اللہ تعالی نے نوع انسانی کی ہدایت و رہنمائی کے لیے ہر زمانے کے مطابق مختلف انبیاء کرام علیھم السلام کو مبعوث فرمایا اور ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ۔ یہی وہ ہستیاں ہیں جنہوں نے اللہ ﷻ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوۓ لوگوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم کے نور کی طرف منتقل کیا اور شریعت کے احکام سکھاۓ ۔ انہیں پاکیزہ ہستیوں میں سے ایک ہستی حضرت یونس علی نبینا و علیہ الصلوة والسلام کی ذاتِ پاک ہے جنہیں اللہ تعالی نے بستی نینویٰ کی طرف مبعوث فرماۓ ۔

قرآن کریم میں کئی مقامات پر حضرت یونس اور ان کی قوم کا ذکر ہوا ۔

حضرت یونس اور ان کی قوم :اللہ ﷻ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا :

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔( پارہ 11 ، سورۃیونس ، آیت 98 )

حضرت یونس علیہ السلام کی قوم موصل کے علاقے نینویٰ میں رہتے تھے ۔ اور کفر و شرک میں مبتلا تھے ۔ اللہ ﷻ نے حضرت یونس علیہ السلام کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا ۔ آپ نے انہیں ایک عرصے تک بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا لیکن یہ لوگ دعوت قبول کرنے سے انکار اور حضرت یونس علیہ السلام کی تکذیب کی راہ پر گامزن رہے ۔ طویل عرصے تک پوری کوشش کے باوجود جب لوگ راہِ راست پر نہ آۓ تو آپ علیہ السلام نے بارگاہِ الہی میں دعا کی : اے اللہ قوم مجھے جھٹلانے پر ہی قائم ہے پس تو ان پر عذاب نازل کر دے اس پر ان سے فرمایا گیا آپ انہیں خبر دے دیں کہ تین دن بعد صبح کے وقت ان پر عذاب نازل ہو جاۓ گا چنانچہ آپ علیہ السلام نے ان کو عذاب کی خبر دے دی ۔( صراط الجنان تحت الآیۃ :98 )

اسی طرح جب حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کی مخالفت دیکھی تو وہ اللہ ﷻ کی اجازت کے بغیر ہی اپنی قوم کو چھوڑ کر نکل گئے وہ ایک کشتی میں سوار ہوۓ لیکن جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔ پھر جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام قرعہ کے بعد دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔

مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کوکاٹنایہ واقعہ قرآن پاک کی ان آیات کے تحت ملتا ہے :

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ (۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (صافات:139تا142)

اسی طرح کے واقعات کا ذکر قرآن مجید فرقانِ حمید میں موجود ہے جو آپ علیہ السلام اور آپ کی قوم کے احوال ، آپ علیہ السلام کی قوم کو دین کی دعوت دینے ، آپ کے صبر واستقامت کی عکاسی کرتے ہیں اللہ ﷻ ہمیں ان کی سیرت کو اپناتے ہوۓاور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوۓ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دینے کی توفیق نصیب فرماۓآمین بجاہ خاتم النبیّین ﷺ۔