اللہ پاک
نے لوگوں کی طرف اپنے احکام سکھانے کے لیے اور لوگوں کو شرک و کفر سے نکالنے کے لیے
انبیاء اور رسول بھیجے اللہ پاک کے نبیوں میں سے ایک نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی
ہیں۔
(1) وَ اِنَّ
یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(سورۃ الصفت:139)
نام مبارک: آپ علیہ السلام کا نام
مبارک یونس بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت بھی ہیں یعنی مچھلی والےہیں۔
آپ علیہ السلام حضرت ھود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں آپ بستی نینوی کے نبی
تھے۔(سیرت الانبیاء ص۴۹۱)
(2)فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ
فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃ یونس:98)
آپ علیہ
السلام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑ نے اور توحید کی دعوت دیتے رہیں لیکن
انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے
انہیں عذاب الہی کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے قوم نے علامات عذاب
پایا سمجھ گئے کہ ضرور عذاب آے گا۔ چنانچہ شہر کے تمام لوگ خوف خداوندی سے ڈر کر
کانپ اٹھے ۔اور جنگل میں نکل گئے اور رو رو کر توبہ استغفار میں مشغول ہو گئے پس
اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔ (عجائب القرآن ص120)
اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کو بہت سارے
انعامات عطاء فرمائےتھے۔ اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات دی
آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شمار کیا۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:
(3) فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔(سورۃ الانبیاء:88)
اللہ تعالیٰ
نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی پکار سن لی اور اسے تنہائی اور
وحشت کے غم سے نجات بخشی اور
مچھلی کو
حکم دیا تو اس نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دریا کے کنارے پر
پہنچا دیا اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی مصیبتوں اور تکلیفوں سے نجات دیتا ہیں۔
(4) فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ
مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔(سورۃ الصفت:143)
اگر حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ذکر ِالٰہی کی کثرت کرنے والے اور مچھلی کے پیٹ میں
’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ پڑھنے
والے نہ ہو تے تو ضرورقیامت کے دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے۔ (صراط الجنان)
Dawateislami