قارئین کرام! بلاشبہ انبیاء کرام علیھم السلام کی سیرت زندگی گزارنے کا بہترین نمونہ ہوتی ہے۔ انہی انبیاء کرام علیھم السلام میں سے مشہور نبی حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں۔ آپ علیہ السلام کا نام "یونس بن متّٰی" ہے اور لقب "ذو النون" اور "صاحب الحوت" ہے۔ ان دونوں القاب کا معنیٰ "مچھلی والے" ہے چونکہ آپ کو مچھلی نے نگل لیا تھا اس لیے آپ کا یہ لقب ہوا۔ آپ کا لقب "ذو النون" قرآن میں ذکر ہوا ہے۔

تو اللہ ﷻ نے قرآن میں فرمایا: فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 88)

حضرت یونس علیہ السلام کی یہ دعا تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہی چنانچہ حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’کیا میں تمہاری اللہ تعالیٰ کے اس اسمِ اعظم کی طرف رہنمائی نہ کروں جس کے ساتھ جب بھی دعا کی جائے تو وہ قبول ہوجائے اور جب سوال کیا جائے تو عطا ہوجائے، وہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے جو انہوں نے اندھیروں میں تین بار کی تھی۔ ایک شخص نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ﷺ! ، یہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص تھی یا تمام مسلمانوں کے لیے ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا’’کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں سنا’’وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں۔(مستدرک ، کتاب الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ ، ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔ الخ ، 2 / 183 ، الحدیث: 1908)

واقعہ حضرت یونس علیہ السلام سے حاصل ہونے والے اسباق: حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے کئی سبق سیکھنے کو ملتے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

(1) ہر کام میں اللہ ﷻ کے حکم کو مد نظر رکھنا چاہیے۔

(2)مشکلات میں مایوس ہونے کی بجائے اللہ کی رحمت سے اُمید رکھنی چاہیے۔

(3) ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔

(4) ذکر الٰہی سے دل کو سکون ملتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں انبیاء کرام علیھم السلام کی سیرت پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ۔