توحید
اسلام کی اصل، تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کا مرکز، اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات
کی بنیاد ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صرف عقلی گفتگو سے نہیں بلکہ اپنے ارشادات، دعاؤں،
تعلیمات اور عملی تربیت کے ذریعے واضح فرمایا کہ عبادت، خوف، امید، دعا، استعانت
اور کامل بندگی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے۔ اسی لیے احادیثِ نبویہ میں توحید کبھی
عقیدے کی اصل کے طور پر، کبھی اسلام کی بنیاد کے طور پر، اور کبھی بندے کے نجات
پانے کے سب سے بڑے سبب کے طور پر بیان ہوئی ہے۔ ذیل میں احادیث اسی حقیقت کو نہایت
روشن انداز میں بیان کرتی ہیں۔
(1) بندوں پر اللہ کا حق:عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ
النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ
عُفَيْرٌقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:يَا مُعَاذُ، هَلْ
تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ: أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا
ترجمہ:حضرت
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:اے معاذ! کیا تم
جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر
جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا:یہ کہ وہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز
کو شریک نہ ٹھہرائیں۔(صحیح بخاری حدیث نمبر2856)
اس حدیث
سے واضح ہوتا ہے کہ سب سے پہلا اور سب سے بڑا اللہ کا حق انسان پرخالص توحید ہے۔ یعنی
اللہ تعالیٰ نے بندوں سے سب سے پہلے مال، عبادت کی کثرت یا نفل اعمال نہیں مانگے
بلکہ یہ مطالبہ فرمایا کہ عبادت صرف اسکی کی جائے اور شرک سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ یہی
تمام دین کی بنیاد ہے۔
( 2) اسلام کی بنیاد توحید پر ہے:عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، عَلَى أَنْ
يُعْبَدَ اللَّهُ وَيُكْفَرَ بِمَا دُونَهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ،
وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ
ترجمہ:حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد
پانچ چیزوں پر ہے: صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کے سوا ہر معبود کا انکار کیا
جائے، نماز قائم کی جائے، زکوٰۃ دی جائے، بیت اللہ کا حج کیا جائے اور رمضان کے
روزے رکھے جائیں۔(صحیح مسلم حدیث نمبر: 16)
اس حدیث میں
نبی کریم ﷺ نے واضح کر دیا کہ اسلام کے تمام ارکان سے پہلے اللہ وحدہٗ لا شریک کی
عبادت اور غیر اللہ کی نفی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ بھی
اسی وقت معتبر ہیں جب بنیادِتوحید صحیح ہو۔
( 3) کرب کے وقت نبی ﷺ کی توحیدی
دعا:عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ
عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو
بِهِنَّ عِنْدَ الْكَرْبِ:لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ، لَا
إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ
السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِترجمہ:حضرت ابن عباس سے
روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سخت پریشانی کے وقت یہ دعا پڑھتے تھے:اللہ کے سوا کوئی
معبودِ بر حق نہیں، وہ عظمت والا، بردبار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں،
وہ عرشِ عظیم کا رب ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، وہ آسمانوں اور عرشِ
کریم کا رب ہے۔(صحیح بخاری حدیث نمبر: 7431)
یہ حدیث
بتاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شدید پریشانی اور کرب کے وقت بھی توحید ہی کو پکارا۔ اس
سے معلوم ہوا کہ دعا، فریاد، امید اور مدد طلب کرنے کا حقیقی مرکز صرف اللہ تعالیٰ
ہے۔ یہی توحیدِ دعا اور توحیدِ استعانت کی عملی تعلیم ہے۔اللہ پاک ہمیں ہمیشہ توحید
پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔
Dawateislami