ابو
ثوبان عبدالرحمن مدنی عطاری(درجہ تخصص فی اللغۃ العربیۃ فیضان مدینہ کاہنہ نو،
لاہور،پاکستان)
توحید
اسلام کی بنیاد ہے اور یہی وہ اصل پیغام ہے جس کی دعوت تمام انبیاء کرام علیہم
السلام نے اپنی اپنی امتوں کو دی۔ نبی کریم ﷺ کی ساری تعلیمات کا مرکز بھی یہی تھا
کہ انسان صرف اللہ تعالیٰ کو ایک مانے، اسی کی عبادت کرے اور اسی کو حقیقی معبود
تسلیم کرے۔ توحید انسان کے عقیدے، عمل اور اخلاق کو سیدھا کرتی ہے۔قرآن مجید نے
توحید کو بہت واضح اور سادہ انداز میں بیان کیا ہے۔ سورۃ الاخلاص میں ارشاد ہوتا
ہے:
قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ(۱)اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ(۲)لَمْ یَلِدْ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ(۳)وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ
كُفُوًا اَحَدٌ۠(۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: وہ اللہ ایک ہے۔اللہ بے نیاز ہے۔نہ اس نے کسی کو جنم دیا
اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا۔ اور کوئی اس کے برابر نہیں ۔ (سورۃ الاخلاص ،1تا 4)
یہ مختصر
سورت پوری توحید کا خلاصہ ہے اور نبی کریم ﷺ نے اسی عقیدے کو لوگوں کے دلوں میں
راسخ فرمایا۔
اللہ تعالیٰ کا بندوں پر حق (عبادت
میں یکتائی):رسول اللہ ﷺ نے توحید کی سب سے جامع تعریف اللہ کے حقوق کے حوالے سے فرمائی،
جو کہ توحیدِ الوہیت کی اصل بنیاد ہے۔
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ ﷺَ عَلَى حِمَارٍ،
يُقَالُ لَهُ: عُفَيْرٌ، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ هَلْ تَدْرِي حَقَّ اللهِ عَلَى
عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ، قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ
أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ، وَلَا
يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ترجمہ:حضرت معاذ
رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آخری نبی ﷺ جس درازگوش (گدھے) پر سوار تھے، میں اس پر
آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ اس کا نام عفیر تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ
اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟" میں نے عرض کیا اللہ اور
اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا ”اللہ کا
حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔(صحیح
البخاری:2856)
اس حدیث میں
نبی کریم ﷺ نے نہایت سادہ اور تربیتی انداز میں توحید کی اصل حقیقت بیان فرمائی۔
اس میں واضح کیا گیا کہ انسان کی سب سے بڑی ذمہ داری اللہ کی خالص عبادت ہے اور
شرک سے مکمل اجتناب کرنا ہے۔
توحید اور اخلاص (شرکِ اصغر سے
براءت):توحید کا تقاضا ہے کہ انسان کا ہر عمل ریاکاری (دکھاوے) سے پاک ہو۔ رسول
اللہ ﷺ نے واضح فرمایا کہ توحید کی قبولیت کے لیے نیت کا خالص ہونا شرط ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: أَنَا أَغْنَى
الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي
تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ ۔
ترجمہ:رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ شریک
بنائے جانے والوں میں سب سے زیادہ میں شراکت سے مستغنی ہوں۔ جس شخص نے بھی کوئی
عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا تو میں اسے اس کے شرک کے ساتھ
اکیلا چھوڑ دیتا ہوں۔(صحیح مسلم،باب تحريم الرياء: 7475)
اس حدیث میں
نبی کریم ﷺ نے نہایت واضح انداز میں یہ حقیقت بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ صرف وہی
عمل قبول فرماتا ہے جو خالص اسی کے لیے ہو۔ اگر عبادت میں ریاکاری یا دکھاوا شامل
ہو جائے تو وہ عمل ضائع ہو جاتا ہے۔
یہی توحید
کا عملی پہلو ہے کہ انسان نہ صرف اللہ کو ایک مانے بلکہ اپنی عبادات، نیت اور
اعمال کو بھی اسی کے لیے خالص رکھے۔
شخصیت پرستی اور غلو کی سختی سے
ممانعت:توحید کی حفاظت کا سب سے بڑا مظہر یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ذات کے
بارے میں بھی امت کو کسی بھی قسم کے غلو (حد سے بڑھنے) سے سختی سے منع فرمایا،
تاکہ امت ان گمراہیوں سے بچ سکے جن کا شکار پچھلی امتیں ہوئیں۔
توحید پر قائم رہنے کی فضیلت:زمانہ نبی
کریم ﷺ نے توحید پر قائم رہنے والوں کو عظیم بشارتیں بھی عطا فرمائیں۔ حضرت عبادہ
بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: "مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا
إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِ
النَّارَ ترجمہ:جس شخص نے اس حقیقت کی گواہی دی کہ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس پر
جہنم کی آگ حرام کر دی ۔ (صحیح مسلم،کتاب الایمان، حدیث: 142)
اسی طرح ایک
اور حدیث میں آیا: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: فَإِنَّ
اللهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يَبْتَغِي
بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِترجمہ:اللہ تعالیٰ
نے اس شخص پر جہنم کو حرام کر دیا جو خلوص کے ساتھ لا إلہ إلا اللہ کہے۔ (صحیح البخاری، حدیث: 425)
یہ فضائل
اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ توحید انسان کی نجات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
نبی کریم ﷺ
نے توحید کو دین کی بنیاد قرار دیا اور اپنی تعلیمات کے ذریعے اسے ہر دل میں راسخ
کیا۔ آپ ﷺ نے نہایت حکمت کے ساتھ توحید کو واضح کیا، اس کی اہمیت بیان فرمائی،
اور شرک کے ہر پہلو سے خبردار کیا۔ ساتھ ہی توحید پر قائم رہنے والوں کو جنت اور
اللہ کی رضا کی بشارت دی۔آج بھی ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم خالص توحید کو اختیار
کریں، اپنے عقائد اور اعمال کو شرک سے پاک رکھیں، اور نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کے
مطابق اپنی زندگی گزاریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو دنیا و آخرت میں کامیابی
عطا کرتا ہے۔
Dawateislami