اسلام کی بنیاد جس عظیم عقیدے پر قائم ہے وہ عقیدۂ توحید ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے انسان کو بندوں کی غلامی سے نکال کر صرف ایک اللہ تعالیٰ کی بندگی کا شعور عطا کیا۔ تاریخِ انسانیت کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی انسان گمراہی، شرک اور باطل نظریات میں مبتلا ہوا تو اللہ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ انسانیت کو خالص توحید کی طرف بلائیں۔ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا مرکزی نقطہ یہی تھا کہ انسان صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور اسی کو کائنات کا حقیقی مالک، خالق اور معبود سمجھے۔ نبی کریم  ﷺ نے بھی مکہ کے مشرکانہ ماحول میں سب سے پہلے جس پیغام کو بلند فرمایا وہ توحید ہی کا پیغام تھا۔ یہی عقیدہ انسان کے دل کو پاکیزگی، اعمال کو اخلاص اور معاشرے کو عدل و مساوات عطا کرتا ہے۔

توحید لغوی اعتبار سے "ایک ماننے" کے معنی میں آتا ہے، جبکہ شرعی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کو ذات، صفات، عبادات اور اختیارات میں یکتا ماننے کا نام توحید ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔ (سورۃ الاخلاص: 1-2)

یہ مختصر سورت عقیدۂ توحید کا جامع خلاصہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور بے نیازی کو بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک بنیادی طور پر اسی عقیدے کی تبلیغ فرمائی۔ کفارِ مکہ بتوں کی پوجا کرتے، فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے اور مختلف معبودانِ باطلہ کے سامنے جھکتے تھے، مگر حضور اکرم ﷺ نے نہایت استقامت کے ساتھ اعلان فرمایا کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔

قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہ بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی فرماتے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی کو پوجو۔ (سورۃ الانبیاء: 25)

تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت ایک ہی تھی، یعنی خالص توحید کی دعوت۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے قول و عمل سے اس عقیدے کو نہ صرف واضح فرمایا بلکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں اسے راسخ بھی کر دیا۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا:فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُترجمہ: سب سے پہلے انہیں اس بات کی دعوت دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔(صحیح البخاری، کتاب الزکاۃ، أخذ الصدقة من الأغنياء، حدیث نمبر: 1395)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلامی دعوت کی بنیاد سب سے پہلے توحید ہے۔ اگر عقیدہ درست نہ ہو تو اعمال کی عمارت بھی مضبوط نہیں رہتی۔

مکی دور میں کفار نے نبی کریم ﷺ کی شدید مخالفت کی، کیونکہ توحید کا پیغام ان کے باطل معبودوں، قبائلی غرور اور معاشی مفادات کے خلاف تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ حضور ﷺ کچھ نرمی اختیار کریں، مگر قرآنِ مجید نے دو ٹوک اعلان فرمایا:لَكُمْ دِیْنُكُمْ وَ لِیَ دِیْنِ۠(۶)

ترجمہ کنزالایمان: تمہیں تمہارا دین اور مجھے میرا دی۔(سورۃ الکافرون: 6)

نبی کریم ﷺ نے ہر قسم کے شرک کی تردید فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَدْعُو مِنْ دُونِ اللَّهِ نِدًّا دَخَلَ النَّارَترجمہ: جو اس حال میں مرا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا تھا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔(صحیح البخاری، کتاب التفسیر، باب قوله تعالى فلا تجعلوا لله أنداداً، حدیث نمبر: 4497)

عقیدۂ توحید انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ جب بندہ صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرتا اور اسی پر بھروسہ کرتا ہے تو اس کے اندر خود اعتمادی، صبر، قناعت اور اخلاص پیدا ہوتا ہے۔ توحید انسان کو ظاہری طاقتوں کے خوف سے آزاد کرتی ہے۔ اسی طرح ایک توحیدی معاشرہ عدل، مساوات، بھائی چارے اور اتحاد کا گہوارہ بنتا ہے، کیونکہ سب انسان ایک اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُترجمہ: سب سے افضل ذکر “لا إله إلا الله” ہے۔

(سنن الترمذی، کتاب الدعوات، باب ما جاء في فضل التهليل، حدیث نمبر: 3383)

آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ وہ توحید کے حقیقی مفہوم کو سمجھے اور اپنی زندگیوں میں اسے نافذ کرے۔ مسلمانوں کی کمزوری، انتشار اور زوال کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے عقیدے کی روح کو کمزور کر دیا ہے۔ اگر امت دوبارہ قرآن و سنت کی تعلیمات اور عقیدۂ توحید کو مضبوطی سے تھام لے تو عزت و سربلندی دوبارہ حاصل ہو سکتی ہے۔

توحید تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی مشترکہ دعوت اور اسلام کی اساس ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں اسی عقیدے کی تبلیغ فرمائی اور انسانیت کو شرک کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے نور سے روشناس کرایا۔ عقیدۂ توحید نہ صرف انسان کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے بلکہ اس کے کردار، اخلاق اور معاشرت کو بھی پاکیزگی عطا کرتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان خالص توحید کو سمجھیں، اس پر عمل کریں اور اپنی نسلوں تک اس پیغام کو پہنچائیں، کیونکہ دنیا و آخرت کی کامیابی صرف اسی میں مضمر ہے۔