انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے، اس کے ذہن میں کچھ بنیادی سوالات ہمیشہ گردش کرتے رہے ہیں میں کون ہوں؟ مجھے کس نے پیدا کیا؟ میری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ انہی سوالات کے جوابات عقائد کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ عقیدہ دراصل وہ بنیاد ہے جس پر انسان کی پوری زندگی کھڑی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عقائد کا درست ہونا نہایت ضروری ہے، کیونکہ انسان کے خیالات، اس کے فیصلے اور اس کے اعمال سب اسی کے تابع ہوتے ہیں۔

مطالعۂ عقائد کی اہمیت ہر دور میں مسلم رہی ہے، لیکن آج کے جدید اور تیز رفتار دور میں اس کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ آج انسان کو مختلف قسم کے نظریات، خیالات اور معلومات کا سامنا ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع نے معلومات کو عام تو کر دیا ہے، لیکن ساتھ ہی غلط فہمیوں اور شکوک و شبہات کو بھی فروغ دیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر انسان اپنے عقائد سے اچھی طرح واقف نہ ہو تو وہ آسانی سے گمراہی کا شکار ہو سکتا ہے۔مطالعۂ عقائد انسان کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کو محض روایت پر نہیں بلکہ سمجھ اور تحقیق کی بنیاد پر قائم کرے۔ جب انسان اپنے عقائد کو دلائل کے ساتھ سمجھتا ہے تو اس کا یقین مضبوط ہو جاتا ہے اور وہ کسی بھی قسم کے شبہات کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص اپنے عقائد سے ناواقف ہوتا ہے، وہ معمولی باتوں سے بھی متاثر ہو جاتا ہے اور اس کے اندر تذبذب پیدا ہو جاتا ہے۔

آئیے آپ کو چند عقائد کے بارے میں بتاتا ہوں تا کہ آپ کو پتا چلے کہ عقائد سے متعلق مطالعہ کرنے سے کتنی اہم چیزوں کا علم حاصل ہوتا ہے تا کہ آپ کا بھی مطالعہ عقائد پر ذہن بن سکے:

چنانچہ پیارے نبی ﷺ نے اسلام کے بنیادی اور اساسی عقائد یوں بیان فرمائے ہیں:

اَنْ تُؤْمِنَ بِاللهِ، وَمَلَائِكَتِهٖ، وَكُتُبِهٖ، وَرُسُلِهٖ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهٖ وَشَرِّهٖ یعنی ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پاک، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں،اس کے رسولوں اور قِیامت کے دن پر ایمان لاؤ اور اچّھی، بُری تقدیر کو مانو۔(مسلم،ص21،حدیث :8)

(1) اللہ پر ایمان:اسلام کےبنیادی عقائد میں سب سے پہلے اللہ پاک پر ایمان لانا ہے۔اسلام نے اپنے ماننے والوں کو یہ عقیدہ دیا ہے کہ اللہ ایک ہے۔ یاد رہے اللہ پاک گنتی اور ہندسے والا ایک نہیں ہے بلکہ وہ واحدِ حقیقی ہے جس کا مطلب واحدو یکتا اور تنہا ہے۔ وہ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ ہی کسی کا بیٹا۔نہ اس کی کوئی بیوی ہے اور نہ کوئی رشتہ دار، وہ قبیلے و خاندان سے پاک اور سب سے بے نیاز ہے، ساری مخلوق کو اسی نے پیدا کیا ہے،سب اسی کے محتاج ہیں، وہ سارے عالَم کا پاک پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے، ہمیشہ رہے گا، وہی تمام جہان کا بنانے والا ہے۔ انسان، جنّات، فرشتے، نباتات، آسمان، زمین، چاند، تارے،جاندار و بے جان سارے کے سارے اُسی ایک ” اللہ “ نے پیدا کیے ہیں۔ اللہ کریم ہر عیب و نَقص اور بُرائی سے پاک ہے۔وہ ظاہر اور چھپی ہرچیز کو جانتا ہے،کوئی بھی چیز اُس کے علم سے باہر نہیں۔ جیسے اس کی ذات ہمیشہ سے ہے اِسی طرح اُس کی تمام صفات بھی ہمیشہ سے ہیں۔

(2)فرشتوں پر ایمان:فرشتے اللہ پاک کی ایسی مخلوق ہیں کہ جو مذکر و مؤنث ہونے سے پاک ہیں۔ فرشتوں پر ایمان لانا لازمی ہے۔ان کی تعداد کتنی ہے یہ اللہ کریم ہی بہتر جانتا ہے۔ آسمانوں میں چار اُنگل جگہ بھی ایسی نہیں ہے کہ جہاں فرشتوں نے سجد ے میں پیشانی نہ رکھی ہو۔(ترمذی، 4/141،حدیث: 2319)

فرشتے نُور سے پیدا کئے گئے ہیں جیسا کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایاِ:خُلِقَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ یعنی فرشتوں کو نُور سے پیدا کیا گیا ہے۔(مسلم،صفحہ1221،حدیث:7495)

(3)کتابوں پر ایمان:اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کریم نے اپنے رسولوں پر جو کتابیں اُتاری ہیں وہ سب حق ہیں۔(فتح الباری،جلد2/صفحہ108،تحت الحدیث:50)

جس طرح قرآنِ پاک پر ایمان لانا ہرمُکَلَّف (عاقِل،بالِغ، مسلمان)پر فَرْض ہے اسی طرح اُن کتابوں پر اِیمان لانا بھی ضروری ہے جو اللہ کریم نے حضور ﷺ سے پہلے نبیوں پر نازِل فرمائیں،البتہ اُن کے جو اَحکام ہماری شریعت میں مَنْسُوخ ہو گئے اُن پرعمل دُرُست نہیں مگر اِیمان ضروری ہے مثلاً پچھلی شریعتوں میں بیتُ الْمقدس قِبْلَہ تھا، اس پر ایمان لانا تو ہمارے لئے ضَروری ہے مگر عمل یعنی نَماز میں بیتُ الْمقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں، یہ حکم مَنْسُوخ ہو چکا۔(خزائن العرفان، پارہ1، سورہ بقرہ،تحت الآیۃ:4)

(4)رسولوں پر ایمان:اس کامطلب یہ ہے کہ رسولوں نے جو خبریں اللہ پاک کے بارے میں دی ہیں ان تمام خبروں اور تمام باتوں کو حق مانا جائے۔(فتح الباری، 2/108، تحت الحدیث:50)

(5)آخِرت پر ایمان:آخرت کے انکار کے بعد خدا کو ماننا دین اسلام میں کوئی معنیٰ نہیں رکھتا کیونکہ آخرت کو مُسْتَبْعَد(یعنی بعید و ناممکن) سمجھنا صرف آخرت ہی کا انکار نہیں بلکہ خدا کی قدرت اور حکمت کا بھی انکار ہے۔(عقیدۂ آخرت،صفحہ12)

(6)تقدیر پر ایمان:دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اور بندے جو کچھ کرتے ہیں نیکی، بَدی وہ سب اللّٰہ تعالیٰ کے علمِ ازلی کے مطابق ہوتا ہے۔ جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور اس کے پاس لکھا ہوا ہے۔(کتاب العقائد،ص24)

حضرت سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نےفرمایا کہ حضورِ اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے حالانکہ ہم مسئلۂ تقدیر پر بحث کررہے تھے تو آپ ﷺ ناراض ہوئے حتّٰی کہ چہرہ ٔ انور سُرخ ہوگیا گویا کہ رُخساروں میں انار نچوڑ دیئے گئے ہیں اور فرمایا :کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے؟ یا میں اسی کے ساتھ تمہاری طرف بھیجا گیاہوں؟ تم سے پہلے لوگوں نے جب اس مسئلہ میں جھگڑے کئے تو ہلاک ہی ہوگئے میں تم پر لازِم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں نہ جھگڑو۔(ترمذی،4/51،حدیث:2140)