عبدالرحمن
عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی ،لاہور،پاکستان)
توحید صرف
ایک نظریہ ہی نہیں بلکہ توحید ساری کائنات کے ایمان کی اصل اور بنیاد ہے ایک اللہ
وحدہ لا شریک پر ایمان لانا انسان کو ہر خوف اور دباؤ سے آزاد کر کے صرف اپنے
خالق کے سامنے سر جھکانے پر زور دیتا ہے جو سب سے اعلی اور بے شریک ہے اللہ تبارک
تعالی کی وحدانیت ایسی چیز ہے کہ جس کو خود رب کریم نے اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم سے فرمایا:
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱) ترجمہ کنزالعرفان: تم فرماؤ وہ اللہ ایک ہے ۔(پ30 ، سورۃ112، آیت: 1)
اب ہم اسی
توحید کو نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی زبانی سنتے ہیں:
(1) جان و مال کی حفاظت:عَنْ اَبِيْ عَبْدِ اللهِ طَارِقِ بْنِ اَشْیَمْ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ
: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ : مَنْ قَالَ
: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُ وْنِ اللهِ حَرُمَ مَا
لُہُ وَ دَمُہُ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ تَعَالٰى
ترجمہ :
حضرت سَیِّدُنَا ابوعبداللہ طارق بن اشیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے
، فرماتے ہیں کہ میں نے دو عالم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللہ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’جس نےلَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علاوہ
جن باطل خداؤں کی پوجا کی جاتی ہے ان کا انکار کیا تو اس کا مال اور جان محفوظ
ہوگئے اور اس کا حساب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سپرد ہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین،
جلد:4، حدیث نمبر:391)
(2) جہنم سے آزادی: عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی
اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ شَھِدَ أَنْ لَا
إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَأَنَّ مُحَمَّداً رَّسُوْلُ اللّٰہِ حَرَّمَ اللّٰہُ
عَلَیْہِ النّارَ
ترجمہ:
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے آقا کریم علیہ
الصلوۃ والسلام کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
اور محمدﷺ اس کے رسول ہیں اللہ نے اس پر جہنم کو حرام فرما دیا۔(صحیح مسلم ،کتاب
الایمان،باب من لقى الله بالايمان الخ، جلد: 1،صفحہ: 52، حدیث: 29)
(3) قبول
اسلام کے ثمرات: عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضيَ اللهُ
عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم قَالَ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ
النَّاسَ حَتّٰى يَشْهَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ
اللهِ وَيُقِيْمُوْا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوْا الزَّكَاةَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ
عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَآءَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ
وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ تَعَالٰى.
ترجمہ: حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمررضی اللہ
عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں
کہ اللہ پاک کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ محمد ( صلّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلّم ) اللہ پاک کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں۔ پس جب
انہوں نے یہ کام کرلیا تو انہوں نے مجھ سے اپنا خون اور مال بچالیا سوائے اسلام کے
حق کے اور ان کا حساب اللہ پاک کے ذمَّۂ کرم پر ہے۔( صحیح البخاری مترجم،کتاب الایمان،باب
فان تابوا واقاموا الصلاۃ،جلد:1 ، صفحہ نمبر: 20،حدیث نمبر 25، مکتبہ المدینہ کراچی)
(4) پہلے دعوت توحید: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ... عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ،
يَقُولُ لَمَّا بَعَثَ النَّبِيُّ ﷺ مُعَاذًا نَحْوَ الْيَمَنِ قَالَ لَهُ:
إِنَّكَ تَقْدَمُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا
تَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللَّهَ تَعَالَی۔
ترجمہ: جب
نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: "تم
اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو، لہذا سب سے پہلے انہیں اس بات کی دعوت دینا
کہ وہ اللہ کو ایک مانیں (توحید کا اقرار کریں)۔
(صحیح
بخاری ، کتاب التوحید ، باب ما جاء فِي دُعَاءِ النَّبِيِّ ﷺ أُمَّتَهُ إِلَى
تَوْحِيدِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَی،جلد:3، صفحہ نمبر : 748، حدیث نمبر 7372)
اس پرفتن
دور میں اللہ رب العزت ہمیں بھی عقیدہ توحید ورسالت پر ثابت قدمی عطا فرمائے اور نیکی
کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ٰامین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
Dawateislami