عقیدہ
العقد سے ماخوذ ہے جس کا لغوی معنى ہے ،گرہ لگانا،مضبوط،یقین اور ماعقد عليه القلب جس پر دل پختہ ہو۔ اصطلاحاً:ایسا فیصلہ
یا نظریہ جس کے ماننے والوں میں شک کی گنجائش نہ ہو ۔
عقیدے کی
اہمیت انسانی زندگی میں ایسی ہے جیسے جسم کے بغیرروح ،درخت بغیر پھل کے،خوبصورت
عمارت کمزور بنیادکے،کیونکہ درست عقیدے کے بغیر انسان انسانیت کے درجے سے گر کر حیوان
بن جاتا ہے۔
عقیدے کے
ارکان میں اللہ پرایمان،اسکےرسولوں پر، فرشتوں پر،کتابوں پر ،آخرت کے دن پر،تقدیر
پر،بعثت پر، ان میں سے کسی بھی شے میں ادنی سا شک یا توقف بھی انسان کو کفر
وارتداد کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے اوردرست عقیدے کےبغیر عنداللہ کوئی بھی عمل
مقبول نہیں۔
فرمان باری
تعالیٰ ہے: وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهٗ لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی
الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ
سُوْٓءُ الْحِسَابِ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُؕ-وَ بِئْسَ الْمِهَادُ۠(۱۸)
ترجمہ کنزالعرفان:جنہوں
نے اس کا حکم نہ مانا (ان کا حال یہ ہوگا کہ) اگر زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس
جیسا اور اِس کے ساتھ ہوتا تو اپنی جان چھڑانے کو دے دیتے۔ ان کے لئے برا حساب
ہوگا اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔(سورۃ الرعد:18)
ان آیات
سے ثابت ہواکہ اگر وہ تمام جو زمین میں ہے اور اس کی مثل خرچ کریں تب بھی عنداللہ
مقبول نہیں کیوں؟کیونکہ انہوں نے اللہ کو نہیں مانا۔
اسی طرح
حدیث پاک میں ہے: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یا
رسول اللہ! زمانۂ جاہلیت میں ابنِ جُدعان (بنو تَمیم کا مشہور سخی) رشتہ داروں کے
ساتھ نیک سلوک کیا کرتا تھا، مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، کیا یہ اعمال اسے (آخرت
میں) نفع دیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اعمال اس کے کام
نہیں آئیں گے، کیونکہ اس نے (اللہ پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے) ایک دن بھی یہ نہیں
کہا کہ اے اللہ! آخرت میں میری خطاؤں کو بخش دینا۔ (مسلم، ص111، حدیث: 518)
اتنےکثرت سے اعمال ہونے کے باوجود انکی مغفرت نہیں
ہوگی، کیوں؟اللہ پر ایمان نہیں تھا۔
اصول فطرت بھی یہی کہتاہے کہ جس خالق نے اپنی
تخلیق میں سے اک خلقت کو اتنی ساری نعمتیں دی ہیں اس پر شکر کیا جائے یہ انسان شکر
تو بجا اس پر ایمان ہی نہ لائےتو پھر کیونکر اسکی بخشش ہو، اللہ کریم ہمیں عقائد کی
اہمیت کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور عقائد کی خرابی سے محفوظ فرمائے۔
Dawateislami