیح عقیدہ قرآن و سنت سے وابستگی کے بغیر ممکن نہیں۔

مطالعۂ عقائد انسان کے دل کو شکوک و شبہات سے پاک کرتا، یقین کو مضبوط بناتا اور اسے فکری استقامت عطا کرتا ہے۔ جب انسان اپنے عقائد کو دلائل اور بصیرت کے ساتھ سمجھ لیتا ہے تو وہ ہر قسم کے فتنوں اور گمراہیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ یہی مطالعہ اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت، رسولِ کریم ﷺ کی محبت اور دینِ حق کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ عقائدِ صحیحہ کا علم حاصل کرے، اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائے اور آنے والی نسلوں تک منتقل کرے، کیونکہ یہی وہ سرمایہ ہے جو دنیا میں سکون اور آخرت میں نجات کا ضامن ہے، اور یہی وہ روشنی ہے جسے دیکھ کر دلوں میں رشک پیدا ہوتا ہے۔


کسی عام مسلمان کے لیے مطالعہ عقائد اتنا ہی اہم ہے جتنا زندہ رہنے کے لیے سانس لینا ۔کیونکہ عقائد ہی

اسلام کی بنیاد ہیں بلکہ کلمہ طیبہ ہی عقیدے سے شروع ہوتا ہے کہ (لا الہ الااللہ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔جب تک کوئی یہ عقیدہ نہیں رکھتا تو وہ کافر ہے ۔اور اسکو بنیادی معلومات نہیں تو وہ اسکے ایمان کے کمزور ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے ۔عقیدہ ہی وہ شے ہے جسکے کامل ہونے کے بعد اعمال صالحہ کا حکم نافذ ہوتا ہے اور روحانی ترقی حاصل ہوتی ہے ۔سب سے پہلے مسلمان کو عقیدہ توحید کے متعلق بنیادی معلومات اہم ہے کہ وہ شرک کی ہوا سے محفوظ ہو اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے کہ:

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ یعنی جب آپ نے جان لیا کہ قیامت قائم ہوتے وقت نصیحت حاصل کرنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا تو آپ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں جو علم اور یقین رکھتے ہیں اس پر قائم رہیں کیونکہ یہ قیامت کے دن ضرور نفع دے گا۔(صاوی، محمد، تحت الآیۃ: ۱۹، ۵ / ۱۹۵۷)اور عقائد ہی سے حق و باطل کے مابین واضح فرق ظاہر ہوتا ہے ۔

عقائد کا مطالعہ کس حد تک ضروری ہے آئیے اسکو قرآن پاک کے آیت کے شان نزول سے سمجھتے ہیں،

اللہ پاک کا یہ فرمان: مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤترجمہ کنز الایمان: جو ایمان لا کر اللہ کا منکر ہو۔ (النحل:106)

شانِ نزول :یہ آیت حضرت عمار بن یاسررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت عمار، ان کے والد حضرت یاسر ، ان کی والدہ حضرت سمیہ، حضرت صہیب، حضرت بلال، حضرت خباب اور حضرت سالم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو پکڑ کر کفار نے سخت سخت ایذائیں دیں تاکہ وہ اسلام سے پھر جائیں (لیکن یہ حضرات اسلام سے نہ پھرے تو) کفار نے حضرت عمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے والدین کو بڑی بے رحمی سے شہیدکر دیا۔ حضرت عمار رَضِیَ اللّہ تَعَالٰی عَنْہُ (ضعیف تھے جس کی وجہ سے بھاگ نہیں سکتے تھے، انہوں ) نے مجبور ہو کر جب دیکھا کہ جان پر بن گئی تو بادلِ نخواستہ کلمۂ کفر کا تَلَفُّظ کردیا ۔ رسولِ کریم ﷺ کو خبر دی گئی کہ حضرت عمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کافر ہوگئے توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ہرگز نہیں ، حضرت عمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سر سے پاؤں تک ایمان سے پُر ہیں اور اس کے گوشت اور خون میں ذوقِ ایمانی سرایت کرگیا ہے۔ پھر حضرت عماررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ روتے ہوئے خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’کیا ہوا؟ حضرت عمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: اے خدا کے رسول! بہت ہی برا ہوا اور بہت ہی برے کلمے میری زبان پر جاری ہوئے۔ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اس وقت تیرے دل کا کیا حال تھا؟ حضرت عمار رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی ’’دل ایمان پر خوب جما ہوا تھا۔ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے شفقت و رحمت فرمائی اور فرمایا کہ اگر پھر ایسا اتفاق ہو تو یہی کرنا چاہیے۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی۔( خازن، النحل، تحت الآیۃ: ۱۰۶، ۳ / ۱۴۴ملخصاً)اور عقائد ہی سے اللہ تعالیٰ کی توحید ذات و صفات رسالت فرشتے آسمانی کتب اور آخرت کے متعلق معلومات حاصل ہوتی ہے ۔

عقائد اہلسنت کی معلومات سے ہی باطل فتنوں ،فرقوں سے بچنا ممکن ہے ہر سنی کو عقیدہ توحید عقیدہ ختم نبوت عقیدہ آخرت عقیدہ علم غیب پر معلومات بے حد ضروری ہے چاہے اسکا تعلق دنیا کے کسی بھی شعبے سے ہو ان عقائد کا مخالف فرقہ پرست ہے کیونکہ اہلسنت ہی وہ جماعت ہے جو نبی آخر الزماں علیہ تحیۃ و ثنا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طریقے پر ہے۔ اور یہ ہی اہل حق اور اہل جنت ہیں ۔


اللہ کریم نے انسانیت کی رشد و ہدایت کے لیے انبیاء کرام کی جماعت مبعوث فرمائی اور انہیں وہ دینِ کامل عطا فرمایا جو انسانیت کو ہمہ گیر اور جامع رہنمائی عطا کرتا ہے۔ وہ تمام عقائد و نظریات جن پر نجاتِ اخروی موقوف ہے رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو قرآن و سنت کی نصوص قطعیہ کی صورت میں بتا دیے ہیں۔

پیارے اسلامی بھائیو! اگر عقیدہ درست ہے تو اعمال بھی درست ہوں گے، اور اگر عقیدہ میں خرابی آ جائے تو نیک اعمال بھی انسان کو نجات نہیں دلا سکتے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عقیدہ کیا ہے؟عقیدہ دراصل دل سے کسی بات کو سچ ماننے اور اس پر پختہ یقین رکھنے کا نام ہے۔ اسلام میں بنیادی عقائد: توحید، رسالت، آخرت، فرشتوں، آسمانی کتابوں اور اچھی بُری تقدیر پر ایمان لانا ہیں۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مسلمان کی پوری زندگی قائم ہوتی ہے۔

قرآنِ کریم و حدیث کی روشنی میں مطالعہ عقائد کی اہمیت و ضرورت:

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ-اِنَّمَا یَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠(۹) ترجمہ کنزالایمان: تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں ۔ (سورۃالزمر آیت نمبر 9)

حضرت ابو امامہ باہلی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں دو آدمیوں کا ذکر کیا گیا، ان میں سے ایک عالِم تھا اور دوسرا عبادت گزار، تو حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’عالم کی فضیلت عبادت گزار پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنیٰ پر ہے، پھر سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے ،آسمانوں اور زمین کی مخلوق حتّٰی کہ چیونٹیاں اپنے سوراخوں میں اور مچھلیاں لوگوں کو (دین کا) علم سکھانے والے پر درود بھیجتے ہیں۔(ترمذی، کتاب العلم، باب ما جاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ، 4 / 313، الحدیث: 2694)

موجودہ دور میں مطالعہ عقائد کی ضرورت:پیارے اسلامی بھائیو! اگر آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ دیکھیں گے کہ آج سوشل میڈیا، یوٹیوب، اور مختلف پلیٹ فارمز(Platforms) پر ہر شخص دین کی بات کر رہا ہے، لیکن ہر بات درست نہیں ہوتی۔ کئی لوگ قرآن و حدیث کی غلط تشریحات پیش کر کے لوگوں کے عقائد خراب کر رہے ہیں۔

آج کے دور میں درج ذیل خطرات عام ہیں:

(1)الحاد بے دینی، دین بیزای۔(2)خرافات ، دین میں نئی نئی باتیں شامل کرنا۔(3)غلط نظریات کو پھیلانا وغیرہ۔

اگر آپ نے اپنے عقائد کا مطالعہ نہیں کیا ہوگا تو آپ آسانی سے ان فتنوں کا شکار ہو سکتے ہو۔

مطالعۂ عقائد کے فوائد

(1)ایمان کی مضبوطی:پیارے اسلامی بھائیو! جب آپ اپنے عقائد کو دلائل کے ساتھ سیکھیں گے تو آپ کا ایمان مضبوط ہوگا، کوئی بھی آپ کو بہکا نہیں سکے گا۔

(2)آخرت کی کامیابی:صحیح عقیدہ ہی نجات کا ذریعہ ہے۔ اگر عقیدہ درست نہ ہو تو عبادات بھی قبول نہیں ہوتیں۔

ہماری ذمہ داری کیا ہے؟پیارے اسلامی بھائیو! اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ:

(1)مستند علماء سے عقائد سیکھیں ارشاد باری تعالی ہے:

فَسْــٴَـلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ(۴۳)

ترجمہ کنزالایمان:تو اے لوگوں علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں علم نہیں۔ (سورۃنحل آیت 43)

(2)قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں۔(3)اہلِ سنت کے عقائد کو سمجھیں۔(4)ہر سنی سنائی بات پر یقین نہ کریں۔

یاد رکھیں! عقیدہ دین کی جڑ ہے، اور درخت کی جڑ مضبوط ہو تو ہی وہ سرسبز رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ دین سیکھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔ 


عقیدہ ہی وہ اصل بنیاد ہے جس پر تمام مذہبی اعمال اور روحانی احوال کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے اور جس عمارت کی اساس باطل ، فاسد اور کمزور ہو تو اس پر تعمیر ہونے والی عمارت کا کیا اعتبار ہوگا ۔ تمام مذہبی اعمال اور روحانی احوال کے لیے عقیدے کا درست ہونا نہایت ضروری ہے ۔ عقیدہ مذہب کے لیے بمزلہ روح اور جان کے ہے اور باقی تمام افعال و اعمال انسانی جسم او ر اعضاءکی مانند ہیں عقیدہ جڑ اور تنے کی مانند ہے اور اعمال و افعال شاخوں کی مانند تو جس درخت کی جڑ ہی خشک ہو اسی کی شاخیں کیسے سر سبز رہ سکتی ہیں ۔ اور اس پر پھل کیسے لگ سکتا ہے ۔ بظاہر انسان جتنا نمازی ، حاجی ، سخی یا پر بیزگار ہو جب تک اس کا عقیدہ درست نہ ہوگا مذکوره اعمال اس کو کوئی فائدہ نہ دیں گے کیونکہ جب جڑ خشک ہے تو شاخیں کیسے ہری بھری ہو سکتی ہیں ۔

عقیدہ کی تعریف: وہ قلبی تصدیق جو کسی تصور میں یقین کی کیفیت پیدا کردے۔عجیب دور ہے کہ نماز ، روزہ اور دیگر اعمال صالح کی تبلیغ تو بہت کی جاتی ہے لیکن عقیدے کی بات کرنے والے کو فرقہ پرست کہا جاتا ہے ۔ حالانکہ قرآن مجید میں 81 مرتبہ ۔ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ الخ (سورۃ مریم :96)فرما کر عقیدہ کو پہلے اعمال كو بعد میں ذکر کیا گیا ہے ۔ پنجگانہ نماز بمعہ تہجد ، اشراق ، چاشت اور اوابین پڑھیں اور سو سال تک پڑھتے رہیں ۔ لیکن اس وقت تک عذاب الہی سے بچ نہیں سکتے جب تک کہ ایمان و عقیده درست نہیں کرلیں گے ۔ کیا اس طرح کے اعمال منافقین کے پاس کم تھے ؟ مگر اس کے باوجود قرآن حکیم فرماتا ہے ۔ منافقین جہنم کی نچلی تہہ میں ہوں گے ۔ مکان اگر انتہائی خوبصورت سنگ مرمر اور دیگر لوازمات سے مزین ہو لیکن اس کی بنیاد بھی مضبوط نہ ہوتو کسی وقت بھی زمین پر آگرے گا ۔ بنیاد اگر چہ نظر نہیں آتی لیکن مکان کی مضبوطی کا مدار اس بنیاد پر ہوتا ہے ۔ اسی طرح اگرچہ عقیدہ نظر نہیں آتا مگر اعمال صالحہ کے محل کا انحصار عقیدے پر ہی ہے ۔

مندرجہ بالا بحث سے واضح ہوتا ہے کہ عقیدہ دینِ اسلام کی بنیادی اساس اور اصل روح ہے، جس کے بغیر تمام اعمالِ صالحہ بے معنی اور بے فائدہ ہو جاتے ہیں۔ جس طرح کسی عمارت کی مضبوطی اس کی بنیاد پر منحصر ہوتی ہے اور درخت کی سرسبزی اس کی جڑ پر، اسی طرح انسان کے اعمال کی قبولیت کا دارومدار درست عقیدہ پر ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ سب سے پہلے اپنے عقیدے کو درست اور مضبوط بنائے، کیونکہ صحیح عقیدہ ہی دنیا و آخرت میں کامیابی اور نجات کا ذریعہ ہے۔