اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو مبعوث فرمایا، اور تمام انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی دعوت کا بنیادی مقصد انسان کو توحیدِ الٰہی کی تعلیم دینا تھا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں عقیدۂ توحید کو نہایت واضح اور جامع انداز میں بیان فرمایا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ عبادت کا حقیقی مستحق صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہے اور اس کی ذات ہر قسم کے شریک سے پاک ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں علمِ توحید کی بڑی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے توحید کو ایمان کی اصل اور بنیاد قرار دیا۔

حضور اکرم صَلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اِنَّ اللهَ وِترٌ يُحِبُّ الوترَبےشک اللہ تعالی ایک ہے اور اکائی کو پسند کرتا ہے۔(سنن الترمذی،الرقم(453)،576/1)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضور پاک ﷺ سے عرض کی کہ آپ کی شفاعت قیامت کے دن کن خوش نصیبوں کو حاصل ہوگی فرمایا قیامت کے دن میری شفاعت سے لوگوں میں سب سے خوش نصیب وہ شخص ہوگا جس نے اپنی دل و جان سے لا الہ الا اللہ کہا ۔(رواہ البخاری(185/1)

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور عیسی علیہ السلام اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں جو اس نے بی بی مریم کی طرف القاء فرمایا اور اس کی طرف سے روح ہیں اور جنت اور دوزخ دونوں حق ہیں اللہ تعالی اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔(رواہ البخاری143/12)

مسلم شریف کی روایت میں ہے:کہ میں نے رسول پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں اللہ پاک اس پر جہنم کی اگ کو حرام فرما دے گا۔(رواہ مسلم(174/1)

امام علی رضا رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مجھے میرے والدِ محترم امام موسیٰ کاظم نے حدیث پاک بیان کی، انہوں نے اپنے والدِ محترم امام جعفر صادق سے، انہوں نے اپنے والدِ محترم امام محمد باقر سے، انہوں نے اپنے والدِ محترم امام زین العابدین سے، انہوں نے اپنے والدِ محترم حسین بن علی سے، انہوں نے اپنے والدِ محترم علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم سے، آپ فرماتے ہیں: ’’میرے حبیب اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حدیث پاک بیان فرمائی کہ جبرائیل نے مجھے روایت بیان کی کہ اللہ پاک فرماتا ہے “لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ” میرا قلعہ ہے، جس نے اسے کہا وہ میرے قلعے میں داخل ہوا، میرے عذاب سے امان میں رہا۔‘‘

یہ حدیث پاک بیان فرماتے تو پردہ چھوڑ دیا گیا اور حضرت امام علی رضا رحمۃ اللہ علیہ تشریف لے گئے، اس حدیث پاک لکھنے والے کاتب 20 ہزار سے زیادہ تھے۔(الصواعق المحرقہ، ص205)

اللہ کریم ہمیں ان فرامین مصطفی ﷺ کو سامنے رکھتے ہوئے توحید باری تعالٰی کا پرچار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین۔