محمد
طلال عطاری (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ ،کراچی،پاکستان)
انسان ایک
ایسی دنیا میں رہتا ہے جس کے عجائبات انسانی عقل کو غور و خوض کرنے پر ابھارتے ہیں
اور اس کی ذہنیت اور باطن پر ایک گہرا اثر ڈالتے ہیں یہاں تک کہ اگر کوئی شئی عجیب
نہ بھی ہو مگر عام انسانی سوچ اس چیز سے فقط متاثر ہونے کی بنا پر اسے قبول کرلیتی
ہے اور اس کے مطابق اپنا نظریہ بنا لیتی ہے اور اس کی بنیاد پر کاموں کو تدبیر دیتی
ہے، اب چاہے وہ بنایا گیا نظریہ حقیقت میں درست ہو یا صرف سچ کے لبادہ میں پوشیدہ
جھوٹ۔ اگر تحقیق کی جائے تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ مسلمانوں کی اپنے مسلّم
عقائد میں پختگی اور مضبوطی، دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی نسبت بہت زیادہ ہے کہ
انکا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا لیکن آج کے اس پر فتن دور میں جہان مسلمانوں کو اپنے
دین پر عمل کرنے سے روکنے کی ناکام کوششیں کی جاتی ہیں، کہیں مسلمان مردوں کو
باجماعت نماز پڑھنے سے روکا جاتا ہے، تو کہیں مسلمان خواتین کو شرعی پردہ کرنے پر
سختی کی جاتی ہے، وہیں مسلمانوں کی جماعت کو توڑنے کیلئے ان کے بنیادی عقائد کو بھی
ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے عقائد کی جو مضبوط دیوار ہے، اسے ڈھایا جا سکے۔
لہذا آج
کے دور میں رہنے والے ہر ذی شعور مسلمان پر اپنے بنیادی عقائد کا علم حاصل کر
انتہائی ضروری ہے۔ علم حاصل کرنے کے جہاں دیگر ذرائع ہیں، وہاں ایک اچھا اور مؤثر
طریقہ 'الأخذ من الكتب' یعنی کتابوں سے علم حاصل کرنا بھی ہے۔ عقائد کے بارے میں
مستند کتب کا مطالعہ کرنا لازمی ہے حتی کہ دین اسلام نے ضروری عقائد کے علم کو فرض
قرار دیا ہے۔ مسلمانوں کے رہنما، امام اہلسنت حضرت علامہ مولانا مفتی الشاہ امام
احمد رضا خان رحمۃ الله علیہ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ سب میں اوّلین و اہم ترین
فرض یہ کہ بنیادی عقائد کا علم حاصل کرے جس سے آدمی صحیح العقیدہ سنّی بنتا ہے اور
جن کے انکار و مخالف سے کافر یا گمراہ ہو جاتا ہے۔ (کتاب دس اسلامی عقیدے، مکتبۃ
المدینۃ صفحہ 7)
عقیدہ عمل
پر مقدّم ہے جب تک عقیدہ درست نہ ہو تو اعمال کچھ فائدہ نہ دیں گے ۔ قرآن شریف میں
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا
لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ(۹۰) اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ
یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى
بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠(۹۱)
ترجمۂ کنزالعرفان: بیشک وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد
کافر ہوگئے پھر کفر میں اور بڑھ گئے تو ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی اور
یہی لوگ گمراہ ہیں۔ وہ جو کافر ہوئے اور کافر ہی مرے ان میں کسی سے زمین بھر سونا
ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اگرچہ اپنی خلاصی کو دے، ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور
ان کا کوئی یار نہیں۔ ( سورۃآل عمران،90،91 )
اس کے
علاوہ، عقائد کا جاننا اس لئے بھی ضروری ہے کہ کہیں کسی ضروری عقیدہ کا جہالت کی
بنا پر انکار کرنے کے سبب کافر نہ ہو جائے مثلاً اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ جنات کا
وجود ثابت ہے، اگر کوئی اس بات کا انکار کرے تو یہ کفر ہے۔جس طرح عقائد کا مطالعہ
اور اس کا علم سیکھنا ضروری ہے اسی طرح یہ بھی پیشِ نظر رکھنا ہوگا کہ کس سے عقائد
کے علم کا حصول کیا جا رہا ہے، ایسا نہ ہو کہ علمِ عقائد کسی ایسے سے حاصل کیا جس
کے عقائد میں خود فساد ہو۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ مولانا امام احمد رضا خان رحمۃ
الله علیہ کی تحقیقات اور آپ سے محبت رکھنے والوں کی تقاریر و تحریرات سے استفادہ
کیا جائے کیونکہ آپ اپنے دور کے بہت بڑے عالم اور دینی اعتبار سے مستند شخصیت کی حیثیت
رکھتے ہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ عقائد کا علم سیکھنا اور مستند ذرائع سے حاصل کرنا بہت
ضروری و اہم ہے ورنہ صراط مستقیم سے ہٹ کر گمراہی کی راہ پر قدم پڑ سکتا ہے ۔
Dawateislami