انسان ایک ایسی دنیا میں رہتا ہے جس کے عجائبات انسانی عقل کو غور و خوض کرنے پر ابھارتے ہیں اور اس کی ذہنیت اور باطن پر ایک گہرا اثر ڈالتے ہیں یہاں تک کہ اگر کوئی شئی عجیب نہ بھی ہو مگر عام انسانی سوچ اس چیز سے فقط متاثر ہونے کی بنا پر اسے قبول کرلیتی ہے اور اس کے مطابق اپنا نظریہ بنا لیتی ہے اور اس کی بنیاد پر کاموں کو تدبیر دیتی ہے، اب چاہے وہ بنایا گیا نظریہ حقیقت میں درست ہو یا صرف سچ کے لبادہ میں پوشیدہ جھوٹ۔ اگر تحقیق کی جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ مسلمانوں کی اپنے مسلّم عقائد میں پختگی اور مضبوطی، دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی نسبت بہت زیادہ ہے کہ انکا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا لیکن آج کے اس پر فتن دور میں جہان مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل کرنے سے روکنے کی ناکام کوششیں کی جاتی ہیں، کہیں مسلمان مردوں کو باجماعت نماز پڑھنے سے روکا جاتا ہے، تو کہیں مسلمان خواتین کو شرعی پردہ کرنے پر سختی کی جاتی ہے، وہیں مسلمانوں کی جماعت کو توڑنے کیلئے ان کے بنیادی عقائد کو بھی ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے عقائد کی جو مضبوط دیوار ہے، اسے ڈھایا جا سکے۔

لہذا آج کے دور میں رہنے والے ہر ذی شعور مسلمان پر اپنے بنیادی عقائد کا علم حاصل کر انتہائی ضروری ہے۔ علم حاصل کرنے کے جہاں دیگر ذرائع ہیں، وہاں ایک اچھا اور مؤثر طریقہ 'الأخذ من الكتب' یعنی کتابوں سے علم حاصل کرنا بھی ہے۔ عقائد کے بارے میں مستند کتب کا مطالعہ کرنا لازمی ہے حتی کہ دین اسلام نے ضروری عقائد کے علم کو فرض قرار دیا ہے۔ مسلمانوں کے رہنما، امام اہلسنت حضرت علامہ مولانا مفتی الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ الله علیہ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ سب میں اوّلین و اہم ترین فرض یہ کہ بنیادی عقائد کا علم حاصل کرے جس سے آدمی صحیح العقیدہ سنّی بنتا ہے اور جن کے انکار و مخالف سے کافر یا گمراہ ہو جاتا ہے۔ (کتاب دس اسلامی عقیدے، مکتبۃ المدینۃ صفحہ 7)

عقیدہ عمل پر مقدّم ہے جب تک عقیدہ درست نہ ہو تو اعمال کچھ فائدہ نہ دیں گے ۔ قرآن شریف میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ(۹۰) اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱)

ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے پھر کفر میں اور بڑھ گئے تو ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔ وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی یار نہیں۔ ( سورۃآل عمران،90،91 )

اس کے علاوہ، عقائد کا جاننا اس لئے بھی ضروری ہے کہ کہیں کسی ضروری عقیدہ کا جہالت کی بنا پر انکار کرنے کے سبب کافر نہ ہو جائے مثلاً اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ جنات کا وجود ثابت ہے، اگر کوئی اس بات کا انکار کرے تو یہ کفر ہے۔جس طرح عقائد کا مطالعہ اور اس کا علم سیکھنا ضروری ہے اسی طرح یہ بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا کہ کس سے عقائد کے علم کا حصول کیا جا رہا ہے، ایسا نہ ہو کہ علمِ عقائد کسی ایسے سے حاصل کیا جس کے عقائد میں خود فساد ہو۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ مولانا امام احمد رضا خان رحمۃ الله علیہ کی تحقیقات اور آپ سے محبت رکھنے والوں کی تقاریر و تحریرات سے استفادہ کیا جائے کیونکہ آپ اپنے دور کے بہت بڑے عالم اور دینی اعتبار سے مستند شخصیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ عقائد کا علم سیکھنا اور مستند ذرائع سے حاصل کرنا بہت ضروری و اہم ہے ورنہ صراط مستقیم سے ہٹ کر گمراہی کی راہ پر قدم پڑ سکتا ہے ۔


انسان خواہ تقویٰ و پرہیزگاری کی اعلیٰ ترین منازل پر فائز ہو اور اس کی پیشانی ہمہ وقت سجدہ ریز رہے، لیکن اگر اس کے عقائد کی دیوار میں معمولی سی دراڑ بھی پیدا ہو جائے تو اس کے اعمال خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے عقائدِ اسلامیہ کا درست علم اور ان کا باقاعدہ مطالعہ نہایت ضروری ہے، کیونکہ عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر دین کی پوری عمارت قائم ہے، اور بنیاد میں کمزوری پوری عمارت کو غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔

بدقسمتی سے ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں لوگ دنیا کی عارضی مشکلات اور وقتی نقصان سے بچنے کی فکر میں تو سرگرداں ہیں، لیکن یومِ جزا کی ابدی جواب دہی سے اکثر غافل دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ جلّ شانہ نے اپنی لاریب کتاب میں ایمان کو مضبوط کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کا حکم دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُؕ ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے نازل کی (ان سب پرہمیشہ)ایمان رکھو ۔(سورۃ النساء: 136)

مفسرینِ کرام نے اس آیت سے ایمان کی تجدید، اس کی مضبوطی اور اس پر استقامت مراد لی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیر دمشقی لکھتے ہیں کہ "آمِنُوا" سے مراد ایمان کو کامل کرنا، اسے مزید مضبوط بنانا اور اس پر مسلسل قائم رہنا ہے۔(تفسیر ابن کثیر، ج 2، ص 361 )

اسی طرح امام عبد اللہ النسفی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "آمِنُوا" سے مراد ایمان پر ثابت قدمی اور اس پر دوام اختیار کرنا ہے۔(مدارک التنزیل و حقائق التأویل، ج 1، ص 398 )

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بندۂ مؤمن اس پُرفتن اور پُرآشوب دور میں ایمان پر ثابت قدم کیسے رہ سکتا ہے؟ تو میرے معزز قارئین کرام اس کا ایک بنیادی اور مؤثر ذریعہ عقائدِ اسلامیہ کا بنظرِ عمیق مطالعہ ہے، تاکہ انسان اپنے ایمان کی حقیقت کو سمجھ کر اس پر مضبوطی سے قائم رہ سکے۔

مطالعۂ عقائد کیوں ضروری ہے؟موجودہ دور میں ہر طرف سے فکری یلغار، بدعقیدگی اور نظریاتی انتشار عام ہے۔ عوام تو ایک طرف، خواص کے لیے بھی ایمان کی حفاظت کرنا اتنا مشکل ہوگیا ہے جیسے مٹھی میں انگارا پکڑنا۔ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ایسے ہی دور کی خبر دیتے ہوئے فرمایا:يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِترجمہ: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا ایسے ہوگا جیسے ہاتھ میں انگارا پکڑنے والا۔(جامع ترمذی، حدیث 2260)

لہٰذا ایسے دور میں ایمان کی حفاظت کے لیے عقائدِ دینیہ کا مطالعہ ہر مومن کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ بغیر صحیح علم کے انسان کے لیے راہِ حق پر ثابت قدم رہنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔

عمل کی درستگی اصلاحِ عقیدہ پر موقوف ہےنماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر اعمالِ صالحہ اسی وقت قابلِ قبول اور مفید ہوتے ہیں جب عقیدہ درست ہو۔ اگر بنیاد ہی کمزور ہو تو اس پر اعمال کی عمارت قائم کرنا غیر دانش مندانہ عمل ہے، کیونکہ ایسی عمارت دیرپا نہیں رہ سکتی۔اسی لیے علماء نے فرمایا ہے کہ اصلاحِ عقیدہ، اصلاحِ عمل پر مقدم ہے۔ عقیدہ درست ہوگا تو عمل بھی درست سمت اختیار کرے گا۔

مطالعۂ عقائد کے لیے اہم ماخذ:عقائد کے استحکام کے لیے متعدد معتبر کتب تصنیف کی گئی ہیں جن میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی "الفقہ الاکبر"بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ مختصر ہونے کے باوجود عقائد کے دقیق مباحث پر مشتمل ہے۔اسی طرح امام نسفی رحمہ اللہ کی "عقائد النسفیہ"اور اس کی مشہور شرح علامہ تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ کی "شرح العقائد"اہم کتب میں شمار ہوتی ہیں۔ یہ کتب طالبِ علم کے لیے ایمان و عقیدہ کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں نہایت مفید ہیں۔

مطالعۂ عقائد مسلمان کی فکری بلندی، قلبی اطمینان اور مضبوط ایمان کے لیے ایک لازمی تقاضا ہے۔ عقائد کی درستگی کے بغیر نہ عمل محفوظ رہتا ہے اور نہ ایمان کی حفاظت ممکن ہے۔ لہٰذا ہر طالبِ حق کے لیے ضروری ہے کہ وہ عقائدِ اسلامیہ کا باقاعدہ مطالعہ کرے تاکہ اسے دین پر ثابت قدمی نصیب ہو۔اللہ جلّ شانہ ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔


عقائد "عقیدہ" کی جمع ہے، جس کے معنیٰ "پختہ یقین" کے ہیں۔ اسلامی زندگی میں عقائد کی حیثیت وہی ہے جو ایک عمارت میں بنیاد کی ہوتی ہے۔ اگر بنیاد درست اور مضبوط نہ ہو تو اس پر کھڑی ہونے والے اعمال کی عمارت کبھی پائیدار نہیں ہو سکتی۔مطالعہ عقائد کی ضرورت و اہمیت کو درج ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے:

(1)اعمال کی قبولیت کی بنیاد:اسلام میں کسی بھی عمل (نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ) کی قبولیت کے لیے درست عقیدہ پہلی شرط ہے۔ اگر انسان کا عقیدہ توحید یا رسالت درست نہ ہو تو اس کے نیک اعمال اللہ کے ہاں وزن نہیں رکھتے۔

(2) انسانی ذہن کا اطمینان اور سکون:انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی تخلیق، کائنات کی حقیقت اور موت کے بعد کے حالات کے بارے میں سوالات کرتا ہے۔ مطالعہ عقائد ان بنیادی سوالات کے تسلی بخش جوابات فراہم کرتا ہے:ہمیں کس نے پیدا کیا؟ (توحید)ہمیں زندگی گزارنے کا طریقہ کس نے سکھایا؟ (رسالت) مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ (آخرت)ان حقائق کو جان لینے سے انسان کو ذہنی اور قلبی سکون میسر آتا ہے۔

(3) فتنوں اور گمراہی سے تحفظ:موجودہ دور میں مختلف قسم کے نظریاتی فتنے، اور شکوک و شبہات عام ہیں۔ عقائد کا گہرا مطالعہ انسان کو ان باطل نظریات کے سامنے ڈھال فراہم کرتا ہے۔ جب ایک مسلمان کو اپنے عقائد کی عقلی اور نقلی دلیلیں معلوم ہوں گی، تو کوئی اسے گمراہ نہیں کر سکے گا۔

(4) اخلاق و کردار کی تعمیرات :عقائد براہِ راست انسان کے کردار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

خوفِ خدا: جب انسان کا عقیدہ ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور اسے ایک دن جوابدہی کرنی ہے، تو وہ برائیوں سے دور رہتا ہے۔

صبر و شکر: تقدیر پر ایمان رکھنے والا شخص مشکل میں ہمت نہیں ہارتا اور نعمت ملنے پر غرور نہیں کرتا۔

(5) زندگی کا مقصد متعین کرنا:مطالعہ عقائد انسان کو بتاتا ہے کہ وہ اس دنیا میں محض اتفاقاً یا کھیل کود کے لیے نہیں آیا، بلکہ اس کی زندگی کا ایک عظیم مقصد ہے۔ یہ علم انسان کو خود غرضی سے نکال کر رضائے الٰہی کے حصول کی طرف مائل کرتا ہے۔

مطالعہ عقائد ایک روحانی ضرورت ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو زندگی کے اندھیروں میں صحیح راستے کی نشاندہی کرتی ہے اور انسان کے ظاہر و باطن کی اصلاح کرتی ہے۔ بغیر عقیدے کے عمل ایسا ہے جیسے بغیر روح کے جسم۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


دینِ اسلام میں عقائد کی مثال ایک ایسی جڑ کی ہے جس پر پورے ایمان کا درخت کھڑا ہوتا ہے۔ اگر جڑ کمزور

ہو تو تھوڑی سی آندھی بھی درخت کو گرا دیتی ہے، بالکل اسی طرح اگر عقیدہ پختہ نہ ہو تو انسان فتنوں اور گمراہیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ مطالعہ عقائد کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کو پہچاننا ہے تاکہ ہماری بندگی میں خلوص پیدا ہو۔ یہ علم ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات کا نظام خود بخود نہیں چل رہا، بلکہ اس کے پیچھے ایک قادرِ مطلق ہستی موجود ہے۔ جب ایک انسان اپنے بنیادی نظریات کو سمجھ لیتا ہے، تو اسے زندگی گزارنے کا ایک واضح راستہ مل جاتا ہے۔ آج کے دور میں جہاں قدم قدم پر نئے نظریات ذہنوں کو الجھاتے ہیں، وہاں عقائد کا علم ہمیں سیدھی راہ پر ثابت قدم رکھتا ہے۔ لہٰذاہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان کو محض سنی سنائی باتوں تک محدود نہ رکھے بلکہ اسے علم اور سمجھ بوجھ کے نور سے روشن کرے۔

(1) اللہ سے سچی پہچان اور تعلق:عقائد کو پڑھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے پیدا کرنے والے کی پہچان حاصل ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ ایک ہے، وہی سب کا حاجت روا ہے اور وہی پالنے والا ہے۔ جب یہ بات ذہن میں بیٹھ جاتی ہے، تو انسان در در پر جھکنے کے بجائے صرف ایک اللہ کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ علم ہمیں شرک جیسی گندگی سے بچاتا ہے اور دل میں اللہ کی سچی محبت پیدا کرتا ہے۔

(2) زندگی کا مقصد سمجھنا:اکثر لوگ زندگی کو صرف کھانے پینے اور دنیا کمانے کا نام سمجھتے ہیں، لیکن عقائد کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم یہاں ایک خاص مقصد کے تحت بھیجے گئے ہیں۔ یہ علم ہمیں سمجھاتا ہے کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور اصل زندگی موت کے بعد شروع ہوگی۔ جب مقصد سامنے ہو، تو انسان اپنی صلاحیتیں فضول کاموں میں ضائع نہیں کرتا۔

(3) غلط باتوں اور افواہوں سے بچاؤ:آج کل سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے بہت سی ایسی باتیں پھیلائی جاتی ہیں جو اسلام کی اصل روح کے خلاف ہوتی ہیں۔ جس شخص نے عقائد کا مطالعہ کیا ہو، وہ کسی کی باتوں میں آکر اپنے ایمان کا سودا نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ کون سی بات دین کا حصہ ہے اور کون سی بات محض وہم یا من گھڑت کہانی ہے۔

(4) دل کا سکون اور اطمینان:دنیا کے دکھ سکھ اور پریشانیاں انسان کو توڑ دیتی ہیں، لیکن جس کا عقیدہ "تقدیر" پر پختہ ہو، وہ کبھی ہمت نہیں ہارتا۔ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ کی حکمت سے ہو رہا ہے۔ یہ یقین اسے ذہنی تناؤ اور بے چینی سے بچاتا ہے اور اسے ہر حال میں صبر اور شکر کی توفیق دیتا ہے۔

(5) اچھے اخلاق کی بنیاد:جس کا عقیدہ درست ہو، اس کا عمل بھی درست ہوتا ہے۔ جب کسی کو یہ یقین ہو کہ اللہ ہر وقت اسے دیکھ رہا ہے اور قیامت کے دن اسے اپنے ایک ایک عمل کا جواب دینا ہے، تو وہ جھوٹ، دھوکہ دہی، ظلم اور چوری سے دور رہتا ہے۔ گویا عقائد کا مطالعہ ایک انسان کو بہترین اخلاق والا شہری بناتا ہے۔

(6) مرنے کے بعد کی کامیابی:ہم سب جانتے ہیں کہ ایک دن ہمیں یہ دنیا چھوڑ کر جانا ہے۔ عقائد کا علم ہمیں بتاتا ہے کہ قبر میں کیا سوال ہوں گے اور حشر کے میدان میں کامیابی کیسے ملے گی۔ یہ مطالعہ ہمیں توبہ کی ترغیب دیتا ہے اور آخرت کی دائمی زندگی کے لیے تیاری کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

(7) عبادتوں میں لذت کا حصول:جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم جس کی نماز پڑھ رہے ہیں یا جس کے لیے روزہ رکھ رہے ہیں، وہ کتنا رحیم اور کریم ہے، تو عبادت بوجھ نہیں لگتی۔ عقائد کا فہم ہماری نمازوں میں توجہ اور خشوع پیدا کرتا ہے اور ہم اللہ کے سامنے ایک نئی تڑپ کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں۔

عقائد کا مطالعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ دل کے اس پختہ یقین کا نام ہے جو انسان کے عمل سے ظاہر ہو۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی اصلاح کی بنیاد ہمیشہ صحیح علم پر رکھنی چاہیے تاکہ ہم دنیا کے فتنوں سے محفوظ رہ سکیں۔ یہ علم ہمیں خود اعتمادی بخشتا ہے اور ہمیں ایک با مقصد اور باوقار زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ آخر کار، یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اپنے رب کی خوشنودی اور جنت کے حصول تک پہنچاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں کم از کم اتنا وقت ضرور نکالیں جس میں ہم اپنے بنیادی اسلامی نظریات کو سیکھ اور سمجھ سکیں۔


عقائد (ایمانیات) دینِ اسلام کی بنیاد اور اساس ہیں۔ جس طرح ایک عمارت مضبوط بنیادوں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی، اسی طرح ایک مسلمان کا دین بھی درست اور مضبوط عقائد کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ عقائد سے مراد وہ بنیادی ایمانی تصورات ہیں جن پر ایمان قائم ہوتا ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، فرشتوں، کتابوں ، رسولوں ،یومِ آخرت اور تقدیر پر ایمان لانا۔ عقائد کی ضرورت اس لیے ہے کہ انسان فطری طور پر کسی نہ کسی نظریے اور یقین کا محتاج ہوتا ہے اگر اسے صحیح عقیدہ نہ ملے تو وہ گمراہی اور باطل نظریات کا شکار ہو جاتا ہے اسلام انسان کو خالص اور سچا عقیدہ دے کر اس کی فکری اور روحانی رہنمائی کرتا ہے قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے۔ ترجمہ کنزالایمان:رسول ایمان لایا اس پر جو اس کے رب کے پاس سے اس پر اُترا اور ایمان والے سب نے مانا اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں ۔(سورۃ البقرۃ: 285)

عقائد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ تمام انبیاء کرام نے اپنی دعوت کا آغاز عقیدۂ توحید سے کیا۔ قرآنِ مجید میں ہے ترجمہ کنزالایمان: ا اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ (سورۃ الاعراف: 59)

درست عقائد انسان کے اعمال کو بھی درست بناتے ہیں۔ جب انسان کا ایمان مضبوط ہو تو وہ ہر عمل اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہے۔ اگر عقیدہ درست نہ ہو تو نیک اعمال بھی ضائع ہو سکتے ہیں قرآنِ مجید میں ارشاد ہے ترجمہ کنزالایمان:اور جو مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت(ضائع) گیا ۔(سورۃ المائدۃ: 5)

عقائد انسان کو قلبی سکون اور اطمینان بھی عطا کرتے ہیں جب بندہ اپنے رب پر کامل یقین رکھتا ہے تو وہ ہر حال میں مطمئن رہتا ہے قرآن میں ہے ترجمہ کنزالایمان:سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے ۔(سورۃ الرعد 28)

خلاصہ یہ ہے کہ عقائد دینِ اسلام کا بنیادی ستون ہیں یہ انسان کے ایمان اعمال اخلاق اور مکمل زندگی کی اصلاح کرتے ہیں درست عقائد کے بغیر نہ عبادات کی حقیقت باقی رہتی ہے اور نہ ہی انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے عقائد کو قرآن و سنت خصوصاً کنزالایمان کی روشنی میں سیکھے سمجھے اور ان پر مضبوطی سے قائم رہے۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جس کی بنیاد صحیح عقائد پر قائم ہے عقیدہ انسان کے ایمان کی جڑ اور اس کی عملی زندگی کی بنیاد ہوتا ہے اگر عقائد درست ہوں تو اعمال بھی درست ہوتے ہیں اور اگر عقائد میں خرابی آ جائے تو انسان کی پوری زندگی متاثر ہو جاتی ہے اسی لیے مطالعۂ عقائد نہایت ضروری اور اہم ہے۔

سب سے پہلے مطالعۂ عقائد انسان کو اپنے دین کی صحیح پہچان عطا کرتا ہے ایک مسلمان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کیا ہیں رسالت کا مفہوم کیا ہے اور آخرت پر ایمان کیوں لازم ہے جب انسان ان بنیادی عقائد کو سمجھتا ہے تو اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے اور وہ دین پر زیادہ پختگی کے ساتھ قائم رہتا ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ موجودہ دور میں مختلف گمراہ کن نظریات اور فتنوں نے جنم لے لیا ہے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے غلط عقائد پھیلائے جا رہے ہیں ایسے ماحول میں اگر انسان کے پاس صحیح علم نہ ہو تو وہ آسانی سے گمراہی کا شکار ہو سکتا ہےمطالعۂ عقائد انسان کو حق اور باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت دیتا ہے اور اسے فکری انتشار سے بچاتا ہے۔

قرآن بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے اس طرف :فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ

ترجمۂ کنز العرفان:تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔(سورۃ محمد آیت نمبر 19)

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ: تو جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ یعنی جب آپ نے جان لیا کہ قیامت قائم ہوتے وقت نصیحت حاصل کرنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا تو آپ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں جو علم اور یقین رکھتے ہیں اس پر قائم رہیں کیونکہ یہ قیامت کے دن ضرور نفع دے گا۔(صاوی، محمد، تحت الآیۃ: ۱۹، ۵ / ۱۹۵۷)

اس آیت میں میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں مسلمان کے لئے لازمی و ضروری ہےحدیث پاک بھی ہماری اس طرف رہنمائی کرتی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّتِیترجمہ میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے ہرگز گمراہ نہیں ہوگے اللہ کی کتاب اور میری سنت

(موطا امام مالک: 1594)

یہ حدیث پاک بھی اس بات پر دلیل ہے قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح عقائد کو اپنانا ہی ہدایت کا راستہ ہےاللہ پاک ہمیں درست عقائد رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


عقیدہ کے لغوی معنی گرہ لگانے کے ہیں اور اصطلاح میں عقیدہ اس نظریہ کو کہتے ہیں جس پر انسان بلا شک و شبہ یقین رکھے ۔ اسلام میں عقائد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، کیونکہ یہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان کے تمام اعمال کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ اگر بنیاد مضبوط ہو تو عمارت قائم رہتی ہے ، اور اگر بنیاد کھوکلی ہو تو بڑے سے بڑا عمل بھی بے فائدہ ہو جاتا ہے۔قرآنِ مجید میں بھی نیک اعمال کی قبولیت سے پہلے اچھے عقیدے کی شرط لگائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ: وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ الْحُسْنٰىۚ

ترجمہ کنز الایمان : اور جو ایمان لایا اور نیک کام کیا تو اُس کا بدلہ بھلائی ہے۔(سورۃ الکہف:88)

اس آیت میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عمل سے پہلے ایمان کا ذکر کیا گیا، جو اس بات کی دلیل ہے کہ درست عقیدہ ہر عمل کی قبولیت کے لیے شرط ہے۔

اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا(۴۸) ترجمہ کنز الایمان: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے اور جس نے خدا کا شریک ٹھہرایا اس نے بڑے گناہ کا طوفان باندھا۔(سورۃالنساء:48)

اس آیت سے عقیدۂ توحید کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ اگر اس میں خرابی آ جائے تو انسان کے تمام اعمال ضائع ہو سکتے ہیں۔احادیثِ مبارکہ میں بھی عقائد کی اصلاح پر بہت زور دیا گیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ "جس کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا"۔ (سنن ابو داؤد، 3116 )

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحیح عقیدہ ہی انسان کی نجات کا ذریعہ ہے۔ہر مسلمان کو چاہیئے کہ وہ درست عقائد پر آگاہی حاصل کرے اور دین اور درست عقائد کی معلومات انہی سے حاصل کرے جو علم میں راسخ ہوں یعنی علماء کرام سے۔نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عقائد کی حفاظت نہایت ضروری ہے، ورنہ انسان گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔آج کے دور میں عقائد کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے،کیونکہ مختلف نظریات، فتنوں اور گمراہ کن خیالات نے لوگوں کے ایمان کو کمزور کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کے ذریعے غلط عقائد عام ہو رہے ہیں، جن سے بچنے کے لیے صحیح علمِ عقیدہ اور اسکا مطالعہ کرنا بے حد ضروری ہے۔اور ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنے عقائد کی اصلاح کریں، ان کے متعلق علم حاصل کریں، مستند علماء سے رہنمائی حاصل کریں، اور اپنے ایمان کو مضبوط بنائیں۔ صرف ظاہری اعمال پر اکتفا کرنا کافی نہیں، بلکہ ان اعمال کی بنیاد یعنی عقیدہ کا درست ہونا لازمی ہے۔

آخر میں اگر یوں کہا جائے کہ عقیدہ روح کی مانند ہے اور عمل جسم کی طرح۔ اگر روح نہ ہو تو جسم بے جان ہے، اسی طرح صحیح عقیدہ کے بغیر اعمال کی کوئی حیثیت نہیں تو غلط نہ ہو گا۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے عقائد کی حفاظت کریں اور انہیں مضبوط بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اور علماء کرام کی صحبت وقتا فوقتاً اختیار کرتے رہیں۔


اسلام میں عقیدہ بنیادی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ انسان کے تمام اعمال کا دار و مدار اس کے عقیدے پر ہوتا ہے۔ اگر عقیدہ درست ہو تو اعمال بھی صحیح سمت میں ہوتے ہیں، اور اگر عقیدہ خراب ہو جائے تو نیک اعمال بھی بے اثر ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اسلام میں علمِ عقائد سیکھنا نہایت ضروری قرار دیا گیا ہے۔مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہر فرد پر لازم ہے کہ وہ اپنے دین کے بنیادی عقائد کو صحیح طور پر سمجھے اور ان پر ایمان رکھے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات، انبیائے کرام علیہم السلام، فرشتوں، آسمانی کتابوں، قیامت، جنت و دوزخ اور تقدیر جیسے عقائد کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ ان عقائد سے ناواقفیت انسان کو گمراہی کی طرف لے جا سکتی ہے، اور بعض اوقات یہ لاعلمی انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے۔

درست عقیدہ انسان کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ نیک اعمال اسی وقت بارگاہِ الٰہی میں قبول ہوتے ہیں جب ان کے ساتھ صحیح عقیدہ موجود ہو۔ اگر کسی کا عقیدہ خراب ہو تو اس کے بڑے سے بڑے اعمال بھی ضائع ہو سکتے ہیں، جیسا کہ قرآنِ کریم میں بیان ہوا ہے کہ: اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ(۹۰)

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے پھر کفر میں اور بڑھ گئے تو ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور یہی لوگ گمراہ ہیں۔ (پارہ 3 سورة آل عمران آیت نمبر 90)

مزید فرمایا: اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرگئے ان میں سے کوئی اگرچہ اپنی جان چھڑانے کے بدلے میں پوری زمین کے برابرسونا بھی دے تو ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا ۔ ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور ان کا کوئی مدد گار نہیں ہوگا۔ (پارہ 3 سورة آل عمران آیت نمبر 91)

اسی طرح ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عقیدہ صرف علم تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق انسان کے عمل سے بھی ہے۔ جب انسان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے تو وہ برے کاموں سے بچتا ہے، اللہ سے ڈرتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، غلط عقیدہ انسان کو گمراہی، بدعملی اور بے راہ روی کی طرف لے جاتا ہے۔اہلِ سنت و جماعت کے علماء کرام نے ہمیشہ علمِ عقائد کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

اسی طرح دیگر علماء نے بھی اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ علمِ عقائد کے بغیر دین کی صحیح سمجھ ممکن نہیں۔مزید یہ کہ آج کے دور میں مختلف گمراہ کن نظریات اور فتنوں کی وجہ سے عقائد کی حفاظت پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ مستند علماء سے اپنے عقائد کی درست تعلیم حاصل کریں تاکہ وہ ہر قسم کی گمراہی سے محفوظ رہ سکیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطالعۂ عقائد نہ صرف ایمان کی مضبوطی کا ذریعہ ہے بلکہ دنیا و آخرت کی کامیابی کی کنجی بھی ہے۔ ایک مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے عقائد کو درست کرے، انہیں سیکھے اور اپنی زندگی میں ان پر عمل کرے، کیونکہ یہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔



ہر مسلمان کو اپنے عقائد سے آشنا ہونا ضروری ہے اسے معلوم ہو کہ کونسے عقائد اختیار کرنے سے دائمی عذاب سے نجات ملے گی اور وہ کون سے عقائد ہیں جن کو اگر اختیار کیا جائے تو اللہ تعالی اپنے فضل سے جنت نصیب کرے گا۔علم الکلام ایسا علم ہے جس کا مقصد اسلامی عقائد و نظریات کی حقانیت کو از روئے عقل محکم و مضبوط دلائل سے ثابت کرنا اور ان میں پیش آنے والی خرابیوں اور توہمات کو دور کرنا ہے تاکہ اسلامی عقائد کی اصل شکل برقرار رہے جو حضور نبی کریم (ﷺ) اور صحابہ کرام و تابعین کے دور میں تھی ۔اپنے عقائد کا صحیح علم سیکھنا کہ برے عقائد سے بچ سکے ہر مسلمان پر لازم ہے۔

اولاً یہ بات جاننا لازم ہے عقیدہ کہتے کسے ہیں؟

هُوَ عِلْمٌ يَتَضَمَّنُ الحِجَجَ عَنِ الْعَقَائِدِ الْإِيْمَانِيَّةِ بِالْأَدِلَّةِ الْعَقلِيَّةِ وَالرَدُّ عَلى الْمُبْتَدِعَةِ الْمُنْحَرِفيْن فِيْ الْاِعْتِقَادَاتِ عَن مَذَاهِبِ السَّلَفِ وَ أَهْلِ السنَةِ’’وہ علم جس میں عقائد ایمانیہ کا دلائل عقلیہ کے ذریعے دفاع کیا جاتا ہے نیز بدعتیوں اور اہل سنت و سلف کے عقیدہ سے انحراف کرنے والوں کا رد کیا جاتا ہے‘‘۔( تاریخ ابن خلدون ، ج:1، ص:485 )

ھُوَ عِلْمٌ التَّوْحِيْدِ وَالصَّفَاتِ الْمَوْسُوْمُ بِالْكَلَامِ الْمُنْجِىْ عَنْ غَياهبِ الشُّكُوْكِ وَ ظُلُمَاتِ الْاَوْهَامِ

’’وہ علم توحید والصفات جس کا نام کلام رکھا گیا ہے (وہ علم الکلام) جو شکوک کے اندھیروں اور وہموں کی تاریکیوں سے نجات دلانے والا ہے‘‘۔(غراض شرح عقائد مفتی محمد یوسف القادری، شبیر برادرز ،ص:33 )

اسلام کے اولین دور میں اہلِ حق کو علم الکلام کی ضرورت نہ ہوئی کیونکہ ابتدائی وقتوں میں رسولِ کریم (ﷺ) کی صحبت اور تربیت کے سبب صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم)اور بعد ازیں صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم)کی تربیت کی بدولت تابعین(رضی اللہ عنھم) کو اس علم کی حاجت نہ تھی ۔

جس کی بنیادی وجہ صحابہ کرام(رضی اللہ عنہم) کے عقائد و نظریات کی پختگی کا ہونا اور رسولِ کریم (ﷺ)کے اسوۂ کا عملی مشاہدہ تھااسلام کے اس ابتدائی زمانے میں علم الکلام کی ضرورت کے متعلق امام سعد الدین تقازانی لکھتے ہیں:’’متقدمین یعنی صحابہ کرام اور تابعین عظام (رضی اللہ عنھم) آقائے دو جہاں (ﷺ) کی صحبت کی برکت اور آپ (ﷺ) (کی ظاہری حیات )کے زمانے کے قریب ہونے کی وجہ سے اور نئے مسائل اور اختلافات کم و بیش آنے کی وجہ سے اور قابل اعتماد شخصیات سے رجوع اور ان سے دریافت کرنے پر قادر ہونے کی وجہ سے ان دونوں علموں ’’علم الشرائع والاحکام‘‘ اور ’’علم التوحید والصفات‘‘ کو مدون کرنے اور باب وار، فعل وار مرتب کرنے اور ان کے مسائل کو جزئیات اور کلیات کی شکل میں بیان کرنے سے مستغنی اور بے نیاز تھے‘‘۔(اغراض شرح عقائد علامہ مفتی یوسف القادری شبیر برادرز لاہور، ص: 4243)

اسلام کے ابتدائی زمانہ میں علم الکلام کی حاجت نہ ہونے کے درج ذیل اسباب تھے:رسولِ کریم (ﷺ)کی صحبت کی برکت،صحابہ کرام اور تابعین کے عقائد کا پختہ ہونا،رسولِ کریم (ﷺ)کے زمانے سے قریب ہونا

، اختلافات کا کم ہونا۔کیونکہ صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کے قریب عقیدہ صرف اسی بات کا نام تھا کہ قرآنِ کریم نے ایک بات کہہ دی ہے یا حضور نبی کریم (ﷺ)نے ایک بات ارشاد فرما دی ہے ان کو اس بات سے کوئی غرض نہ ہوتی تھی کہ وہ بات ہماری عقل و فہم کے دائرے میں آتی ہے یا نہیں یا ہمارے محسوسات و مشاہدات اس کو قبول کرتے ہیں یا نہیں لیکن جیسے جیسے وقت عہدِ رسالت (ﷺ) سے دور جاتا گیا اور مختلف گمراہ فرقے اور ان کی گمراہ کن تاویلات زور پکڑنے لگیں تو علمائے حق نے ان کی بیخ کنی منطق و استدلالِ عقلیّہ سے کی جس سے علم الکلام تشکیل پاتا گیا۔


عقیدہ دراصل دینِ اسلام میں جڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی مثال اس درخت کی سی ہے جو اگر اپنی جڑوں سے مضبوطی سے نہ جڑا ہو تو اس کا وجود بے معنی ہے۔ عقیدہ وہ بنیاد ہے جس کی وجہ سے اعمال قبولِ بارگاہ ہوں گے۔ اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا:

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ(۱۰۷) خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا(۱۰۸) ترجمۂ کنز العرفان:بیشک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے ان کی مہمانی کیلئے فردوس کے باغات ہیں۔ وہ ہمیشہ ان میں رہیں گے، ان سے کوئی دوسری جگہ بدلنا نہ چاہیں گے"۔ (کہف: 107)

اللہ پاک نے نیک اعمال سے پہلے ایمان لانے کی شرط رکھی ہے یعنی عقیدہ ہی ہے گویا تمام خوشخبریاں تمام جزائیں ان کے لیے ہیں جو believe رکھتے ہوں تمام چیزوں پر۔

تو پتا یہ چلا کہ اصل ایمان عقائد کا نام ہے، ماننے کا نام ہے۔ اور اسی طرح عقائدِ اہل سنت کو جان کر ان پر یقینِ کامل کے ساتھ بندگی کی جائے تو ہی کامل بندگی ہے۔ اعلیٰ حضرت امامِ اہل سنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

انہیں جانا، انہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام للہ الحمد میں دنیا سے مسلمان گیا

یعنی اصل موضوع یہ ہے کہ اگر عقیدہ نہ ہو تو اعمال جیسے بھی ہوں دھول کی طرح کر دیے جائیں گے، ان کا میزان میں کوئی وزن ہی نہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ کو بشر ماننے والوں کے اعمال بیکار ہیں، رائیگاں ہیں۔ اولیاء اللہ پر انگلیاں اٹھانے والوں کے اعمال بیکار ہیں۔ گویا ہر وہ صاحبِ فہم و ذکا، ہر وہ عابد و سالک، ہر وہ خطیب و امام، ہر وہ حاجی و ذاکر جس کا دل محبتِ رسول ﷺ سے خالی ہے، اس کے نیک اعمال کا کوئی فائدہ نہیں۔

امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

آج لے ان کی پناہ، آج مدد مانگ ان سے پھر نہ مانیں گے قیامت میں اگر مان گیا


عقیدہ العقد سے ماخوذ ہے جس کا لغوی معنى ہے ،گرہ لگانا،مضبوط،یقین اور ماعقد عليه القلب جس پر دل پختہ ہو۔ اصطلاحاً:ایسا فیصلہ یا نظریہ جس کے ماننے والوں میں شک کی گنجائش نہ ہو ۔

عقیدے کی اہمیت انسانی زندگی میں ایسی ہے جیسے جسم کے بغیرروح ،درخت بغیر پھل کے،خوبصورت عمارت کمزور بنیادکے،کیونکہ درست عقیدے کے بغیر انسان انسانیت کے درجے سے گر کر حیوان بن جاتا ہے۔

عقیدے کے ارکان میں اللہ پرایمان،اسکےرسولوں پر، فرشتوں پر،کتابوں پر ،آخرت کے دن پر،تقدیر پر،بعثت پر، ان میں سے کسی بھی شے میں ادنی سا شک یا توقف بھی انسان کو کفر وارتداد کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے اوردرست عقیدے کےبغیر عنداللہ کوئی بھی عمل مقبول نہیں۔

فرمان باری تعالیٰ ہے: وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠(۱۸)

ترجمہ کنزالعرفان:جنہوں نے اس کا حکم نہ مانا (ان کا حال یہ ہوگا کہ) اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس جیسا اور اِس کے ساتھ ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے۔ ان کے لئے برا حساب ہوگا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔(سورۃ الرعد:18)

ان آیات سے ثابت ہواکہ اگر وہ تمام جو زمین میں ہے اور اس کی مثل خرچ کریں تب بھی عنداللہ مقبول نہیں کیوں؟کیونکہ انہوں نے اللہ کو نہیں مانا۔

اسی طرح حدیث پاک میں ہے: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ! زمانۂ جاہلیت میں ابنِ جُدعان (بنو تَمیم کا مشہور سخی) رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کیا کرتا تھا، مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ اعمال اسے (آخرت میں) نفع دیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اعمال اس کے کام نہیں آئیں گے، کیونکہ اس نے (اللہ پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے) ایک دن بھی یہ نہیں کہا کہ اے اللہ! آخرت میں میری خطاؤں کو بخش دینا۔ (مسلم، ص111، حدیث: 518)

اتنےکثرت سے اعمال ہونے کے باوجود انکی مغفرت نہیں ہوگی، کیوں؟اللہ پر ایمان نہیں تھا۔

اصول فطرت بھی یہی کہتاہے کہ جس خالق نے اپنی تخلیق میں سے اک خلقت کو اتنی ساری نعمتیں دی ہیں اس پر شکر کیا جائے یہ انسان شکر تو بجا اس پر ایمان ہی نہ لائےتو پھر کیونکر اسکی بخشش ہو، اللہ کریم ہمیں عقائد کی اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور عقائد کی خرابی سے محفوظ فرمائے۔


عقیدہ انسانی زندگی کی اس بنیاد کی مانند ہے جس پر عمل کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر بنیاد میں کجی ہو تو پوری عمارت ٹیڑھی ہو جاتی ہے، اسی لیے ایمان کی پختگی کے بغیر کوئی بھی نیک عمل اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا۔ دورِ حاضر میں عقائد کا مطالعہ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ باطل نظریات اور فتنوں کے سیلاب میں اپنے ایمان کی حفاظت کی جا سکے اور اللہ و رسول ﷺ کی سچی محبت دل میں بسائی جا سکے۔ اسلامی زندگی کا آغاز ہی "لا الٰہ الا اللہ" سے ہوتا ہے جو کہ سب سے پہلا عقیدہ ہے۔

(1) عقیدہ تمام اعمال کی اصل ہے:انسان کے تمام بدنی اعمال (نماز، روزہ، حج) اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب عقیدہ درست ہو۔ امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: اعمال کی قبولیت کی پہلی شرط ایمانِ صحیح ہے، جس کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 29، ص 604، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

(2) بدعقیدگی سے بچاؤ کا ذریعہ:مطالعہ عقائد ہمیں شرک، بدعت اور گستاخیِ رسول جیسے مہلک امراض سے بچاتا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا(۴۸) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اوراس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہتا ہے معاف فرما دیتا ہے اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا توبیشک اس نے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا۔ (سورۃ النساء، آیت 48)

(3) بارگاہِ رسالت میں ادب و مقام کی پہچان:اہلسنت کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کی تعظیم و توقیر اصلِ ایمان ہے۔حدیث:تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (بخاری شریف، ج 1، کتاب الایمان، باب حب الرسول من الایمان، حدیث 15، مکتبہ رضویہ)

(4) مرنے کے بعد نجات کا ضامن:قبر میں پوچھے جانے والے سوالات کا تعلق بھی عقائد سے ہے، وہاں عمل سے پہلے عقیدے کا امتحان ہوگا۔حدیثِ مبارکہ: جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو فرشتے پوچھتے ہیں تو اس مرد ( ﷺ ) کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ مومن جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (بخاری شریف، ج 1، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی عذاب القبر، حدیث 1374)

(5)ہدایت اور گمراہی میں تمیز:صحیح عقیدہ ہی وہ کسوٹی ہے جس سے حق اور باطل کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰىۗ ترجمہ کنزالعرفان :تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑا مضبوط سہارا تھام لیا۔(سورۃ البقرۃ، آیت 256)

سیدنا امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہ فرماتے ہیں:پہلے اپنے عقائد کو فرقہ ناجیہ (اہلسنت و جماعت) کے مطابق درست کرو، پھر احکامِ فقہ سیکھو، اس کے بعد صوفیہ کے راستے پر چلو، کیونکہ بغیر درستیِ عقائد کے نجات محال ہے۔ (مکتوباتِ امام ربانی، دفتر اول، مکتوب 193)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ عقائد کی درستی کے بغیر اخروی نجات ناممکن ہے، اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ

ضروریاتِ دین کا علم حاصل کرے۔ اللہ پاک ہمیں مسلکِ حق "اہلسنت و جماعت" پر استقامت عطا فرمائے اور گستاخانہ نظریات سے بچائے۔

حدیثِ مبارکہ: میری امت ستر سے زائد فرقوں میں بٹ جائے گی، سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے، صحابہ نے عرض کی وہ کون ہے؟ فرمایا: جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوگا۔(سنن ترمذی، کتاب الایمان، باب ما جاء فی افتراق ہذہ الامۃ، حدیث 2641)