اسلام کے بنیادی عقائد میں سب سے پہلا، اہم اور عظیم عقیدہ توحیدہے۔ توحید کا معنیٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور افعال میں یکتا و بے مثل ہے۔ اس جیسا کوئی نہیں، نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کی صفات میں۔ اللہ تعالیٰ ہی خالق، مالک، رازق اور عبادت کے لائق ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اس جیسا مانے یا اس کی خدائی میں شریک سمجھے تو یہ شرک کہلاتا ہے، جو سب سے بڑا گناہ ہے۔قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے بار بار اپنی وحدانیت کو بیان فرمایا اور شرک کی سخت مذمت فرمائی۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔( پ30، سورۃ الاخلاص ،1تا4)

ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠(۱۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان۔ (پ2، سورۃ البقرۃ:163)

اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور اختیار میں بھی اکیلا ہے۔ کوئی اس کا مددگار نہیں۔ ارشادِ ربانی ہے:

اللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ وَّهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ(۶۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (پ24، سورۃ الزمر:62 )

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والوں کے بارے میں فرمایا:

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍۘ-وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ

ترجمۂ کنزالایمان: بے شک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں اللہ تین خداؤں میں کا تیسرا ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں۔( پ6، سورۃ المائدہ:73 )

توحید کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرے، اسی سے دعا مانگے اور اسی کی عبادت کرے۔ قرآنِ پاک میں ہے:فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ

ترجمۂ کنزالایمان: تو اے محبوب! یقین جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (پ26، سورۃ محمد:19 )

حضرت علّامہ ابراہیم باجوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور افعال میں یکتا ہے۔ اس کی ذات کسی جز سے مرکب نہیں اور اس کی صفات بے مثال ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا علم، قدرت، سمع اور بصر کامل اور ذاتی ہیں، جبکہ مخلوق کی صفات عطائی، محدود اور فانی ہیں۔ مثال کے طور پر انسان بھی سنتا اور دیکھتا ہے لیکن اس کا سننا اور دیکھنا اللہ کے عطا کرنے سے ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا سننا اور دیکھنا قدیم، ذاتی اور کامل ہے۔ یہی فرق توحید اور شرک کے درمیان ہے۔اگر انسان عقیدۂ توحید کو مضبوطی سے تھام لے تو اس کی زندگی سنور جاتی ہے۔ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف رجوع کرتا ہے، اسی سے امید رکھتا ہے اور اسی سے ڈرتا ہے۔ توحید ایمان کی بنیاد اور نجات کا راستہ ہے۔ بغیر عقیدۂ توحید کے کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ اسی لئے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ایک مانے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے اور ہمیشہ خالص اسی کی عبادت کرے۔(ابراہیم الباجوری، تحفۃ المرید علی جوہرۃ التوحید، بابُ التوحید)