انسانیت کی
سب سے بڑی ضرورت عقیدۂ توحید ہے۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام اسی دعوت کو لے
کر آئے، مگر نبی کریم ﷺ نے جس وضاحت اور حکمت کے ساتھ توحید بیان فرمائی
وہ بے مثال ہے۔ آپ ﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ مخلوق کو
خالق سے جوڑ دیا جائے۔مکہ میں شرک کا اندھیرا تھا۔ لوگ لات، منات، عزیٰ اور ہبل کے
بتوں کو پوجتے تھے۔
اللہ تعالیٰ
نے اپنے حبیب ﷺ کی زبان سے توحید کا سب سے جامع تعارف سورۃ
الاخلاص میں کروایا:
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ
كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)
ترجمۂ
کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس کی کوئی اولاد
اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔(سورۃ الاخلاص: 1-4)
یہ چار آیتیں
شرک کی ہر قسم کو جڑ سے کاٹ دیتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے
دعوت میں ہمیشہ توحید کو پہلے نمبر پر رکھا۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن
کا گورنر بنا کر بھیجتے وقت فرمایا: فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا
تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُترجمہ: سب
سے پہلے انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (صحیح البخاری،
کتاب الزکاۃ، حدیث نمبر: 1395)
اس سے
معلوم ہوا کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ سب بعد میں ہیں، اصل بنیاد کلمۂ توحید ہے۔
آپ ﷺ نے
شرک کے ہر راستے کو بند فرمایا۔ غیر اللہ کی قسم سے منع کیا: مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَترجمہ: جس نے غیر اللہ کی
قسم کھائی اس نے شرک کیا۔ (سنن ابی داود، حدیث نمبر: 3251)
ایک شخص
نے کہا: "مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ" جو
اللہ چاہے اور آپ چاہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: أَجَعَلْتَنِي لِلَّهِ نِدًّا قُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ ترجمہ: کیا
تم نے مجھے اللہ کا شریک ٹھہرا دیا؟ کہو جو اکیلا اللہ چاہے۔ (مسند احمد، حدیث
نمبر: 1965)
آپ ﷺ کی
ساری زندگی اس آیت کی عملی تفسیر تھی:
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ
مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ(۱۶۲)
ترجمہ
کنزالایمان: تم فرماؤ
بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے
جو رب سارے جہان کا ۔ (سورۃ الانعام: 162)
یہی وہ
توحید ہے جس نے صحابہ کو بدر و حنین میں سرخرو کیا اور قیصر و کسریٰ کے محلات میں
کلمہ بلند کیا۔ جب دل میں اللہ کی کبریائی بیٹھ جائے تو پھر نہ کسی کا خوف رہتا ہے
نہ کسی سے امید۔ یہی آزادی ہے اور یہی بندگی کا کمال ہے۔
Dawateislami