انسان خواہ تقویٰ و پرہیزگاری کی اعلیٰ ترین منازل پر فائز ہو اور اس کی پیشانی ہمہ وقت سجدہ ریز رہے، لیکن اگر اس کے عقائد کی دیوار میں معمولی سی دراڑ بھی پیدا ہو جائے تو اس کے اعمال خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے عقائدِ اسلامیہ کا درست علم اور ان کا باقاعدہ مطالعہ نہایت ضروری ہے، کیونکہ عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر دین کی پوری عمارت قائم ہے، اور بنیاد میں کمزوری پوری عمارت کو غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔

بدقسمتی سے ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں لوگ دنیا کی عارضی مشکلات اور وقتی نقصان سے بچنے کی فکر میں تو سرگرداں ہیں، لیکن یومِ جزا کی ابدی جواب دہی سے اکثر غافل دکھائی دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ جلّ شانہ نے اپنی لاریب کتاب میں ایمان کو مضبوط کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کا حکم دیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُؕ ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر اتاری اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے نازل کی (ان سب پرہمیشہ)ایمان رکھو ۔(سورۃ النساء: 136)

مفسرینِ کرام نے اس آیت سے ایمان کی تجدید، اس کی مضبوطی اور اس پر استقامت مراد لی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیر دمشقی لکھتے ہیں کہ "آمِنُوا" سے مراد ایمان کو کامل کرنا، اسے مزید مضبوط بنانا اور اس پر مسلسل قائم رہنا ہے۔(تفسیر ابن کثیر، ج 2، ص 361 )

اسی طرح امام عبد اللہ النسفی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں کہ "آمِنُوا" سے مراد ایمان پر ثابت قدمی اور اس پر دوام اختیار کرنا ہے۔(مدارک التنزیل و حقائق التأویل، ج 1، ص 398 )

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بندۂ مؤمن اس پُرفتن اور پُرآشوب دور میں ایمان پر ثابت قدم کیسے رہ سکتا ہے؟ تو میرے معزز قارئین کرام اس کا ایک بنیادی اور مؤثر ذریعہ عقائدِ اسلامیہ کا بنظرِ عمیق مطالعہ ہے، تاکہ انسان اپنے ایمان کی حقیقت کو سمجھ کر اس پر مضبوطی سے قائم رہ سکے۔

مطالعۂ عقائد کیوں ضروری ہے؟موجودہ دور میں ہر طرف سے فکری یلغار، بدعقیدگی اور نظریاتی انتشار عام ہے۔ عوام تو ایک طرف، خواص کے لیے بھی ایمان کی حفاظت کرنا اتنا مشکل ہوگیا ہے جیسے مٹھی میں انگارا پکڑنا۔ نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے ایسے ہی دور کی خبر دیتے ہوئے فرمایا:يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ عَلَى دِينِهِ كَالْقَابِضِ عَلَى الْجَمْرِترجمہ: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں اپنے دین پر صبر کرنے والا ایسے ہوگا جیسے ہاتھ میں انگارا پکڑنے والا۔(جامع ترمذی، حدیث 2260)

لہٰذا ایسے دور میں ایمان کی حفاظت کے لیے عقائدِ دینیہ کا مطالعہ ہر مومن کے لیے نہایت ضروری ہے، کیونکہ بغیر صحیح علم کے انسان کے لیے راہِ حق پر ثابت قدم رہنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔

عمل کی درستگی اصلاحِ عقیدہ پر موقوف ہےنماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر اعمالِ صالحہ اسی وقت قابلِ قبول اور مفید ہوتے ہیں جب عقیدہ درست ہو۔ اگر بنیاد ہی کمزور ہو تو اس پر اعمال کی عمارت قائم کرنا غیر دانش مندانہ عمل ہے، کیونکہ ایسی عمارت دیرپا نہیں رہ سکتی۔اسی لیے علماء نے فرمایا ہے کہ اصلاحِ عقیدہ، اصلاحِ عمل پر مقدم ہے۔ عقیدہ درست ہوگا تو عمل بھی درست سمت اختیار کرے گا۔

مطالعۂ عقائد کے لیے اہم ماخذ:عقائد کے استحکام کے لیے متعدد معتبر کتب تصنیف کی گئی ہیں جن میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی "الفقہ الاکبر"بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ مختصر ہونے کے باوجود عقائد کے دقیق مباحث پر مشتمل ہے۔اسی طرح امام نسفی رحمہ اللہ کی "عقائد النسفیہ"اور اس کی مشہور شرح علامہ تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ کی "شرح العقائد"اہم کتب میں شمار ہوتی ہیں۔ یہ کتب طالبِ علم کے لیے ایمان و عقیدہ کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں نہایت مفید ہیں۔

مطالعۂ عقائد مسلمان کی فکری بلندی، قلبی اطمینان اور مضبوط ایمان کے لیے ایک لازمی تقاضا ہے۔ عقائد کی درستگی کے بغیر نہ عمل محفوظ رہتا ہے اور نہ ایمان کی حفاظت ممکن ہے۔ لہٰذا ہر طالبِ حق کے لیے ضروری ہے کہ وہ عقائدِ اسلامیہ کا باقاعدہ مطالعہ کرے تاکہ اسے دین پر ثابت قدمی نصیب ہو۔اللہ جلّ شانہ ہمارا خاتمہ بالخیر فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔