قرآنِ کریم اللہ رب العزت کی وہ لاریب کتاب ہے جس کے ہر حرف میں ہدایت ہے، ہر آیت میں نور ہے اور ہر واقعے میں ہمارے لیے عبرت کا سامان ہے۔ ربِ کائنات نے اس مقدس کتاب میں اپنے برگزیدہ نبیوں کے مبارک تذکرے بیان فرما کر رہتی دنیا تک کے انسانوں کو صبر توکل اور توبہ کا درس دیا ہے۔انہی مقدس ہستیوں میں سے ایک نام حضرت یونس علیہ السلام کا ہے جنہیں ذوالنون اور صاحب الحوت یعنی مچھلی والے نبی کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ آپ علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ مجید کی کئی سورتوں میں بڑے ہی پیارے اور سبق آموز انداز میں بیان ہوا ہے۔ آئیے اس مضمون میں ہم قرآن کی روشنی میں حضرت یونس علیہ السلام کے مبارک واقعے کو پڑھتے ہیں اس سے ملنے والے مدنی پھول چنتے ہیں اور اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا نام پاک یونس بن متٰی ہے اور چونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے اس وجہ سے آپ کو ذوالنون اور صاحِبُ الْحُوْت یعنی مچھلی والے بھی کہا جاتا ہے اور یہ دونوں آپ کے القاب ہیں۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر جداگانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا البتہ وحی کے ذریعے آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر بعض احکام نازل ہوئے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پارہ 6، سورۃالنساء آیت نمبر 163)

اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی دعا قبول فرمائی آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا مچھلی کے پیٹ میں بھی تَوَجّہ اِلَی اللہ رضا بالقضاء اور ذکرِ الٰہی کی توفیق بخشی خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروہ میں اعلیٰ درجہ عطا فرمایا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین تھا۔ اگر اس کے رب کی نعمت اسے نہ پالیتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتااور وہ ملامت کیا ہوا ہوتا۔ تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے حقداروں میں کرلیا۔ (پارہ 29 سورۃ القلم،48تا 50)

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)ترجمۂ کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (پارہ 17، سورۃ الانبیاء، آیت نمبر 87)

اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے: وَ ذَا النُّوْنِ: اور ذوالنون کو یاد کرو۔ یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔

حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کے اس عظیم واقعے سے ہمیں صبر توبہ اور اللہ کی رحمت پر یقین کا درس ملتا ہے تین اندھیروں میں بھی جب بندہ اپنے رب کو پکارتا ہے تو رب سن لیتا ہے معاف فرما دیتا ہے اور نجات عطا فرما دیتا ہے۔