عدنان
اویسی عطاری(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی رضی اللہ عنہ ،کراچی،پاکستان)
اس تحریرمیں
ہم حضرت یونس علیہ السلام کی نیکی کی دعوت دینے اوران کی قوم کانیکی کی دعوت قبول
کرنے کے حوالے سے گفتگوکریں گے۔حضرت یونس علیہ السلام کے واقعات کے قرآنی مقامات۔
حضرت یونس
علیہ السلام کااجمالی ذکرخیرسورۃ النساء آیت :163 اور سورۃ انعام آیت :86 میں ہے،
جبکہ تفصیلی تذکرہ درج ذیل 4 سورتوں میں ہے:
(1) فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ
فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃ یونس:98)
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں
رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا
حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں
نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی
توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت
عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا
دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے
والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ
کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲
/ ۳۳۵-۳۳۶)
(2) وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ
نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔(سورۃ
الانبیاء:87)
(3) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔(سورۃ الصفت:139)
وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے،
آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور
اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے
کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)
(5/4) وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا
فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے
انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃ
الصفت:147،148)
نوٹ: حضرت
یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ کا بیان سورۂ یونس آیت نمبر98میں
گزر چکا ہے اور اس واقعہ کا بیان سورۂ انبیاء کی آیت نمبر 87،88میں بھی گزرچکا
ہے۔
(6) فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب
اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین
تھا۔ (سورۃ قلم :48)
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبر کرو۔
یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفار کو مہلت دینے
اور ان کے خلاف آپ کی مدد کو مُؤخّر کرنے کے معاملے میں آپ اپنے رب
عَزَّوَجَلَّ کے حکم کا انتظار کریں اور ان کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر
کریں ۔( خازن، ن، تحت الآیۃ: ۴۸، ۴ / ۳۰۱، مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۴۸، ص۱۲۷۱،
ملتقطاً)
وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ: اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا۔
اس آیت ا ور اس کے بعد والی دو آیات کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ
جب اُحد کے میدان میں تاجدارِ رسالت ﷺ نے
پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے مسلمانوں کے خلاف دعا کرنے کا اراد ہ فرمایا تو یہ آیات
نازل ہوئیں اور ایک قول یہ ہے کہ جب حضورِ اقدس ﷺ نے ثقیف والوں کے خلاف دعا کا ارادہ فرمایا تو یہ آیات نازل ہوئیں اور
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم پر جلدی عذاب نازل کرنے کے معاملے میں مچھلی والے کی طرح
نہ ہونا تاکہ کہیں ان کی طرح آپ بھی آزمائش میں مبتلاء نہ ہو جائیں اور وہ وقت یاد
کریں جب اُس نے اِس حال میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کوپکارا کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں
بہت غمگین تھا۔یاد رہے کہ یہاں مچھلی والے سے مراد حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام ہیں۔(تفسیرکبیر، القلم، تحت الآیۃ: ۴۸، ۱۰ / ۶۱۶، خازن، ن، تحت الآیۃ: ۴۸، ۴
/ ۳۰۱، مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۴۸، ص۱۲۷۱، ملتقطاً)
(7) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ
فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے حقداروں میں کرلیا۔ (سورۃقلم:50)
فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ: تو اسے اس کے رب نے چن لیا۔ یعنی
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے دعا کرنے اور اپنا عذر پیش کرنے کی
وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں چن لیا اور ان کی نیکی کی صفات کو مزید ترقی دی اور
انہیں ہر ایسا کام کرنے سے محفوظ کر دیا جسے چھوڑ دینابہتر ہو۔( مدارک، القلم، تحت
الآیۃ: ۵۰، ص۱۲۷۱، روح البیان،
ن، تحت الآیۃ: ۵۰، ۱۰
/ ۱۲۶-۱۲۷، ملتقطاً)
اس تحریر سے حاصل ہونے والے نکات:
(1)ہرحال
میں نیکی کی دعوت دینی ہے۔
(2) نیکی
کی دعوت میں صبرسے کام لیناہے۔
(3) رب کی
رضاپر راضی رہناہے۔
(4) استقامت
سے نیکی کی دعوت دینی ہے۔
محمد
اکمل عطّاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ عثمان غنی، کراچی ،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام کا تذکرہ قرآنِ مجید میں نہایت مؤثر اور ایمان افروز انداز میں آیا
ہے۔ آپ علیہ السلام ان جلیل القدر(یعنی)بڑے بڑے انبیاءِ کرام میں سے ہیں جن کی حیاتِ
مبارکہ ہمیں صبر، توبہ، رجوع الی اللہ اور امید کا درس دیتی ہے۔ آپ کو ایک نافرمان
قوم کی طرف بھیجا گیا، آپ نے انہیں اللّہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دی، مگر جب
انہوں نے مسلسل انکار کیا تو آپ رنجیدہ ہو کر بستی چھوڑ گئے۔ یہی وہ مرحلہ تھا
جہاں آزمائش کا در کھلا اور ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو رہتی دنیا تک کے لیے نصیحت
بن گیا۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(پ23، سورۃ الصافات، آیت 139)
پھر جب آپ
کشتی میں سوار ہوئے تو طوفان آیا، قرعہ اندازی ہوئی اور آپ کو سمندر میں ڈال دیا گیا:
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت
کررہے تھے۔ (پ23، سورۃ الصافات، آیت 142)
مچھلی کے
پیٹ، سمندر کی گہرائی اور رات کے اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے رب
کو پکارا:
لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
ترجمہ
(کنزالایمان): “تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بیشک مجھ سے بےجا ہوا۔(پ17،
سورۃ الانبیاء، آیت 87)
یہ وہ عظیم
دعا ہے جو قیامت تک آنے والے ہر مومن کے لیے نجات کا ذریعہ ہے۔ اسی دعا کی برکت سے
اللہ تعالیٰ نے آپ کو نجات عطا فرمائی:فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (پ17، سورۃ الانبیاء، آیت 88)
یہ آیات
ہر صاحبِ ایمان کو یقین دلاتی ہیں کہ اللّہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مشکلات سے نکالنے
پر قادر ہے، بشرطیکہ بندہ اخلاص کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرے۔
ایک نصیحت
آموز بات یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ میں تھے تو بظاہر کوئی
سہارا نہ تھا، مگر انہوں نے مایوسی اختیار نہ کی بلکہ اللہ کی بارگاہ میں جھک گئے۔
یہی طرزِ عمل ایک مومن کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں،
اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:ذوالنون (حضرت یونس علیہ السلام) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی،
کوئی مسلمان جب بھی اس کے ذریعے دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے
گا۔(جامع ترمذی، کتاب الدعوات، باب دعاء ذی النون، حدیث: 3505)
رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا:جو شخص اللہ تعالیٰ سے کثرت کے ساتھ توبہ کرتا ہے، اللّہ تعالیٰ اس کی
توبہ قبول فرماتا ہے۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبہ، حدیث: 4250)
حضور نبی
اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ کو خوشحالی میں یاد رکھو، وہ تمہیں تنگی میں یاد رکھے
گا۔(جامع ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، حدیث: 2516)
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:کوئی بھی مسلمان کسی مصیبت میں مبتلا ہو اور یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ
اس کی مشکل دور فرما دیتا ہے۔(مسند احمد، حدیث: 17340)
حضرت یونس
علیہ السلام کا واقعہ ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے کہ بیشک انسان خطا کا پتلا ہے، مگر
اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ اصل کامیابی اپنی غلطی کو پہچان کر عاجزی کے
ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنے میں ہے۔ مایوسی شیطان کا ہتھیار ہے جبکہ امید مومن کی
پہچان ہے۔اگر ہم اپنی زندگی میں اس ایک دعا کو اپنا لیں اور سچے دل سے اللّہ کو
پکاریں تو یقیناً ہماری زندگیوں میں بھی آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔اور یہ بھی پتا
چلتا ہے کہ اندھیری رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، روشنی کا سویرا ضرور طلوع ہوتا
ہے،بس شرط یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھے ۔اللہ پاک ہمیں
اپنے پیاروں سے سچی محبت نصیب فرمائے آمین۔
انبیاء
کرام علیہم السلام کے واقعات و اُمورِ زندگی محض تاریخی بیانات نہیں بلکہ ہدایت،
تربیت اور روحانی اصلاح کا خزانہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ان قصص کو اس
لیے بیان فرمایا تاکہ انسان ان سے سبق حاصل کرے۔ یونہی حضرت یونس علیہ السلام کا
واقعہ قرآنِ مجید میں نہایت عبرت آموز، روحانی گہرائی اور تربیتی پہلوؤں سے بھرپور
انداز میں بیان ہوا ہے۔ یہ قصہ انسان کو صبر، توکل، توبہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت
کے وسیع ہونے کا درس دیتا ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ
کے برگزیدہ انبیاء میں سے ہیں۔ آپ کو "ذوالنون" یعنی "مچھلی
والے"کہا جاتا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے قدیم شہر نینویٰ (موجودہ عراق میں
واقع) کی طرف نبی بنا کر بھیجا، جہاں لوگ بت پرستی اور گناہوں میں مبتلا تھے۔جبکہ
آپ کا تعلق بنی اسرائیل سے تھا۔قرآنِ مجید میں آپ کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے،
خاص طور پر قرآن مجید کی سورۃ یونس، سورۃ الانبیاء، سورۃ الصافات اور سورۃ القلم میں۔
مذکور ہے
کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت
قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے
اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور
کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں
اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی
کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی
تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب!
عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے
جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔(
مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴ منقول تفسیرِ صراط الجنان)
اِس
معاملے کی منظر کشی کرتے ہوئے قرآن کریم ناطق ہے فرمایا:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبیاء: 87)
نوٹ:علماء
اکرام کے نزدیک انبیاء سے گناہ صادر نہیں ہوتے، البتہ اجتہادی خطا ممکن ہے، جس پر
فوراً اصلاح کر دی جاتی ہے۔
مچھلی کے پیٹ میں آزمائش: جب حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا
اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو ا س
بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ
تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کواِلہام
فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں
بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی
توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔( روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۴۲، ۷
/ ۴۸۷، ملخصاً)
قرآن کریم
میں آتا ہے:فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت
کررہے تھے۔ (سورۃ الصافات: 142)
حضرت یونس
علیہ السلام کی مبارک سیرت خصوصاً ان لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو مشکلات،
آزمائشوں اور مایوسیوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی رحمت
سے کبھی ناامید نہیں ہونا چاہیے۔لہٰذا حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ محض ایک تاریخی
قصہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر انسان غلطی کر بھی
بیٹھے تو اللہ کی طرف رجوع کرے، کیونکہ وہی بخشنے والا اور مہربان ہے۔خلّاق عالم ہمیں
سیرتِ اسلاف و انبیاء کرام کا مطالعہ کر کے اپنے اُمور زندگی کے سانچے میں ڈھالنے
کی توفیق عمل نصیب کرے آمین بجاہ خاتم النبین ﷺ۔
آپ عَلَیْہِ
السَّلَام کا نامِ پاک یونس بن متٰی ہے اور چونکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام مچھلی کے
پیٹ میں تشریف لے گئے تھے اس وجہ سے آپ کو’’ذوالنون ‘‘اور’’ صاحِبُ الْحُوْت یعنی
مچھلی والے بھی کہا جاتا ہے اور یہ دونوں آپ کے القاب ہیں ۔
حضرت یونس علیہ السلام اور قرآن:حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ قرآن مجید میں آپ کا
ذکر بڑے احترام اور عبرت کے انداز میں آیا ہے۔ آپ کو نینوٰی (موجودہ عراق کا ایک
علاقہ) کی قوم کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا گیا تھا۔ آپ اپنی قوم کو اللہ کی توحید کی
دعوت دیتے رہے، لیکن انہوں نے آپ کی بات نہ مانی اور نافرمانی پر قائم رہے۔جب قوم
نے مسلسل انکار کیا تو حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے حکم کا انتظار کیے بغیر وہاں
سے چلے گئے۔ قرآن مجید میں اس واقعہ کو ایک سبق کے طور پر بیان کیا گیا ہے کہ نبی
بھی اگر جلدی کریں تو اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح فرماتا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام ایک
کشتی میں سوار ہوئے، لیکن سمندر میں طوفان آ گیا۔ کشتی کو ہلکا کرنے کے لیے قرعہ
اندازی کی گئی اور حضرت یونس علیہ السلام کا نام آیا۔ چنانچہ آپ کو سمندر میں ڈال
دیا گیا، اور ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ اس حالت میں آپ نے اللہ تعالیٰ سے
دل کی گہرائیوں سے دعا کی :لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ
ترجمۂ
کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء :87)
اللہ تعالیٰ
نے آپ کی دعا قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ آپ کو ساحل پر چھوڑ دے۔ پھر
اللہ نے آپ کو صحت دی اور دوبارہ آپ کی قوم کی طرف بھیجا۔ اس بار پوری قوم ایمان
لے آئی، جو ایک منفرد واقعہ ہے ۔قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کے واقعہ سے
ہمیں صبر، توبہ، اور اللہ پر مکمل بھروسہ کرنے کا درس ملتا ہے یہ واقعہ ہمیں یہ بھی
سکھاتا ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی اللہ کو پکارنا چاہیے، کیونکہ وہی نجات دینے
والا ہے۔
اللہ تعالیٰ
نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر حضرت یونس علیہ السلام کا تذکرہ فرمایا ہے ذیل چند
آیات ملاحظہ فرمائیے چنانچہ اللہ رب العزت فرماتا ہے:
وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا
فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶) وَ مِنْ اٰبَآىٕهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْۚ-وَ
اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے
وقت میں سب پر فضیلت دی۔ اور کچھ ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بعض
کو اور ہم نے انہیں چن لیا اور سیدھی راہ دکھائی۔ (سورۃ الانعام:86،87)
ایک اور مقام پر آپ کی رسالت کا بیان کرتے ہوئے
ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(سورۃ الصفت:139)
اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد
پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے
بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد
کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃ النساء:163)
محمد
شعیب(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی ،پاکستان)
اللہ پاک
نے لوگوں کی طرف اپنے احکام سکھانے کے لیے اور لوگوں کو شرک و کفر سے نکالنے کے لیے
انبیاء اور رسول بھیجے اللہ پاک کے نبیوں میں سے ایک نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی
ہیں۔
(1) وَ اِنَّ
یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(سورۃ الصفت:139)
نام مبارک: آپ علیہ السلام کا نام
مبارک یونس بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت بھی ہیں یعنی مچھلی والےہیں۔
آپ علیہ السلام حضرت ھود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں آپ بستی نینوی کے نبی
تھے۔(سیرت الانبیاء ص۴۹۱)
(2)فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ
فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃ یونس:98)
آپ علیہ
السلام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑ نے اور توحید کی دعوت دیتے رہیں لیکن
انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے
انہیں عذاب الہی کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے قوم نے علامات عذاب
پایا سمجھ گئے کہ ضرور عذاب آے گا۔ چنانچہ شہر کے تمام لوگ خوف خداوندی سے ڈر کر
کانپ اٹھے ۔اور جنگل میں نکل گئے اور رو رو کر توبہ استغفار میں مشغول ہو گئے پس
اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ (عجائب القرآن ص120)
اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کو بہت سارے
انعامات عطاء فرمائےتھے۔ اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی
آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شمار کیا۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(3) فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔(سورۃ الانبیاء:88)
اللہ تعالیٰ
نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پکار سن لی اور اسے تنہائی اور
وحشت کے غم سے نجات بخشی اور
مچھلی کو
حکم دیا تو اس نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریا کے کنارے پر
پہنچا دیا اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی مصیبتوں اور تکلیفوں سے نجات دیتا ہیں۔
(4) فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ
مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔(سورۃ الصفت:143)
اگر حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر ِالٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں
’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے
والے نہ ہو تے تو ضرورقیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔ (صراط الجنان)
شیرزمان
عطاری(درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
الله
تعالٰی نے انسانوں کی ہدایت رہنمائی کے لیے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار(124000)
انبیاء علیہم السلام کو بھیجا ۔ ان مقدس ہستیوں میں سے حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر
قرآن مجید میں خاص اہمیت رکھتا ہے ۔حضرت یونس علیہ السلام کا یہ قصہ تاریخی ہی نہیں
بلکہ اندھیروں میں ایک امید کی کرن ہے جو انسان کو رب تعالیٰ سے جوڑتی ہے قرآن مجید
میں آپ کو ذوالنون (مچھلی ولا) اور "صاحب الحوت" کے القاب سےیاد کیا گیا
ہے۔
چالیس(40) سال دعوت حق:حضرت یونس
علیہ السلام بستی ''نینوی'' کے نبی تھے جو موصل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر
واقع تھی۔آپ علیہ السلام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ
کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا
اور اپنے شرک سے باز نہ آئے تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین
دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: 139، 7/ 486)
حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی سفر:حضرت یونس
علیہ السلام نے اپنی قوم کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو
آپ علیہ السلام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ علیہ السلام نے
یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے
کوئی پوچھ گچھ ہوگی حضرت یونس علیہ السلام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک
وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائےآپ
علیہ السلام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ علیہ السلام نے وحی الٰہی سے ہی انہیں
بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عزوجل کا عذاب آئے گا لیکن
چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف
تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کرنے کا ارادہ کرلیاتھا اور آپ علیہ السلام اسی اندیشے
سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ علیہ السلام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں
کوئی متعین وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ علیہ السلام کو معاذ اللہ آپ کی قوم
جھوٹا کہہ سکتی۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رضی اللہ تعالی عنہما کا قول
ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا جب اس میں تاخیر
ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ علیہ السلام اُن سے چھپ کر نکل گئے آپ علیہ
السلام نے دریائی سفر کا ارادہ کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے جب کشتی دریا کے
درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا ملاحوں
نے کہا اس کشتی میں اپنے آقا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر
ہوجائے گا کہ وہ کون ہے چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ علیہ السلام ہی
کانام نکلا اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں اس کے بعد آپ علیہ
السلام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا
غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن، والصافات، تحت
الآیۃ: 140، 4 / 26، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: 140، ص1009، ملتقطاً)
الله پاک نے قرآن پاک میں اس کا ذکر
یوں فرمایا:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ (سورۃالصفت :139،140)
حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:پھر دریا
میں ڈالنے کے بعد جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو انہیں
کئی قسم کی تاریکیوں کا سامنا ہوا جیسے دریا کی تاریکی رات کی تاریکی اور مچھلی کے
پیٹ کی تاریکی ان اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار عزو جل سے
اس طرح دعا کی۔ اے میرے رب تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے بیشک
مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیری اجازت لینے سے پہلے ہی جدا ہوگیا ۔قرآن پاک
میں اللہ پاک نے اس کا ذکر یوں فرمایا:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔
(سورۃ الانبیاء:87)
بندوں پرخدا کی آزمائش اور ان کا صبر: علامہ
عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت یونس علیہ السلام کی دل ہلا دینے
والی مصیبت اور مشکلات سے یہ ہدایت ملتی ہے کہ اللہ تعالی اپنے خاص بندوں کو کس کس
طرح امتحان میں ڈالتا ہے لیکن جب بندے امتحان میں پڑ کر صبر واستقامت کا دامن نہیں
چھوڑتے اور عین بلاؤں کے طوفان میں بھی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے تو ارحم
الرحمین اپنے بندوں کی نجات کا غیب سے ایسا انتظام فرمادیتا ہے کہ کوئی اس کو سوچ
بھی نہیں سکتا غور کیجئے کہ حضرت یونس علیہ السلام کو جب کشتی والوں نے سمندر میں
پھینک دیا تو ان کی زندگی اور سلامتی کا کون ساذریعہ باقی رہ گیا تھا ؟ پھر انہیں
مچھلی نے نگل لیا تو اب بھلا ان کی حیات کا کون سا سہارا رہ گیا تھا ؟ مگر اسی
حالت میں آپ نے جب آیت کریمہ کا وظیفہ پڑھا تو اللہ تعالی نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں
بھی زندہ و سلامت رکھا اور مچھلی کے پیٹ سے انہیں ایک میدان میں پہنچا دیا اور پھر
انہیں تندرستی و سلامتی کے ساتھ ان کی قوم اور وطن میں پہنچا دیا۔ اور ان کی تبلیغ
کی بدولت ایک لاکھ سے زائد آدمیوں کو ہدایت مل گئی۔(عجائب القرآن مع غرائب القرآن،
ص 127/136)
فراز
عزیز پنہور (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی، کراچی،پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے آپ کو نبوت عطا فرمائی، چنانچہ قرآن میں ہے:وَ اِنَّ
یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (الصافات 139)
حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی
قوم:حضرت یونس کی قوم نینویٰ میں رہتی تھی اور شرک و برائیوں میں مبتلا تھی۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی ہدایت کے لیے بھیجا۔ آپ نے طویل عرصہ انہیں توحید کی
دعوت دی مگر وہ انکار کرتے رہے۔ آخر آپ نے خبردار کیا کہ تین دن بعد عذاب آئے گا
اور وہاں سے چلے گئے۔جب عذاب کی نشانیاں ظاہر ہوئیں تو قوم خوفزدہ ہو گئی، میدان میں
نکل کر اللہ سے توبہ کی، اپنے گناہوں کی اصلاح کی اور سچے دل سے ایمان لے آئی۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے عذاب ٹال دیا۔قرآن میں ہے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (سورۃ یونس، آیت
98)
حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی
سفر اور مچھلی کا نگلنا:حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کی توبہ سے بے خبر تھے۔ عذاب میں تاخیر دیکھ
کر آپ ناراض ہو کر بغیر حکمِ الٰہی وہاں سے نکل گئے اور ایک کشتی میں سوار ہوئے۔
سمندر میں کشتی رک گئی تو قرعہ ڈالا گیا جس میں آپ کا نام نکلا، چنانچہ آپ کو دریا
میں ڈال دیا گیا۔اللہ کے حکم سے ایک مچھلی نے آپ کو نگل لیا مگر کوئی نقصان نہ
پہنچایا۔ اس حالت میں آپ نادم تھے اور اللہ کی تسبیح کرنے لگے۔قرآن میں ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ (۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ
اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔(سورۃ الصافات، آیت 139-142)
حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی
دعا کی قبولیت:مچھلی کے پیٹ کی تاریکی میں حضرت یونس علیہ السلام نے عاجزی سے دعا کی:
" لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ"۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا
قبول فرمائی اور انہیں غم سے نجات دی۔قرآن میں ہے:فَسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ۔
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان
والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (الانبیاء آیت 88)
مچھلی کے پیٹ سے نجات:اللہ تعالیٰ
نے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکال کر میدان میں ڈال دیا جبکہ آپ
کمزور تھے۔قرآن میں ہے:فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ
سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (سورۃ الصافات: 145)
مچھلی کے پیٹ میں قیام کی مدت:علماء کے
نزدیک قیام کی مدت مختلف بیان ہوئی ہے، کسی کے نزدیک ایک دن، کسی کے نزدیک کئی دن یا
چالیس دن تک۔(جلالین الصافات تحت الآیت 145 ص 478)
کدو کا درخت:اللہ تعالیٰ نے آپ کے
آرام کے لیے کدو کا درخت اگایا جس نے سایہ اور حفاظت فراہم کی اور آپ کی صحت بحال
ہوئی۔
وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس پرکدو کا پیڑ اگادیا۔ (سورۃ الصافات: 146)
حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی
قوم میں دوبارہ تشریف آوری:صحت یابی کے بعد آپ دوبارہ اپنی قوم
کی طرف بھیجے گئے جو اب ایمان لا چکی تھی۔ انہوں نے آپ کا استقبال کیا اور اطاعت
اختیار کی، جس کے نتیجے میں انہیں دنیاوی نعمتیں ملیں۔قرآن میں ہے:وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا
فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے
انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔ (سورۃ الصافات، آیت 147-148)
حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے
حاصل ہونے والی نصیحت:علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ صبر، توبہ
اور اللہ پر کامل بھروسے کا عظیم سبق ہے۔ مشکل حالات میں بھی اللہ کی یاد انسان کو
نجات دلاتی ہے اور سچی توبہ سے اللہ تعالیٰ مصیبتیں دور فرما دیتا ہے۔(عجائب
القرآن مع غرائب القرآن، ص 126، 127)
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔ قرآن مجید میں ان کا
ذکر کئی مقامات پر آیا ہے، جہاں ان کی قوم کی نافرمانی اور یونس علیہ السلام کے
صبر کا بیان ملتا ہے۔
قوم کا دعوت سے انکار :قرآن کریم
میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:وَ اِنَّ یُوْنُسَ
لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(سورۃ الصفت:139)
آپ بستی
نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ
کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے۔( صراط الجنان )
قوم سے دوری اور سفر :مزید ارشاد ہوتا ہے:اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ الصفت:140)
حضرت
عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں
تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار
ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری
سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے
،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا
س میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ
جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔(صراط
الجنان)
مچھلی کے پیٹ میں:جب آپ علیہ
السلام کو سمندر میں ڈالا تو ایک بڑی مچھلی نے انہیں نگل لیا۔ وہاں اندھیروں میں
انہوں نے اللہ کو پکارا قرآن میں اسے یوں بیان کیا گیا ہے۔
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔
(سورۃ الانبیاء:87)
اللہ کی رحمت اور نجات:آپ علیہ
السلام کی مچھلی کے پیٹ میں کی جانے والی دعا جب قبول ہوئی تو اسے قرآن میں اسطرح
بیان کیا گیا ہے:فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ
الانبیاء 21:88)
قوم ایمان لے آئی:حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم نے آخرکار ایمان قبول کر لیا ۔
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (سورۃ یونس
10:98)
محترم
اسلامی بھائیوں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہمیں صبر اور اللہ پر کامل بھروسے
کا درس دیتا ہے۔
محمد
شاہ زیب سلیم عطاری(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی،
لاہور،پاکستان)
انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اس کائنات کی عظیم ترین ہستیاں
ہیں اور اللہ عزوجل کے مقرب بندے ہیں اور انہی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں
سے ایک عظیم ہستی حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام بھی ہیں حضرت یونس علیہ الصلوۃ
والسلام کا مختصر تعارف ملاحظہ فرمائیے ۔
تعارف:آپ علیہ السلام کا نام یونس
بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے) ہے۔ آپ علیہ السلام
حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نینوی کے نبی تھے جو موصل کے
علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ آپ علیہ السلام نے چالیس سال لوگوں کو بت
پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور
اپنے شرک سے باز نہ آئے ، تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب
کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے۔ قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر
کے بارگاہ الہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔(سیرت الانبیاء ،ص491،مکتبۃالمدینہ)
آئیے چند قرآنی مقامات سے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا تذکرہ
ملاحظہ فرمائیے:
(1) اللہ عزوجل کے انعامات :اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ
السلام پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ
السلام کی دعا قبول فرمائی، آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا۔ مچھلی کے پیٹ میں بھی
توجہ الی الله، رضا بالقضاء اور ذکر الہی کی توفیق بخشی۔ خاص فضل فرما کر مچھلی کے
پیٹ سے نجات دی۔ آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین
کے گروہ میں اعلیٰ درجہ عطا فرمایا۔جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا:
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ
وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا
جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا
تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا
جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ (پ29،سورۃ قلم :48تا 50)
(2)آپ علیہ الصلاۃ والسلام پر وحی
نازل ہوتی تھی: حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام پر جدا گانہ
کوئی صحیفہ یا کتاب نازل نہیں ہوئی البتہ وحی کے ذریعے بعض احکام آپ علیہ الصلوۃ
والسلام پر نازل ہوئے۔(سیرت الانبیاء ،ص492،مکتبۃ
المدینہ )
اللہ
عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ
كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ
اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ
الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ
اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد
پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے
بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد
کو زبور عطا فرمائی۔ (پارہ 6، سُورۃ
النساء ،آیت 163)
(3)آپ علیہ الصلوۃ والسلام مچھلی کے پیٹ میں :اللہ عزوجل قرآن کریم میں
ارشاد فرماتا ہے :
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو
ملامت کرتا تھا۔(پ23،سورۃ الصفت:142)
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا۔ جب
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی
مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا
کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے
جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ
نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو
تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم
نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔(پارہ23، تفسر صراط الجنان ،تحت
الایہ 142)
(4)آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے
کدو کا پیڑا:اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ
اگایا۔(پ23،سورۃ الصفت:146)
وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ: اور ہم نے اس پرکدو کا
پیڑ اگادیا۔ جس جگہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مچھلی کے پیٹ سے
باہرتشریف لائے وہاں کوئی سایہ نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں
مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے
روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
دہنِ مبارک میں دے کر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو صبح و شام دودھ پلا
جاتی یہاں تک کہ جسم مبارک کی جلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال
اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔(تفسیر صراط الجنان ،پ23، سُورۃ
الصافات ،آیت146)
خادم
حسین (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی رضی اللہ عنہ ،کراچی ،پاکستان)
اللہ پاک
نے انسانیت کی ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ بندوں کو منصب نبوت ورسالت سے سرفراز
فرمایا تاکہ وہ پیغام الہی کو دنیا تک پہنچائیں یہ مقدس گروہ ہمیشہ کلمہ حق کی تبلیغ
میں مصروف رہا اور ہر طرح کی تکلیف کے سامنے ہمت و استقامت کا کوہ ہمالہ بنا رہا
اور حق تبلیغ ادا کرتارہا لیکن انکی قومیں بات ماننے کی بجائے جانی دشمن بن گئیں
ان ہی امتوں میں حضرت یونس علیہ السلام کی امت بھی ہے جس کے حالات کو قرآن پاک میں
متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔
آپ عَلَیْہِ
السَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ
السَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور
صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ
کے کنارے پر واقع تھی ۔( صراط الجنان )
رب تعالیٰ فرماتا ہے :
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(الصفت:139)
اور قوم یونس
کے متعلق فرمایا :
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (یونس:98)
یہ لوگ
موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے
حضرت یونس عَلَیْہِ السلام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان
لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی تکذیب
کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس
میں کہا کہ حضرت یونس السَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ
رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ
لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی تو آپ عَلَیْہ السَّلَام وہاں سے تشریف لے
گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک
بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین
ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے آپ کو تلاش کیا اور نا پایا پھر اپنے جرائم
سے توبہ کی اور دین یونس علیہ السلام پر ایمان لائے تو اللہ نے ان سے عذاب اٹھا دیا
( ۔صراط الجنان )
آپ علیہ
الصلاۃ والسلام بستی سے ہجرت کرکے کشتی پر سوار ہوئے رب تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(الصفت:140)
حضرت آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب
کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ علیہ السلام نے قصد سفر کیا اور بھری
کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے
کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا
ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ
اندازی کی گئی توا س میں آپ عَلَیہ السَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ
السَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ علیہ السَّلَام پانی میں
ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں
غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( صراط الجنان)
پھر آپ علیہ السلام کی حفاظت کے لیے باذن الہی
مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ ایک عرصے تک مچھلی کے پیٹ میں سلامت رہے پھر رب
تعالیٰ سے نجات کی دعا کی جو قبول ہوئی ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃا لانبیاء:87)
چونکہ آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا
انتظار نہ کیا تھا اس وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں
کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی
تاریکی ، ان اندھیروں میں آپ نے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! تیرے سوا کوئی معبود
نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن
اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( صراط الجنان )
حضرت سیدنا
یونس علیہ السّلام کے واقعہ سے یہ بھی سبق حاصل ہوا کہ مشکلات میں جزع و فزع کی
بجائے رب العالمین کی بارگاہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
الله کریم
کے تمام انبیا کرام بڑی شان والے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے بڑے بڑے معجزات عطا
فرمائے جن میں ایک نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہے جن کا مچھلی والا واقعہ بہت
مشہور ہے۔
الله کریم
نے آپ کا تذکرہ اس طرح فرمایا :
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃ
الصفت:139،140)
تفسیر صراط الجنان:وَ اِنَّ
یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔یہاں سے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا
واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ
ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب
ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل
کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے
کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور
اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ
کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت
الآیۃ: ۱۳۹، ۷
/ ۴۸۶)
اِذْ اَبَقَ: جب وہ نکل گیا۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم
کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے
گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو
قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ
الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا
کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ
السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا
تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔
سورۃ
الانبیاء میں آپ مچھلی کا واقعہ کچھ تفصیل سے بیان فرمایا اور وہ دعا بھی بتائی جو
آپ علیہ السلام نے اس مچھلی کے پیٹ میں مانگی تھی ۔
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء:87)
تفسیر صراط الجنان:وَ ذَا
النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ یہاں سے حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت
مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا
کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض
اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا،
وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے
پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے
سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی
قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت
الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
مقبول دعائیہ کلمات: حضرت
سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’حضرت یونس نے مچھلی کے پیٹ میں جب دعا
مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو
مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول
فرماتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵ / ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ہر غم اور خوشی میں اپنی
طرف رجوع کرنے والا بنائے آمین۔
محمد
سبطین رضا عطاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ، کراچی، پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام جنہیں قرآنِ مجید میں"ذوالنون" (مچھلی والے) کے لقب سے بھی یاد
کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک تھے۔ آپ کو ایک ایسی قوم
کی طرف بھیجا گیا جو گمراہی اور نافرمانی میں مبتلا تھی۔ آپ نے انہیں توحید اور نیکی
کی دعوت دی، لیکن جب انہوں نے آپ کی بات نہ مانی تو آپ ان سے ناراض ہو کر بستی
چھوڑ گئے۔حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ صبر، توبہ، اور اللہ پر کامل بھروسے کی ایک
عظیم مثال ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی اللہ سے رجوع کرنا
ہی نجات کا راستہ ہے۔
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(پ11،سورۃ یونس:98)
فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم
نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ
توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ
قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی
وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں
رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا
حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں
نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی
توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت
عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا
دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے
والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ
کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲
/ ۳۳۵-۳۳۶)
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون
کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح
فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے
قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی
توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب
کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد
توبہ قبول ہوسکتی ہے۔
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب
اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین
تھا۔ (پ29،قلم:48)
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبر کرو۔
یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کفار کو مہلت دینے
اور ان کے خلاف آپ کی مدد کو مُؤخّر کرنے کے معاملے میں آپ اپنے رب
عَزَّوَجَلَّ کے حکم کا انتظار کریں اور ان کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر صبر
کریں ۔( خازن، ن، تحت الآیۃ: ۴۸، ۴ / ۳۰۱، مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۴۸، ص۱۲۷۱،
ملتقطاً)
وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ: اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا۔
اس آیت ا ور اس کے بعد والی دو آیات کے شانِ نزول کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ
جب اُحد کے میدان میں تاجدارِ رسالت ﷺ نے
پیٹھ پھیر کر بھاگنے والے مسلمانوں کے خلاف دعا کرنے کا اراد ہ فرمایا تو یہ آیات
نازل ہوئیں اور ایک قول یہ ہے کہ جب حضورِ اقدس ﷺ نے ثقیف والوں کے خلاف دعا کا ارادہ فرمایا تو یہ آیات نازل ہوئیں اور
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم پر جلدی عذاب نازل کرنے کے معاملے میں مچھلی والے کی طرح
نہ ہونا تاکہ کہیں ان کی طرح آپ بھی آزمائش میں مبتلاء نہ ہو جائیں اور وہ وقت یاد
کریں جب اُس نے اِس حال میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کوپکارا کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں
بہت غمگین تھا۔یاد رہے کہ یہاں مچھلی والے سے مراد حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام ہیں۔(تفسیرکبیر، القلم، تحت الآیۃ: ۴۸، ۱۰ / ۶۱۶، خازن، ن، تحت الآیۃ: ۴۸، ۴
/ ۳۰۱، مدارک، القلم، تحت الآیۃ: ۴۸، ص۱۲۷۱، ملتقطاً)
Dawateislami