شہزاد
رسول عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی ،پاکستان)
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت
کے لیے انبیاءِ کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، مخلوق کی طرف بھیجا انہوں نے
لوگوں کو توحید اور نیکی کا حکم دیا ۔ انبیاء کرام میں سے ایک حضرت یونس علیہ
السلام بھی ہیں، جن کا ذکر قرآنِ مجید میں بیان ہوا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کو
اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں اللہ کی طرف بلائیں نیکی کا
حکم دیں اور برائیوں سے روکیں۔ لیکن جب ان کی قوم نے نافرمانی کی اور ان کی بات نہ
مانی تو حضرت یونس علیہ السلام ناراض ہو کر بغیر اللہ کے حکم سے وہاں سے چلے گئے۔ یہ
ایک اجتہادی خطا تھی، جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں آزمائش میں ڈال دیا۔قرآنِ مجید میں
ارشاد ہوتا ہے:
(1) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(پارہ 23، سورۃ الصافات، آیت 139)
اس آیت سے
معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے رسولوں میں سے ہیں اور ان کا مقام
بہت بلند ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا قرآنِ کریم
سے ایک واقعہ:حضرت یونس علیہ السلام جب اپنی قوم سے ناراض ہو کر نکلے تو وہ ایک کشتی میں
سوار ہو گئے۔ کشتی سمندر میں پہنچی تو طوفان آ گیا، اور کشتی والوں نے قرعہ اندازی
کی تاکہ کسی ایک کو سمندر میں ڈالا جائے۔ قرعہ حضرت یونس علیہ السلام کا نام نکلا
اور انہیں سمندر میں ڈال دیا گیا۔ اسی وقت ایک بڑی مچھلی نے انہیں نگل لیا۔جب حضرت
یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تھے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کو پکارا اور نہایت
عاجزی کے ساتھ دعا کی ۔اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں معاف فرمایا
۔
(2) لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(پارہ 17، سورۃ الانبیاء، آیت 87)
یہ دعا ہمیں
سکھاتی ہے کہ مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اپنے گناہوں کا
اعتراف کرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور
انہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا کی۔ اس کے بعد انہیں دوبارہ ان کی قوم کی طرف بھیجا
گیا، اور اس بار ان کی قوم ایمان لے آئی۔قرآنِ مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
(3) فَلَوْ لَا
كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ
یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پارہ
11، سورۃ یونس، آیت 98)
اس آیت سے
معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے توبہ کی اور ایمان لانے کے بعد
اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب ٹال دیا۔حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں کئی
اہم سبق دیتا ہے۔ سب سے پہلے یہ کہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہیں کرنا چاہیے۔
دوسرا یہ کہ مشکل وقت میں اللہ کو یاد کرنا اور توبہ کرنا کامیابی کا راستہ ہے۔ تیسرا
یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی سچی توبہ کو قبول فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم
حضرت یونس علیہ السلام کے صبر، توبہ اور اللہ پر بھروسہ کرنے کے انداز کو اپنی
زندگی میں اپنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں
قرآنِ مجید کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔
Dawateislami