ابو
برہان عبدالرحمن عطاری (درجہ خامسہ جامعۃالمدینہ فیضان رضا،لاہور،پاکستان )
قرآنِ پاک
میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر انتہائی عقیدت اور عبرت و نصیحت کے پہلوؤں کے
ساتھ کیا گیا ہے۔ انہیں "ذوالنون" (مچھلی والے) اور "صاحبِ
الحوت" کے القاب سے یاد کیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ان کے واقعے کو اللہ کی
وحدانیت، توبہ کی قبولیت اور انبیاءِ کرام کے صبر کی مثال کے طور پر بیان کیا گیا
ہے۔
یہ آیت
حضرت یونس علیہ السلام کی اس دعا کا ذکر کرتی ہے جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی
تھی، جسے "تسبیحِ یونس" بھی کہا
جاتا ہے۔
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷) فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا
کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو
بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور
ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ
الانبیاءآیت 87 تا 88)
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ
السلام کی رسالت اور مچھلی کے واقعہ کا ذکر فرمایا ہے۔
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو قرعہ
ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔ تو قرعہ ڈالا
تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(سورۃ الصافات ،آیت
139 تا 144)
یہاں اللہ
تعالیٰ نے اپنے حبیبِ پاک ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے کا
حوالہ دیا ہے کہ وہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ
وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا
جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا
تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا
جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں
میں کرلیا۔ (سورۃ القلم،آیت 48 تا 50)
حضرت یونس
علیہ السلام کا قصہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:
توبہ کی اہمیت: اللہ
تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی کوتاہی کا اعتراف کرنا اور اس کی تسبیح بیان کرنا اللہ
کو بے حد پسند ہے۔
اللہ کی رحمت: اللہ اپنے نیک بندوں کو
مشکلات اور "اندھیریوں" سے نکالنے پر قادر ہے۔
صبر کا دامن: اللہ کے فیصلوں پر صبر
کرنا اور مایوسی سے بچنا انبیاء کی سنت ہے۔
Dawateislami