توحید اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے جس کامطلب ہے کہ اللہ پاک کی وحدانیت اور یکتائی پر ایمان رکھنا ہے نبی کریم  ﷺ نے اپنی نبوت کے دوران توحید کی تعلیمات کو بہت اہمیت دی ہے اور لوگوں کو اللہ پاک کی وحدانیت کی طرف بلایا۔

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہیں:روایت ہے حضرت ابن عمرسے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی ﷺ نے اسلام پانچ چیزوں پرقائم کیا گیااس کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،محمد( ﷺ )اس کےبندےاور رسول ہیں اورنمازقائم کرنا،زکوۃ دینا اور حج کرنا،اور رمضان کے روزے۔

یعنی اسلام مثل خیمہ یاچھت کے ہے اور یہ پانچ ارکان اس کے پانچ ستونوں کی طرح کہ جو کوئی ان میں سے ایک کا انکار کرے گا وہ اسلام سے خارج ہوگا،خیال رہے کہ ان اعمال پر کمال ایمان موقوف ہے اور ان کے ماننے پر نفس ایمان موقوف،لہذا جوصحیح العقیدہ مسلمان کبھی کلمہ نہ پڑھے یانماز روزہ کا پابند نہ ہو،وہ اگرچہ مؤمن تو ہے مگر کامل نہیں،اور جو ان میں سےکسی کا انکارکرے وہ کافر ہے۔(مرآۃالمناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 :حدیث: 4)

ایمان کی ستر شاخیں ہیں:روایت ہےحضرت ابوہریرہ( رضی اللہ عنہ )سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی ﷺ نے ایمان کی چنداورستّر شاخیں ہیں ان سب میں اعلٰی یہ کہنا ہے کہ ﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور سب سے ادنیٰ تکلیف دہ چیز کا راستہ سے ہٹانا ہےاور غیرت بھی ایمان کی شاخ ہے۔(مرآۃالمناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 :حدیث:5)

ایماں کا مزہ کس کو حاصل ہوتا ہے:روایت ہے عباس ابن عبدالمطلب سے فرماتے ہیں کہ فرمایا نبی ﷺ نے اس نے ایمان کا مزہ چکھ لیاجو الله کے رب ہونے،اسلام کے دین ہونے،محمد ﷺ کے نبی ہونے سے راضی ہوگیا ۔(مرآۃالمناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد 1 :حدیث:9)

روایت ہےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتےہیں کہ ایک دیہاتی حضورعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کرنے لگے کہ مجھے ایسے کام کی ہدایت فرمایئے کہ میں وہ کروں تو جنتی ہوجاؤں فرمایا الله کو پوجو اُس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نماز قائم کرو،زکوۃ فرض دو،رمضان کے روزے رکھو وہ بولے قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کبھی اس سے کچھ گھٹاؤں بڑھاؤں گا نہیں پھرجب وہ چل دیئے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو جنتی مردکو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:14)

لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اللہ پاک کی وحدانیت کو سمجھیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھرائیں اور جن چیزوں کی ہمیں حضور علیہ السلام نے تعلیم دی ہے ان پر عمل کریں تاکہ ہم اپنے عقائد کو درست کریں کیونکہ ایمان کلمہ طیبہ پر موقوف ہے، اگر ہمارا ایمان کامل نہیں ہوا تو ہم دنیا و آخرت کی بھلائیوں سے بھی محروم ہوسکتے ہیں ۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے۔ اور دوسروں تک پہچانے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ۔