توحید اسلام کا سب سے بنیادی اور عظیم عقیدہ ہے۔ تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام کی دعوت کا مرکز یہی تھا کہ انسان صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں توحید کی تعلیم کو عام فرمایا اور امت کو یہی پیغام دیا کہ کامیابی، نجات اور فلاح صرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننے میں ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں توحید کی اہمیت کو بار بار بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے توحید کو دین کی بنیاد قرار دیا اور ہر اس عقیدے اور عمل سے منع فرمایا جو شرک کی طرف لے جانے والا ہو۔

دینِ اسلام کی بنیاد :نبی کریم ﷺ نے سب سے پہلے اپنی امت کو توحید کی دعوت دی۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت آپ ﷺ نے فرمایا:فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُترجمہ: سب سے پہلے انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔(صحیح بخاری، حدیث: 7372)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کی اصل بنیاد توحید ہے۔ تمام عبادات اور نیک اعمال کی قبولیت اسی عقیدے پر موقوف ہے۔

ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے اسلام کی بنیاد بیان کرتے ہوئے فرمایا:بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِترجمہ: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے، جن میں پہلی گواہی یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔(صحیح بخاری، حدیث: 08)

اللہ تعالیٰ کا بندوں پر سب سے بڑا حق :نبی کریم ﷺ نے توحید کی اہمیت اس انداز سے بھی واضح فرمائی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بندوں پر سب سے بڑا حق ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًاترجمہ: اللہ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔(صحیح بخاری، حدیث: 2856)

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور حقیقی بندگی اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب انسان ہر قسم کے شرک سے بچے۔

شرک کی سخت مذمت :نبی کریم ﷺ نے شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا:أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ قَالَ: أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَترجمہ: کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کا شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث: 4477)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت میں کسی کو شریک کرنا سب سے بڑا ظلم اور سب سے خطرناک گناہ ہے۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے امت کو ہمیشہ خالص توحید پر قائم رہنے کی تعلیم دی۔

توحید کی فضیلت اور جنت کی بشارت :احادیثِ مبارکہ میں توحید پر قائم رہنے والوں کے لیے عظیم خوش خبریاں بیان کی گئی ہیں۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ ترجمہ: جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرام فرما دیتا ہے۔(صحیح مسلم، حدیث: 32)

ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَترجمہ: جو اس حال میں فوت ہو کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح مسلم، حدیث: 26)

اسی طرح آپ ﷺ نے "لا إله إلا الله" کو سب سے افضل ذکر قرار دیتے ہوئے فرمایا:أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّه ترجمہ: سب سے افضل ذکر لا إله إلا الله ہے۔(سنن ترمذی، حدیث: 3383)

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ توحید اسلام کی روح، دین کی بنیاد اور تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام کی مشترکہ دعوت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں سب سے زیادہ اسی عقیدے کی دعوت دی۔ آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک کرنا سب سے بڑا گناہ ہے، جبکہ خالص توحید پر قائم رہنا جنت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا سبب ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھے، اسی کی عبادت کرے اور ہر قسم کے شرک سے بچتا رہے۔