اللہ
تعالٰی نے انسانوں میں سے کئی نیک ہستیوں کی عبادات و مجاہدات کو شرف قبولیت عطا
فرمائی جن میں انبیاء کرام علیہم السلام کا ذکر سر فہرست نظر آتا ہے انبیاء کرام
کو اللہ تعالٰی نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا جن میں حضرت یونس علیہ
السلام کو بھی اللہ تعالٰی نے ایک خاص رتبہ عطا فرمایا ۔
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ (صافات:139،140)
قوم کا حال: فَلَوْ لَا
كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ
یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(یونس:98)
تفسیر صراط الجنان:فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم
نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ
توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ
قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی
وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں
رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا
حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں
نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی
توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت
عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا
دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے
والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ
کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔( خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲
/ ۳۳۵-۳۳۶)
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون
کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح
فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے
قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی
توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب
کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد
توبہ قبول ہوسکتی ہے۔
اللہ پاک
سے دعا ہے کہ ہمیں حضرت یونس علیہ السلام کی قوم سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ پاک
کی بارگاہ میں سچی توبہ اور گریہ و زاری کرنے کی توفیق نصیب فرمائے آمین ۔
اللہ تعالیٰ
نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ کنزالایمان:
تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم
جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت
تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃیونس:98)
حضرتِ یونس علیہ السلام کا تعارف:آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے،
آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔
(روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: ۱۳۹، ۷ / ۴۸۶)
قوم کاواقعہ : حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ
لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت
پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے
عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں
رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے
کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے
تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت
ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں
یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ
لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن
کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے
بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں
نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے
حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ
پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں
توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔(
خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲ / ۳۳۵-۳۳۶)
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق:اس مقام پر ایک سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو اللہ
تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر الدین
رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی
توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح فرق
ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے قریب ہونے
پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی توبہ کر لی
تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب
کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد
توبہ قبول ہوسکتی ہے۔
محمّد
آفتاب(درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں جن کا ذکر قرآن مجید
میں متعدد مقامات پر آیا ہے آپ کو اللہ تعالیٰ نے نینوٰی (موجودہ عراق کے علاقے) کی
قوم کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا تھا آپ کی زندگی صبر، توبہ اور اللہ پر کامل بھروسے
کی ایک عظیم مثال ہے۔
حضرت یونس
نے اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی مگر ابتدا میں ان کی قوم نے انکار کیا
اس پر آپ ناراض ہو کر اللہ کے حکم کے بغیر ہی وہاں سے نکل گئے قرآن مجید میں اس
واقعے کو نہایت سبق آموز انداز میں بیان کیا گیا ہے وَ ذَا
النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ
فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔
(انبیاء:87)
تفسیر صراط الجنان:وَ ذَا النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ یہاں سے
حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں
نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے
تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے
علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ
اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے لیکن
آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ
نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی
تاریکی رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے
رب عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے
بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔(
مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
مقبول دعائیہ کلمات: حضرت سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے
پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ
اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵ / ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)
حضرت سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ فرماتے ہیں ہم نبی کریم ﷺ کے قریب
بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا :کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں خبر
نہ دوں کہ جب تم میں سے کسی شخص پر کوئی مصیبت یا دنیا کی بلاؤں میں سے کوئی بلا
نازل ہو اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو ا س کی مصیبت و بلا دور ہوجائے آپ ﷺ سےعرض کی گئی کیوں نہیں ارشاد فرمایا وہ چیز
حضرت یونس کی دعا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ہے۔(مستدرک،کتاب الدعاء والتکبیر
والتہلیل۔۔۔الخ،من دعا بدعوۃ ذی النون استجاب اللہ لہ،۲
/ ۱۸۳،الحدیث:۱۹۰۷)
حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے ،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
جو مسلمان اپنی بیماری کی حالت میں چالیس مرتبہ لَاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ
مِنَ الظّٰلِمِیْنَ کے ساتھ دعا مانگے ، پھر وہ اس مرض میں فوت ہوجائے تواسے شہید کا اجر دیا
جائے اور اگر تندرست ہوگیا تو اس کے تمام گناہ بخشے جا چکے ہوں گے۔( مستدرک کتاب
الدعاء و التکبیر و التہلیل الخ ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام الخ ، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث: ۱۹۰۸)
فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَعَلَیْهِ:تواس نے گمان کیا کہ ہم
اس پر تنگی نہ کریں گے۔ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں جس شخص نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ عاجز ہے وہ کافر ہے، اور یہ ایسی
بات ہے کہ کسی عام مومن کی طرف بھی اس کی نسبت کرنا جائز نہیں تو انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف یہ بات منسوب کرنا کس طرح جائز ہو گا (کہ وہ اللہ
تعالیٰ کو عاجز گمان کرتے ہیں ۔ لہٰذا اس آیت کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں پکڑنے پر
قادر نہیں بلکہ ) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ’’حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں فرمائے گا۔( تفسیرکبیر،
الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ۸
/ ۱۸۰)
حضرت یونس
علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت
کی دعوت دی مگر ابتدا میں ان کی قوم نے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ
قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں کنارے پر چھوڑ دے اس کے بعد آپ دوبارہ
اپنی قوم کی طرف گئے، اور اس بار پوری قوم ایمان لے آئی یہ ایک منفرد واقعہ ہے کہ
کسی نبی کی پوری قوم نے اجتماعی طور پر توبہ کر کے ایمان قبول کیا۔قرآن میں حضرت یونس
کو ذوالنون(مچھلی والے) کے لقب سے بھی یاد کیا گیا ہے ان کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا
ہے کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی اللہ سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ وہی نجات دینے
والا ہے صبر توبہ اور اللہ پر بھروسہ انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
آخر میں
حضرت یونس کا واقعہ قرآن کا ایک اہم حصہ ہے جو ہمیں اپنی غلطیوں پر نادم ہو کر
اللہ کی طرف رجوع کرنے اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونے کی تعلیم دیتا ہے۔
غلام
نبی (درجہ دارالحدیث مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے بکثرت انبیائے کرام علیہم السلام کو مختلف قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جن میں
حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں آپ علیہ السلام کا واقعہ بھی قرآن کریم میں موجود
ہے کہ کس طرح آپ علیہ السلام کو آپ کی قوم نے جھٹلایا تھا اور آپ نے بھی دیگر انبیاء
کرام علیہم السلام کی طرح آزمائش اور تکالیف کا سامنا کیا اس حوالے سے آپ علیہ
السلام کے حالات کی طرف چلتے ہیں۔
آپ علیہ السلام کا تعارف: آپ
عَلَیْہِ السَّلَام کا نام یونس بن متٰی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحِبُ
الْحُوْت(یعنی مچھلی والے) ہے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ السَّلَام
کی اولاد میں سے ہیں۔آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے
کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اورتوحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ
السَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے
اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب کی خبردی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے۔قوم
نے علاماتِ عذاب کا مشاہدہ کر کے بارگاہِ الٰہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب
اٹھا لیا گیا۔ ( سیرت الانبیاء صفحہ نمبر 491 )
قرآن مجید
میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی قوم کی اخلاص والی توبہ کا تذکرہ کیا :
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ کنزالایمان:
تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم
جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت
تک انہیں برتنے دیا۔ ( پارہ نمبر 11، سورۃ
یونس ،آیت نمبر 98 )
آپ علیہ السلام کو کس قوم کی طرف بھیجا
گیا تھا ؟ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہنے والی قوم کی طرف آپ کو مبعوث فرمایا ۔
عذاب ٹلنے والی دعا : طبرانی
شریف کی روایت ہے کہ شہر نینویٰ پر جب عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے اور حضرت یونس
علیہ السلام باجود تلاش و جستجو کے لوگوں کو نہیں ملے تو شہر والے گھبرا کر اپنے
ایک عالم کے پاس گئے جو صاحب ِ ایمان اور شیخِ وقت تھے اور ان سے فریاد کرنے لگے
تو انہوں نے حکم دیا کہ تم لوگ یہ وظیفہ پڑھ کر دعا مانگو یَاحَیُّ حِیْنَ لاَ حَیَّ و َیَاحَیُّ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَیَاحَیُّ لاَ
اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ چنانچہ لوگوں نے یہ پڑھ کر دعا مانگی تو عذاب ٹل گیا۔ لیکن مشہور محدث اور
صاحب ِ کرامت ولی حضرت فضیل بن عیاض علیہ الرحمۃ کا قول ہے کہ شہر نینویٰ کا عذاب
جس دعا کی برکت سے دفع ہوا وہ دعا یہ تھی کہ اَللّٰھُمَّ اِنَّ ذُنُوْبَنَا قَدْ عَظُمَتْ وَجَلَّتْ وَاَنْتَ اَعْظَمُ
وَاَجَلُّ فَافْعَلْ بِنَا مَا اَنْتَ اَھْلُہٗ وَلاَ تَفْعَلْ بِنَا مَانَحْنُ
اَھْلُہ۔( عجائب القرآن مع غرائب القرآن صفحہ نمبر 124تا125)
حماد
اسجد (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی ،کراچی،پاکستان)
آئیے قرآن مجید کے تحت آپ
علیہ السلام کا ذکر خیر کرتے ہیں:
( 1) حضرت یونس علیہ السلام رسولوں
میں سے ہیں: وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ (سورۃ صافات، آیت 139)
( 2) آپ کی قوم کی تعداد:وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے
ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ (سورۃ
صافات، آیت 147)
( 3) قوم کی نافرمانی کے باعث آپ کا
بستی سے تشریف لے جانا:اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ
الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ (سورۃ صافات، آیت 140)
( 4) مچھلی کا آپ کو نگل لینا:فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:
پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے
آپ کو ملامت کررہے تھے۔(سورۃ صافات، آیت 142)
جب حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے
نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ
خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے
میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی
کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے
غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی
کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔( روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ:
۱۴۲، ۷
/ ۴۸۷، ملخصاً)
( 5) تسبیح کی برکت سے مچھلی کے پیٹ
سے باہر نکل آنا:
فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ
بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵) ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک
اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ
اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان
میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (سورۃ
صافات، آیت143 تا 145)
حضرت سعد
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ دعا مانگی: ’’لَاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ اور جو
مسلمان اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے گا تو اس کی دعا قبول کی جائے گی۔(
ابن عساکر، حرف السین فی آبائہم، عمر بن سعد بن ابی وقاص۔۔۔ الخ، ۴۵ / ۳۸) ۔
اللہ پاک
سے دعا ہے آپ جیسی برگزیدہ ہستیوں کے وسیلے سے ہماری بے حساب بخشش و مغفرت فرمائے۔
آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
محمد
ارمان(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ جمالِ مصطفیٰ،لاہور،پاکستان)
اللہ
عزوجل نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا اور ان کی پشت سے قیامت تک آنے والی
تمام ارواح کو نکال کر ان سے عہد لیا اور فرمایا: "کیا میں تمہارا رب نہیں
ہوں؟" سب نے اقرار کیا: "ہاں، تو ہی ہمارا رب ہے۔"پھر اللہ نے نسلِ
انسانی کو حضرت آدم علیہ السلام کی صلب سے جاری کیا۔ انسان کو دنیا میں بھیجنے کے
بعد اللہ نے ہدایت کے لیے انبیاء و رُسُل بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ لوگ
کفر کے اندھیروں سے نکل کر ایمان کی روشنی کی طرف آئیں۔ان انبیاء میں حضرت یونس علیہ
السلام بھی شامل ہیں، جنہیں اللہ نے نینویٰ کی بستی کی طرف بھیجا، جو موصل کے
علاقے میں دجلہ کے کنارے واقع تھی۔ آپ کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا:ارشادِ باری
تعالیٰ ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔(صافات:139)
آپ کا نام
یونس بن متی ہے آپ حضرت ھود علیہ السلام کی
اولاد میں سے تھے۔
حضرت یونس
علیہ السلام پر کسی آسمانی کتاب یا صحیفوں کا نزول نہیں ہوا بلکہ وحیِ الٰہی کے ذریعے
مختلف احکامات آپ علیہ السلام پر نازل ہوتے جو آپ اپنی قوم تک پہنچاتے تھے۔
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے:اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳) ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب
ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم
نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب
اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (سورۃ
النساء، پارہ 4، آیت 163)
حضرت یونس علیہ السلام کا نیکی کی
دعوت دینا:
قرآنِ کریم
میں ہے:فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸) ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا
ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی
زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پ11، یونس، آیت 98)
اس مقام
پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں
ذکر فرمایا کہ اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول کی گئی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟
امام فخر
الدین رازی اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس علیہ السلام
کی قوم کی توبہ میں واضح فرق ہے، وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد
توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو
عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی
وقت ہی توبہ کر لی تھی۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ 98، 335/2-336 ملتقطاً)
اللہ
عزوجل نے قرآن مجید میں اس واقعہ کو یوں بیان فرمایا:وَ اِنَّ
یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ
اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (صافات:139تا 142)
حضرت یونس
علیہ السلام کی دعا:حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں کئی قسم کی تاریکیوں
کا سامنا ہوا جیسے دریا کی تاریکی، رات کی تاریکی، مچھلی کے پیٹ کی تاریکی۔ ان
اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے
رب! تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے، بے شک مجھ سے خطا ہوئی کہ
میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔
قرآن پاک
میں اللہ عزوجل نے اس کا ذکر فرمایا:وَ ذَا النُّوْنِ
اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی
الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (پ17، الانبیاء، 87)
اللہ
عزوجل نے حضرت یونس علیہ السلام کی پکار سن لی اور ان کی دعا کو شرفِ قبولیت سے
نوازا چنانچہ انہیں تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات دلائی اور مچھلی کو حکم دیا تو
اس نے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے کنارے لا کر اپنے پیٹ سے نکال دیا۔
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے:فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے
پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔(صافات:143،44)
مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف آوری:مچھلی نے
اللہ کے حکم سے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے کنارے آکر پیٹ سے نکال دیا اور
وہاں کوئی سایہ نہیں تھا تو اللہ پاک نے سایہ کرنے اور مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے
کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن
حضرت یونس علیہ السلام کے دہنِ مبارک میں دے کر آپ کو صبح شام دودھ پلا جاتی یہاں
تک کہ آپ کے جسمِ مبارک کی جلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال اگ
آئے اور جسم میں توانائی آئی۔ (خازن، الصافات، تحت الآیۃ 146، 27/4)
حضرت يونس علیہ السلام کی قوم میں
تشریف آوری:جب حضرت یونس علیہ السلام صحت مند ہوئے، تو ربِ کریم نے آپ کو دوبارہ سرزمینِ
موصل (نینویٰ) کے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ چونکہ وہ عذاب کے
آثار دیکھ کر پہلے ہی تائب ہو چکے تھے، اس لیے آپ کی تشریف آوری پر سب کے سب آپ علیہ
السلام پر ایمان لائے اور الٰہی رحمتوں سے فیضیاب ہوئے۔
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے:وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا
فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے
انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔ (الصافات: 147-148)
مجیب
الرحمٰن(درجہ رابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
آپ کا نام
پاک یونس بن متیٰ ہے اور چونکہ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے
اسی وجہ سے آپ کو "ذوالنون“ اور "صاحب الحوت“(یعنی مچھلی والے) بھی کہا
جاتا ہےاور یہ دونوں آپ کے القاب ہیں۔ (سیرت الانبیاء، ص491،مکتبۃالمدینہ)
حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(صافات:139)
حضرت یونس
علیہ السَّلام حضرت ہود علیہ السَّلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نینویٰ کے نبی
تھے جو موصَل کے علاقے میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ آپ علیہ السَّلام نے چالیس
سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحیدِ باری تعالیٰ کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ
علیہ السَّلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ علیہ السَّلام نے
اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذابِ الٰہی کی خبر دی اور خود وہاں سے باہر تشریف لے
گئے۔ قوم نے علاماتِ عذاب کا مشاہدہ کرکے بارگاہِ الٰہی میں توبہ کرلی تو ان سے
عذاب اٹھا لیا گیا۔(تفسیر صراط الجنان،سورۃ صافات آیت139)
حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی
سفر اور مچھلی کا نگلنا :
اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) ترجمۂ کنزالایمان: جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے
ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور
وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔( سُورۃ صفات،آیت140تا 142)
حضرت یونس
علیہ السلام اپنی قوم کی توبہ سے باخبر نہیں تھے اور جب انہوں نے دیکھا کہ قوم کو
عذاب آنے کی جو خبر دی تھی اس میں تاخیر ہوگئی ہے تو آپ علیہ السلام اپنی قوم کے کفر
و نافرمانی پراِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی
ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا
کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی
بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک
ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت
ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ
مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا
نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل
کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے
حالانکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن
وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم
جھوٹا کہہ سکتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے)
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔
جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ
نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں
نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے
لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت
کو کاٹنا۔(سیرت الانبیاء،ص495،مکتبۃالمدینہ)
یہاں ایک
اہم بات قابلِ توجہ ہےعلامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں
:’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں
سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر
دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے
قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں
سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا
اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی
بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار
کرتے۔
(سیرت الانبیاء، ص496 ، مکتبۃ المدینہ)
مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف آوری:جب حضرت یونس
علیہ السلام نے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے
نکال کر زمین میں ڈال دیا اور مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ علیہ السلام ایک
کمزور، دبلے پتلے اور نازک ہوگئے تھے۔ جیسے بچہ پیدائش کے وقت ہوتا ہے، آپ علیہ
السلام کے جسم کی کھال نرم ہوگئی تھی اور بدن پر کوئی بال باقی نہ رہا تھا۔
مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت:حضرت یونس
علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ اسی دن
یا 3 دن یا 7دن یا 20 دن یا 40 دن کے بعد آپ مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے۔
(سیرت
الانبیاء،ص 499،مکتبۃ المدینہ)
قومِ یونس کی توبہ اور رفعِ عذاب:نزول عذاب
کی خبر سن کر لوگوں نے آپس میں کہا: حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ
نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب
رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور
صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ،
بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ
عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو
آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔(سیرت الانبیاء،ص493،94، مکتبۃ المدینہ)
وقاص
محمد اسلم(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
جمالِ مصطفیٰ، لاہور،پاکستان)
اللہ تعالی
نے نوع انسانی کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ہر زمانے کے مطابق مختلف انبیاء کرام علیھم
السلام کو مبعوث فرمایا اور ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ۔ یہی وہ ہستیاں ہیں
جنہوں نے اللہ ﷻ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوۓ لوگوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کے نور کی طرف منتقل کیا اور
شریعت کے احکام سکھاۓ ۔ انہیں پاکیزہ ہستیوں
میں سے ایک ہستی حضرت یونس علی نبینا و علیہ الصلوة والسلام کی ذاتِ پاک ہے جنہیں
اللہ تعالی نے بستی نینویٰ کی طرف مبعوث فرماۓ ۔
قرآن کریم
میں کئی مقامات پر حضرت یونس اور ان کی قوم کا ذکر ہوا ۔
حضرت یونس اور ان کی قوم :اللہ ﷻ نے قرآن پاک میں
ارشاد فرمایا :
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا
ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی
زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔( پارہ 11 ، سورۃیونس ، آیت 98 )
حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم موصل کے علاقے نینویٰ میں رہتے تھے ۔ اور کفر و شرک میں مبتلا
تھے ۔ اللہ ﷻ نے حضرت یونس علیہ السلام کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ آپ نے
انہیں ایک عرصے تک بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا لیکن یہ لوگ دعوت
قبول کرنے سے انکار اور حضرت یونس علیہ السلام کی تکذیب کی راہ پر گامزن رہے ۔ طویل
عرصے تک پوری کوشش کے باوجود جب لوگ راہِ راست پر نہ آۓ تو آپ علیہ السلام نے بارگاہِ الہی میں دعا کی : اے اللہ قوم مجھے جھٹلانے
پر ہی قائم ہے پس تو ان پر عذاب نازل کر دے اس پر ان سے فرمایا گیا آپ انہیں خبر
دے دیں کہ تین دن بعد صبح کے وقت ان پر عذاب نازل ہو جاۓ گا چنانچہ آپ علیہ السلام نے ان کو عذاب کی خبر دے دی ۔( صراط الجنان تحت
الآیۃ :98 )
اسی طرح
جب حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کی مخالفت دیکھی تو وہ اللہ ﷻ کی اجازت کے
بغیر ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل گئے وہ ایک کشتی میں سوار ہوۓ لیکن جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی
ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی
غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی
گئی توا س میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ
جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔ پھر
جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام قرعہ کے بعد دریا میں ڈال دئیے گئے
تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں
جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔
مروی ہے
کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا
ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کوکاٹنایہ واقعہ
قرآن پاک کی ان آیات کے تحت ملتا ہے :
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ (۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ
اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (صافات:139تا142)
اسی طرح
کے واقعات کا ذکر قرآن مجید فرقانِ حمید میں موجود ہے جو آپ علیہ السلام اور آپ کی
قوم کے احوال ، آپ علیہ السلام کی قوم کو دین کی دعوت دینے ، آپ کے صبر واستقامت کی
عکاسی کرتے ہیں اللہ ﷻ ہمیں ان کی سیرت کو اپناتے ہوۓاور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوۓ امر
بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دینے کی توفیق نصیب فرماۓآمین بجاہ خاتم النبیّین ﷺ۔
محمد
اسماعیل (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ ،کراچی،پاکستان)
قارئین
کرام! بلاشبہ انبیاء کرام علیھم السلام کی سیرت زندگی گزارنے کا بہترین نمونہ ہوتی
ہے۔ انہی انبیاء کرام علیھم السلام میں سے مشہور نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں۔
آپ علیہ السلام کا نام "یونس بن متّٰی" ہے اور لقب "ذو النون"
اور "صاحب الحوت" ہے۔ ان دونوں القاب کا معنیٰ "مچھلی والے"
ہے چونکہ آپ کو مچھلی نے نگل لیا تھا اس لیے آپ کا یہ لقب ہوا۔ آپ کا لقب "ذو
النون" قرآن میں ذکر ہوا ہے۔
تو اللہ ﷻ نے قرآن میں فرمایا: فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان
والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (سورۃ
الانبیاء، آیت 88)
حضرت یونس
علیہ السلام کی یہ دعا تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہی چنانچہ حضرت سعد بن مالک رَضِیَ
اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’کیا میں تمہاری اللہ تعالیٰ کے اس اسمِ اعظم کی طرف
رہنمائی نہ کروں جس کے ساتھ جب بھی دعا کی جائے تو وہ قبول ہوجائے اور جب سوال کیا
جائے تو عطا ہوجائے، وہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے جو
انہوں نے اندھیروں میں تین بار کی تھی۔ ایک شخص نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ﷺ! ، یہ
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص تھی یا تمام مسلمانوں کے لیے
ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں سنا’’وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘اور اسے
غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں۔(مستدرک ، کتاب
الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ ، ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔
الخ ، 2 / 183 ، الحدیث: 1908)
واقعہ
حضرت یونس علیہ السلام سے حاصل ہونے والے اسباق: حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے
سے کئی سبق سیکھنے کو ملتے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
(1) ہر کام
میں اللہ ﷻ کے حکم کو مد نظر رکھنا چاہیے۔
(2)مشکلات
میں مایوس ہونے کی بجائے اللہ کی رحمت سے اُمید رکھنی چاہیے۔
(3) ہر
مشکل کے بعد آسانی ہے۔
(4) ذکر
الٰہی سے دل کو سکون ملتا ہے۔
اللہ پاک
ہمیں انبیاء کرام علیھم السلام کی سیرت پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔
حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور عظیم پیغمبروں میں سے ایک ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے مختلف ادوار میں انبیاءِ کرام
عَلَیْہِمُ السَّلَام کو دنیا میں بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت
کا پیغام پہنچائیں اور انہیں نیکی اور بھلائی کی طرف بلائیں۔ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ
السَّلَام نے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ میں گزاری اور لوگوں کو
سیدھے راستے پر چلنے کی دعوت دی۔ قرآنِ مجید میں کئی انبیاءِ کرام کے واقعات بیان
کیے گئے ہیں تاکہ لوگ ان کے حالات سے نصیحت حاصل کریں۔ انہی عظیم انبیاء میں حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام بھی شامل ہیں جن کا ذکر قرآنِ پاک میں کئی مقامات پر آیا ہے۔
اللہ تعالیٰ
ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔
(صافات:139،140)
تفسیر
صراط الجنان : حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کا نام یونس بن متیٰ تھا۔ آپ حضرت ہود
عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں سے تھے۔ آپ کا لقب ذُو النُّون اور صاحبُ الحوت
بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نینویٰ نامی بستی کی طرف نبی بنا کر بھیجا جو موصل
کے علاقے میں دریائے دجلہ کے کنارے واقع تھی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی
قوم کو کئی سال تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے اور بت پرستی چھوڑنے کی دعوت دی۔ آپ
نے اپنی قوم کو سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور اسی کی عبادت کرنی چاہیے، لیکن
قوم نے آپ کی بات قبول نہ کی اور مسلسل نافرمانی کرتی رہی۔
حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام نے تقریباً چالیس سال تک اپنی قوم کو تبلیغ کی مگر وہ لوگ ایمان
نہ لائے۔ آخرکار اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپ نے اپنی قوم کو خبر دی کہ اگر انہوں نے
اپنی نافرمانی سے توبہ نہ کی تو ان پر عذاب نازل ہوگا۔ جب عذاب کے آثار ظاہر ہونے
لگے تو قوم خوفزدہ ہوگئی اور انہوں نے سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے توبہ کی۔ اللہ
تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی اور ان سے عذاب ٹال دیا۔
حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام اپنی قوم کی مسلسل نافرمانی سے بہت رنجیدہ تھے۔ جب عذاب میں
تاخیر ہوئی تو آپ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے پہلے ہی وہاں سے روانہ ہوگئے۔ آپ ایک
بھری ہوئی کشتی میں سوار ہوگئے تاکہ دوسری جگہ ہجرت کرسکیں۔ جب کشتی دریا کے درمیان
پہنچی تو اچانک رک گئی۔ ملاحوں نے کہا کہ کشتی میں کوئی ایسا شخص موجود ہے جو اپنے
مالک سے بھاگ کر آیا ہے۔ انہوں نے قرعہ اندازی کی تاکہ معلوم ہوسکے کہ وہ شخص کون
ہے۔ قرعہ اندازی میں حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کا نام نکلا۔حضرت یونس عَلَیْہِ
السَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ شخص ہوں۔ چنانچہ آپ دریا میں چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ
کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا لیکن اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا
کہ وہ نہ آپ کے جسم کو نقصان پہنچائے اور نہ ہڈیوں کو توڑے۔ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام
مچھلی کے پیٹ میں بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے رہے۔ وہاں انہوں نے انتہائی عاجزی
اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی:
’’لَاۤ
اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ
كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘
ترجمۂ
کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔
یہ دعا
بہت عظیم دعا ہے۔ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کی،
اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور عاجزی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول
فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں کنارے پر پہنچا دے۔ جب حضرت یونس عَلَیْہِ
السَّلَام مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے تو آپ بہت کمزور ہوچکے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان
کے آرام کے لیے ان پر کدو کی بیل اگا دی تاکہ انہیں سایہ اور غذا مل سکے۔بعد میں
حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام دوبارہ اپنی قوم کی طرف تشریف لے گئے تو دیکھا کہ ان
کی قوم ایمان لاچکی ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت اختیار کرلی تھی اور برائیوں
سے توبہ کرلی تھی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کو کامیابی
عطا فرمائی۔
حضرت سعد
رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: مچھلی کے پیٹ میں حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی
دعا جو مسلمان مانگے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا۔
حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام کے واقعے سے ہمیں بہت سے اہم اسباق ملتے ہیں۔ اس واقعے سے
معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے اور سچی توبہ کرنے
والوں کو معاف فرماتا ہے۔ اگر انسان مشکل اور پریشانی کے وقت اللہ تعالیٰ کو اخلاص
کے ساتھ پکارے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتا ہے۔ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام
نے مچھلی کے پیٹ میں بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا اور اسی سے مدد مانگی۔ اس واقعے
سے ہمیں صبر، دعا، ذکرِ الٰہی اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھنے کا درس ملتا
ہے۔
فیضان
حیدر(درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھو کی، لاہور،پاکستان)
اللہ
عزوجل نے اپنے بندوں کو ہدایت دینے کے لیے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو
مبعوث فرمایا ہر نبی اپنی امت میں آ کر ان کو اللہ عزوجل کی وحدانیت کا درس دیتا
رہا انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام میں سے ایک اللہ کے خاص نبی حضرت یونس علیہ
الصلوۃ والسلام ہیں حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق قرآن کی پانچ آیات
پڑھنے کے ساتھ حاصل کرتے ہیں۔
(1) وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاؕ-وَ كُلًّا
فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۸۶)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور اسمٰعیل اور یسع اور یونس اور لوط کو اور ہم نے ہر ایک کو اس کے
وقت میں سب پر فضیلت دی۔ (پارہ7،سورۃ
انعام، آیت نمبر 86)
(2) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (پارہ 23، سورۃ الصافات ،آیت نمبر 139 )
(3) فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ
فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پارہ 11، سورۃ یونس، آیت نمبر 98)
(4) اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد
پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے
بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد
کو زبور عطا فرمائی۔ (پارہ نمبر 6، سورۃ
النساء، آیت نمبر 163)
(5) فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ
وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا
جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا
تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا
جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں
میں کرلیا۔ (پارہ 29، سورۃ القلم، آیت
نمبر 48 تا 50)
اللہ تعالی
ہمیں ان آیات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ خاتم النبیینﷺ۔
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے۔ آپ علیہ السلام کا نام یونس بن متی
جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے) ہے ۔ آپ علیہ السلام حضرت ہود
علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی
چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اپنے
شرک سے باز نہ آۓ ، تب آپ علیہ السلام نے
اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے ۔
قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر کے بارہ گاہ الٰہی میں سچی توبہ کرلی تو ان سے
عذاب اٹھا لیا گیا ۔
(1) نزول احکام:حضرت یونس علیہ السلام
پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا ، البتہ وحی کے ذریعے آپ علیہ
السلام پر بعض احکام نازل ہوئے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے
بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور
ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی
اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پ 6
، سورة النساء ، آیت 163)
(2) انعامات الٰہی :اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ
السلام کی دعا قبول فرمائی ۔ آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا ۔ مچھلی کے پیٹ میں بھی
توجہ الی اللہ ، رضا بالقضاء اور ذکر الٰہی توفیق بخشی ۔ خاص فضل فرما کر مچھلی کے
پیٹ سے نجات دی ۔ آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین
کے گروہ میں اعلی درجہ عطا فرمایا ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ
وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم اپنے رب کے حکم تک
صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین تھا۔ اگر اس کے رب کی
نعمت اسے نہ پالیتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتااور وہ ملامت کیا ہوا ہوتا۔ تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے
قربِ خاص کے حقداروں میں کرلیا۔ ( پ 29 ، سورة القلم ، آیت 48.49.50 )
(3) قوم پر عذاب نہیں آیا:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ ( پ 11 ، سورة یونس ، آیت 98)
(4) حضرت یونس علیہ السلام کی دعا :وَ ذَا النُّوْنِ
اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی
الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو)
جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ ( پ 17 ، سورة الانبیاء ، آیت 87 )
(5) تسبیح کی اہمیت اور مچھلی کے پیٹ سے نکلنا :فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ
بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا
نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔
پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ
بیمار تھا۔ (پ 23 ، سورة الصفت ، آیت
143.144.145)
حضرت یونس
علیہ السلام کی دل ہلا دینے والی مصیبت اور مشکلات سے یہ ہدایت ملتی ہے کہ اللہ
تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو کس کس امتحان میں ڈالتا ہے ہے ۔ لیکن جب بندے امتحان میں
پڑ کر صبر و استقامت کا دامن نہیں چھوڑتے اور عین بلاؤں کے طوفان میں بھی خدا کی یاد
سے غافل نہیں ہوتے تو ارحم الراحمین اپنے بندوں کی نجات کا غیب سے ایسا انتظام
فرما دیتا ہے کہ کوئی اس کو سوچ بھی نہیں سکتا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء
کرام علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرنےکی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
Dawateislami