عقائد "عقیدہ" کی جمع ہے، جس کے معنیٰ "پختہ یقین" کے ہیں۔ اسلامی زندگی میں عقائد کی حیثیت وہی ہے جو ایک عمارت میں بنیاد کی ہوتی ہے۔ اگر بنیاد درست اور مضبوط نہ ہو تو اس پر کھڑی ہونے والے اعمال کی عمارت کبھی پائیدار نہیں ہو سکتی۔مطالعہ عقائد کی ضرورت و اہمیت کو درج ذیل نکات سے سمجھا جا سکتا ہے:

(1)اعمال کی قبولیت کی بنیاد:اسلام میں کسی بھی عمل (نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہ) کی قبولیت کے لیے درست عقیدہ پہلی شرط ہے۔ اگر انسان کا عقیدہ توحید یا رسالت درست نہ ہو تو اس کے نیک اعمال اللہ کے ہاں وزن نہیں رکھتے۔

(2) انسانی ذہن کا اطمینان اور سکون:انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی تخلیق، کائنات کی حقیقت اور موت کے بعد کے حالات کے بارے میں سوالات کرتا ہے۔ مطالعہ عقائد ان بنیادی سوالات کے تسلی بخش جوابات فراہم کرتا ہے:ہمیں کس نے پیدا کیا؟ (توحید)ہمیں زندگی گزارنے کا طریقہ کس نے سکھایا؟ (رسالت) مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ (آخرت)ان حقائق کو جان لینے سے انسان کو ذہنی اور قلبی سکون میسر آتا ہے۔

(3) فتنوں اور گمراہی سے تحفظ:موجودہ دور میں مختلف قسم کے نظریاتی فتنے، اور شکوک و شبہات عام ہیں۔ عقائد کا گہرا مطالعہ انسان کو ان باطل نظریات کے سامنے ڈھال فراہم کرتا ہے۔ جب ایک مسلمان کو اپنے عقائد کی عقلی اور نقلی دلیلیں معلوم ہوں گی، تو کوئی اسے گمراہ نہیں کر سکے گا۔

(4) اخلاق و کردار کی تعمیرات :عقائد براہِ راست انسان کے کردار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

خوفِ خدا: جب انسان کا عقیدہ ہو کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے اور اسے ایک دن جوابدہی کرنی ہے، تو وہ برائیوں سے دور رہتا ہے۔

صبر و شکر: تقدیر پر ایمان رکھنے والا شخص مشکل میں ہمت نہیں ہارتا اور نعمت ملنے پر غرور نہیں کرتا۔

(5) زندگی کا مقصد متعین کرنا:مطالعہ عقائد انسان کو بتاتا ہے کہ وہ اس دنیا میں محض اتفاقاً یا کھیل کود کے لیے نہیں آیا، بلکہ اس کی زندگی کا ایک عظیم مقصد ہے۔ یہ علم انسان کو خود غرضی سے نکال کر رضائے الٰہی کے حصول کی طرف مائل کرتا ہے۔

مطالعہ عقائد ایک روحانی ضرورت ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو زندگی کے اندھیروں میں صحیح راستے کی نشاندہی کرتی ہے اور انسان کے ظاہر و باطن کی اصلاح کرتی ہے۔ بغیر عقیدے کے عمل ایسا ہے جیسے بغیر روح کے جسم۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ