اسلام کی بنیاد جس عظیم عقیدے پر قائم ہے وہ عقیدۂ توحید ہے۔ توحید کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ذات، صفات، عبادت اور اختیارات میں یکتا مانا جائے۔ یہی تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا مرکز رہا۔ حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی  ﷺ نے بھی اپنی پوری زندگی میں عقیدۂ توحید کو نہایت واضح، جامع اور مؤثر انداز میں بیان فرمایا۔ آپ ﷺ نے انسانوں کو شرک، بت پرستی اور غیر اللہ پر بھروسہ کرنے سے روک کر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی تعلیم دی۔ نبوی تعلیمات میں توحید کو ایمان کی روح اور نجات کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

اس فرمانِ نبوی میں واضح کیا گیا کہ دنیا و آخرت کی کامیابی صرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننے میں ہے۔ مکہ مکرمہ کے کفار بے شمار بتوں کی عبادت کرتے تھے، مگر آپ ﷺ نے ہر قسم کے شرک کی نفی فرمائی۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیْۤ اِلَیْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول نہ بھیجا مگر یہ کہ ہم اس کی طرف وحی فرماتے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی کو پوجو۔ (سورۃ الانبیاء، آیت25)

حضور ﷺ نے توحید کو صرف زبانی اقرار تک محدود نہیں رکھا بلکہ عملی زندگی میں بھی اس کا درس دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ دَخَلَ الْجَنَّةَجو اس حال میں مرے کہ وہ جانتا ہو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔(صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث: 26)

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عقیدۂ توحید نجاتِ آخرت کا بنیادی سبب ہے۔ حضور ﷺ نے لوگوں کے دلوں سے غیر اللہ کا خوف نکال کر اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ پیدا فرمایا۔

ایک موقع پر حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِترجمہ:جب سوال کرو تو اللہ سے کرو اور جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو۔(جامع ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، حدیث: 2516)

یہ تعلیم دراصل توحیدِ کامل کی عملی تصویر ہے کہ بندہ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ ہی پر اعتماد کرے۔

حضور ﷺ نے شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ

ترجمہ کنزالایمان: بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے ۔(سورۃ النساء، آیت: 48)

آپ ﷺ نے لوگوں کو یہ بھی سکھایا کہ عبادت، دعا، قربانی، نذر اور سجدہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہیں۔ یہی خالص توحید ہے۔ نبوی تعلیمات نے انسان کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ واحد و قہار کی بندگی عطا کی۔

توحید اسلام کا سب سے اہم اور بنیادی عقیدہ ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں اسی پیغام کو عام فرمایا۔ آپ ﷺ نے قول و عمل دونوں کے ذریعے امت کو یہ تعلیم دی کہ عبادت، مدد، خوف، امید اور بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے۔ عقیدۂ توحید انسان کو روحانی سکون، فکری پاکیزگی اور اخروی نجات عطا کرتا ہے۔ آج بھی مسلمانوں کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ خالص توحید کو اپنائیں اور شرک و بدعات سے بچتے ہوئے سنتِ نبوی پر عمل کریں۔