اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا عقیدہ اسلام کی بنیاد اور دین کا سب سے پہلا رکن یہ ہےکہ۔ حضور نبی کریم  ﷺ نے پوری زندگی اسی عقیدے کی دعوت دی اور شرک کی ہر قسم سے امت کو بچایا۔ آپ ﷺ کا بیان کردہ توحید کا تصور نہایت واضح، سادہ اور دل میں اتر جانے والا تھا۔ آپ نے کبھی فلسفیانہ موشگافیوں میں الجھائے بغیر عام فہم انداز میں سمجھایا کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی خالق، مالک، رازق اور حاجت روا ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کی زبان مبارک سے توحید کا اعلان یوں کروایا ہے۔

اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ وہ اللہ ہے وہ ایک ہے ۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔(سورۃ الاخلاص، آیت 1-4)

یہ سورت مبارکہ توحید کا سب سے جامع اور مختصر بیان ہے جسے حضور صلی اللّہ علیہ وسلم نے بار بار صحابہ کرام علیہم الرضوان کو سکھایا اور فرمایا کہ یہ تہائی قرآن کے برابر ہے۔

حدیثِ فضیلتِ سورۃ اخلاص : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات سے عاجز ہے کہ رات میں تہائی قرآن پڑھ لے؟ صحابہ پر یہ گراں گزرا تو آپ نے فرمایا: قل ھو اللہ احد تہائی قرآن کے برابر ہے۔ حضور ﷺ نے توحید کی دعوت کو اپنی بعثت کا مقصد قرار دیا۔(صحیح بخاری، کتاب فضائل القرآن، باب فضل قل ھو اللہ احد، حدیث نمبر5013)

حدیثِ دعوتِ توحید :حضرت ابوہریرہ رضی اللّہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی نہ دے دیں اور مجھ پر اور جو میں لایا ہوں اس پر ایمان نہ لے آئیں۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الامر بقتال الناس حتی یقولوا لا الہ الا اللہ، حدیث نمبر 21)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کی ساری جدوجہد کا محور کلمہ توحید تھا۔ آپ ﷺ نے شرک کی باریک سے باریک صورت سے بھی منع فرمایا۔

اس حدیث میں حضور نے واضح فرما دیا کہ نفع نقصان کا مالک صرف اللہ ہے، کسی دھاگے، پتھر یا تعویذ میں کوئی طاقت نہیں۔ لیکن یاد رہے کہ حقیقتاً نفع و نقصان کا مالک اللہ تبارک وتعالیٰ ہی ہے اور اللہ پاک چاہے تو دم جھاڑ اور تعویذ جو قرآن و حدیث کے خلاف نہ ہوں اور اس میں کوئی شرکیہ الفاظ بھی نہ ہوں تو وہ جائز ہوگا اور اس میں اللّہ پاک کی طرف سے نفع و نقصان بھی ہوسکتا ہے ۔

آیتِ اعلانِ توحید :اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ توحید کا اعلان یوں کریں: قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ

ترجمہ کنز العرفان::تم فرماؤ میں تو تم جیسا ایک بشر ہوں میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ (سورۃ الکہف، آیت 110)

اس آیت میں نبی کریم ﷺ کی بشریت کے ساتھ آپ کا اصل پیغام توحید بیان ہوا ہے۔ حضور ﷺ نے ہر نماز کے بعد، ہر دعا میں اور ہر موقع پر اللہ کی وحدانیت کا درس دیا۔

حدیثِ افضل ذکر :حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: افضل ذکر لا الہ الا اللہ ہے۔ یہی وہ کلمہ ہے جس کی بنیاد پر جنت و دوزخ کا فیصلہ ہوگا۔ (جامع ترمذی، ابواب الدعوات، باب ما جاء فی فضل التسبیح والتحمید، حدیث نمبر 3464 )

حضور نبی کریم ﷺ کا بیان کردہ توحید کا تصور عمل سے جڑا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ صرف زبان سے لا الہ الا اللہ کافی نہیں بلکہ دل سے یقین اور اعضا سے عمل بھی ضروری ہے۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص سچے دل سے لا الہ الا اللہ کہے وہ جنت میں داخل ہوگا۔(مسند احمد، جلد 5، صفحہ 236، حدیث نمبر 21857)

اس سے معلوم ہوا کہ توحید کا نبوی بیان محض نظریہ نہیں بلکہ مکمل نظام حیات ہے جس میں عقیدہ، عبادت، اخلاق اور معاملات سب اللہ کی رضا کے تابع ہو جاتے ہیں۔ یہی وہ توحید ہے جس کی دعوت تمام انبیاء کرام علیہم السلام نے دی اور جسے خاتم النبیین ﷺ نے اپنے قول و عمل سے دنیا پر واضح فرما دیا۔