اللہ
تبارک وتعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو کئی حکمتوں کے تحت مبعوث فرمایا ۔ان
میں سے ایک حکمت اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو بیان کرنا ہے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت
کو بیان کرنا تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی تبلیغ کا خاصہ اور مقصود اصلی ہے
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بھی اپنے قول و تقریر کے ذریعے اللہ تعالیٰ
کی وحدانیت کو بیان فرمایا ہے کئی احادیث میں وحدانیت کا ذکر ہے۔
(1) حدیث جبرائیل:دین کی پہلی بنیاد
توحید ہے:جیسا کہ حدیث پاک کا مفہوم ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک
مرتبہ ایک شخص حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور علیہ السلام سے
اسلام کے بارے میں سوال کیا تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ اسلام یہ
ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ
کے رسول ہیں ۔راوی فرماتے ہیں کہ جب وہ شخص چلے گئے میں کچھ دیر ٹہرا رہا تو حضور
اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اے عمر تم جانتے ہو یہ کون تھے ۔میں نے عرض کی اللہ
اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ جبرائیل امین
علیہ السلام تھے تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔(کتاب مشکاۃ المصابیح ج 1، فصل
اول باب الایمان حدیث نمبر 2)
(2) اسلام کے پانچ ارکان: سب سے
پہلا توحید :حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اسلام کی بنیاد
پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور
محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں ،نماز قائم کرنا ، زکوۃ ادا کرنا ، حج کرنااور
رمضان کے روزے رکھنا ۔( مشکاۃ المصابیح جلد 1 فصل اول حدیث نمبر 3)
(3) کلمہ توحید: ایمان کی سب سے اعلیٰ
شاخ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے
ارشاد فرمایا کہ ایمان کے چند اور ستر شاخیں ہیں ان میں سے افضل یہ کہنا ہے کہ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب سے ادنیٰ تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹانا ہے
اور غیرت بھی ایمان کی شاخ ہے ۔( کتاب مشکاۃ المصابیح جلد 1 فصل اول حدیث نمبر 4)
(4) جنت کا پہلا دروازہ توحید ہے :حضرت ابو
ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر
ہوا اور عرض کرنے لگا مجھے ایسے کام کی ہدایت فرمایئے کہ میں وہ کام کروں تو جنتی
ہوجاؤں حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ کو پوجو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ
ٹھہراؤ ،نماز قائم کرو ،زکوۃ فرض دو ، رمضان کے روزے رکھو ۔( کتاب مشکاۃ المصابیح
جلد 1فصل اول حدیث نمبر 14)
(5) اللہ تبارک وتعالیٰ کا بندوں پر
حق:حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں دراز گوش پر حضور علیہ
السلام کے پیچھے اس طرح سوار تھا کہ میرے اور آپ علیہ السلام کے درمیان پالان کی
لکڑی کے سوا کچھ نہ تھا حضور علیہ السلام نے فرمایا اے معاذ تم جانتے ہو اللہ کا
حق بندوں پر کیا ہے اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے تو میں نے کہا اللہ اور اس کے
رسول زیادہ جانتے ہیں تو حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے
کہ وہ اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق
اللہ پر یہ ہے کہ جو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہوں اس کو عذاب نہ دیں ۔(مشکاۃ المصابیح
جلد 1فصل اول حدیث نمبر 24)
حضور علیہ
السلام نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ہر مقام میں سر فہرست بیان فرمایا کہ جب حضرت
جبرائیل علیہ السلام نے اسلام کے بارے میں سوال کیا تو بھی توحید کو شروع میں بیان
فرمایا اور اسلام کی بنیادوں میں سب سے اول توحید کا ذکر فرمایا ،اسلام کے دیگر
ارکان بھی تب ہی قبول ہونگے جب بندہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لائے گا اور
اسلام کے شعبوں میں افضل و اعلیٰ شعبہ بھی توحید کو فرمایا اور اگر کسی نے عرض کیا
کہ حضور ایسا کام بتاؤ جس کے ذریعے جنت حاصل کروں تو بھی اس شخص کو سب سے پہلے
اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا حکم ارشاد فرمایا اور حضور ﷺ نے یہ
بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ
کرنا عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہے۔ حضور علیہ السلام نے بہت پیارے انداز میں اللہ
تعالیٰ کی وحدانیت کو لوگوں تک پہنچایا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں
حضور علیہ السلام کی سچی محبت عطاء فرمائے اور حضور علیہ السلام کی سنتوں پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین۔
Dawateislami