اللہ تعالیٰ نے بکثرت انبیائے کرام علیہم السلام کو مختلف قوموں کی طرف مبعوث فرمایا جن میں حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں آپ علیہ السلام کا واقعہ بھی قرآن کریم میں موجود ہے کہ کس طرح آپ علیہ السلام کو آپ کی قوم نے جھٹلایا تھا اور آپ نے بھی دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح آزمائش اور تکالیف کا سامنا کیا اس حوالے سے آپ علیہ السلام کے حالات کی طرف چلتے ہیں۔

آپ علیہ السلام کا تعارف: آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا نام یونس بن متٰی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحِبُ الْحُوْت(یعنی مچھلی والے) ہے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ السَّلَام کی اولاد میں سے ہیں۔آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اورتوحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب کی خبردی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے۔قوم نے علاماتِ عذاب کا مشاہدہ کر کے بارگاہِ الٰہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔ ( سیرت الانبیاء صفحہ نمبر 491 )

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی قوم کی اخلاص والی توبہ کا تذکرہ کیا :

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ ( پارہ نمبر 11، سورۃ یونس ،آیت نمبر 98 )

آپ علیہ السلام کو کس قوم کی طرف بھیجا گیا تھا ؟ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہنے والی قوم کی طرف آپ کو مبعوث فرمایا ۔

عذاب ٹلنے والی دعا : طبرانی شریف کی روایت ہے کہ شہر نینویٰ پر جب عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے اور حضرت یونس علیہ السلام باجود تلاش و جستجو کے لوگوں کو نہیں ملے تو شہر والے گھبرا کر اپنے ایک عالم کے پاس گئے جو صاحب ِ ایمان اور شیخِ وقت تھے اور ان سے فریاد کرنے لگے تو انہوں نے حکم دیا کہ تم لوگ یہ وظیفہ پڑھ کر دعا مانگو یَاحَیُّ حِیْنَ لاَ حَیَّ و َیَاحَیُّ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَیَاحَیُّ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ چنانچہ لوگوں نے یہ پڑھ کر دعا مانگی تو عذاب ٹل گیا۔ لیکن مشہور محدث اور صاحب ِ کرامت ولی حضرت فضیل بن عیاض علیہ الرحمۃ کا قول ہے کہ شہر نینویٰ کا عذاب جس دعا کی برکت سے دفع ہوا وہ دعا یہ تھی کہ اَللّٰھُمَّ اِنَّ ذُنُوْبَنَا قَدْ عَظُمَتْ وَجَلَّتْ وَاَنْتَ اَعْظَمُ وَاَجَلُّ فَافْعَلْ بِنَا مَا اَنْتَ اَھْلُہٗ وَلاَ تَفْعَلْ بِنَا مَانَحْنُ اَھْلُہ۔( عجائب القرآن مع غرائب القرآن صفحہ نمبر 124تا125)