حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی تھے۔ آپ علیہ السلام کا نام یونس بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے) ہے ۔ آپ علیہ السلام حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ علیہ السلام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آۓ ، تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے ۔ قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر کے بارہ گاہ الٰہی میں سچی توبہ کرلی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا ۔

(1) نزول احکام:حضرت یونس علیہ السلام پر جدا گانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا ، البتہ وحی کے ذریعے آپ علیہ السلام پر بعض احکام نازل ہوئے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اے حبیب! ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے ہم نے نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کی طرف بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کی طرف وحی فرمائی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (پ 6 ، سورة النساء ، آیت 163)

(2) انعامات الٰہی :اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی ۔ آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا ۔ مچھلی کے پیٹ میں بھی توجہ الی اللہ ، رضا بالقضاء اور ذکر الٰہی توفیق بخشی ۔ خاص فضل فرما کر مچھلی کے پیٹ سے نجات دی ۔ آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین کے گروہ میں اعلی درجہ عطا فرمایا ۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔

فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو تم اپنے رب کے حکم تک صبرکر و اور مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس نے اس حال میں پکارا کہ وہ بہت غمگین تھا۔ اگر اس کے رب کی نعمت اسے نہ پالیتی تو وہ ضرور چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتااور وہ ملامت کیا ہوا ہوتا۔ تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قربِ خاص کے حقداروں میں کرلیا۔ ( پ 29 ، سورة القلم ، آیت 48.49.50 )

(3) قوم پر عذاب نہیں آیا:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ ( پ 11 ، سورة یونس ، آیت 98)

(4) حضرت یونس علیہ السلام کی دعا :وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ ( پ 17 ، سورة الانبیاء ، آیت 87 )

(5) تسبیح کی اہمیت اور مچھلی کے پیٹ سے نکلنا :فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴) فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (پ 23 ، سورة الصفت ، آیت 143.144.145)

حضرت یونس علیہ السلام کی دل ہلا دینے والی مصیبت اور مشکلات سے یہ ہدایت ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو کس کس امتحان میں ڈالتا ہے ہے ۔ لیکن جب بندے امتحان میں پڑ کر صبر و استقامت کا دامن نہیں چھوڑتے اور عین بلاؤں کے طوفان میں بھی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے تو ارحم الراحمین اپنے بندوں کی نجات کا غیب سے ایسا انتظام فرما دیتا ہے کہ کوئی اس کو سوچ بھی نہیں سکتا ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت پر عمل کرنےکی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔