عقیدہ انسانی زندگی کی اس بنیاد کی مانند ہے جس پر عمل کی پوری عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ اگر بنیاد میں کجی ہو تو پوری عمارت ٹیڑھی ہو جاتی ہے، اسی لیے ایمان کی پختگی کے بغیر کوئی بھی نیک عمل اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوتا۔ دورِ حاضر میں عقائد کا مطالعہ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ باطل نظریات اور فتنوں کے سیلاب میں اپنے ایمان کی حفاظت کی جا سکے اور اللہ و رسول ﷺ کی سچی محبت دل میں بسائی جا سکے۔ اسلامی زندگی کا آغاز ہی "لا الٰہ الا اللہ" سے ہوتا ہے جو کہ سب سے پہلا عقیدہ ہے۔

(1) عقیدہ تمام اعمال کی اصل ہے:انسان کے تمام بدنی اعمال (نماز، روزہ، حج) اس وقت فائدہ دیتے ہیں جب عقیدہ درست ہو۔ امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: اعمال کی قبولیت کی پہلی شرط ایمانِ صحیح ہے، جس کے بغیر کوئی عمل مقبول نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، ج 29، ص 604، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

(2) بدعقیدگی سے بچاؤ کا ذریعہ:مطالعہ عقائد ہمیں شرک، بدعت اور گستاخیِ رسول جیسے مہلک امراض سے بچاتا ہے۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ-وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا(۴۸) ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اوراس سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہتا ہے معاف فرما دیتا ہے اور جس نے اللہ کا شریک ٹھہرایا توبیشک اس نے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا۔ (سورۃ النساء، آیت 48)

(3) بارگاہِ رسالت میں ادب و مقام کی پہچان:اہلسنت کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کی تعظیم و توقیر اصلِ ایمان ہے۔حدیث:تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ (بخاری شریف، ج 1، کتاب الایمان، باب حب الرسول من الایمان، حدیث 15، مکتبہ رضویہ)

(4) مرنے کے بعد نجات کا ضامن:قبر میں پوچھے جانے والے سوالات کا تعلق بھی عقائد سے ہے، وہاں عمل سے پہلے عقیدے کا امتحان ہوگا۔حدیثِ مبارکہ: جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو فرشتے پوچھتے ہیں تو اس مرد ( ﷺ ) کے بارے میں کیا کہتا تھا؟ مومن جواب دیتا ہے: وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ (بخاری شریف، ج 1، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی عذاب القبر، حدیث 1374)

(5)ہدایت اور گمراہی میں تمیز:صحیح عقیدہ ہی وہ کسوٹی ہے جس سے حق اور باطل کے درمیان فرق واضح ہوتا ہے۔ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰىۗ ترجمہ کنزالعرفان :تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑا مضبوط سہارا تھام لیا۔(سورۃ البقرۃ، آیت 256)

سیدنا امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی قدس سرہ فرماتے ہیں:پہلے اپنے عقائد کو فرقہ ناجیہ (اہلسنت و جماعت) کے مطابق درست کرو، پھر احکامِ فقہ سیکھو، اس کے بعد صوفیہ کے راستے پر چلو، کیونکہ بغیر درستیِ عقائد کے نجات محال ہے۔ (مکتوباتِ امام ربانی، دفتر اول، مکتوب 193)

حاصلِ کلام یہ ہے کہ عقائد کی درستی کے بغیر اخروی نجات ناممکن ہے، اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ

ضروریاتِ دین کا علم حاصل کرے۔ اللہ پاک ہمیں مسلکِ حق "اہلسنت و جماعت" پر استقامت عطا فرمائے اور گستاخانہ نظریات سے بچائے۔

حدیثِ مبارکہ: میری امت ستر سے زائد فرقوں میں بٹ جائے گی، سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے، صحابہ نے عرض کی وہ کون ہے؟ فرمایا: جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہوگا۔(سنن ترمذی، کتاب الایمان، باب ما جاء فی افتراق ہذہ الامۃ، حدیث 2641)