اللہ تبارک و تعالی نے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا کئی مقاصد کی بنیاد پر جن میں سے ایک مقصد لوگوں کو اللہ تبارک و تعالی کی توحید وحدانیت کی تعلیم دینا بھی ہے جیسا کہ ارشاد فرمایا:

حضرت جبرائیل علیہ الصلوۃ والسلام نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے اسلام کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ترجمہ اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کےسواءکوئی معبودنہیں اورمحمداللہ کے رسول ہیں۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 1 کتاب الایمان حدیث نمبر 2)

اس حدیث میں جب حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اسلام کے بارے میں خبر دی تو سر فہرست توحید و رسالت کا ذکر فرمایا اگرچہ اس کے علاوہ بھی اس چیزوں کا ذکر کیا اسی طرح کا مضمون دوسری احادیث میں بھی ملتا ہے ۔

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے :حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا :بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَإِقَامُ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ وَالْحَجُّ وَصَوْمُ رَمَضَانَ ترجمہ: اسلام پانچ چیزوں پرقائم کیا گیا اس کی گواہی کہا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،محمد( ﷺ )اس کےبندےاور رسول ہیں اورنمازقائم کرنا زکوۃ دینا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 1 کتاب الایمان حدیث نمبر 4)

اس حدیث میں جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اسلام کے بنیادوں کا ذکر فرمایا تو سب سے پہلے توحید کا ذکر فرمایا تو ضمنا یہ حدیث تو توحید کی اہمیت اور اس کے اصل ایمان ہونے پر بھی دلیل بنتی ہے ۔

ایمان کی شاخوں میں سے سب سے افضل شاخ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُوْنَ شُعْبَةً فَأَفْضَلُهَا: قَولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ترجمہ: ایمان کی چنداورستّر شاخیں ہیں ان سب میں اعلٰی یہ کہنا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 1 کتاب الایمان حدیث نمبر 5)

اس حدیث میں بھی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے افضل توحید بیان کرنے کو فرمایا یعنی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے تربیت ایسی فرمائی کہ افضل عمل بھی توحید اسلام کی بنیادوں میں سر فہرست توحید ہے ۔

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتٰی أَعْرَابِيٌّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: دُلَّنِي عَلٰی عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَالَ تَعْبُدُ اللهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهٖ شَيْئًا وَتُقِيْمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤَدِّيْ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ

ترجمہ :روایت ہےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتےہیں کہ ایک دیہاتی حضورعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کرنے لگے کہ مجھے ایسے کام کی ہدایت فرمایئے کہ میں وہ کروں تو جنتی ہوجاؤں فرمایا الله کو پوجو اُس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نماز قائم کرو،زکوۃ فرض دو،رمضان کے روزے رکھو ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 1 کتاب الایمان حدیث نمبر 14 )

اس حدیث میں جب حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے جنت میں داخل کرنے والے عمل کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے سرفہرست یہ فرمایا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ یعنی اس حدیث سے بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ حضورﷺ نے توحید کا درس دیا۔

وَعَنْ سُفْيَانَ ابْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قُلْ لِيْ فِيْ الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ وَفِي رِوَايَةٍ غَيْرَكَ قَالَ قُلْ اٰمَنْتُ بِاللهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ترجمہ: روایت ہے حضرت سفیان ابن عبد الله ثقفی سے کہ میں نے عرض کیایارسول الله ﷺ مجھے اسلام کے متعلق ایسی بات بتائیں کہ آپ کے بعداس کےمتعلق کسی سے نہ پوچھوں۔ دوسری روایت میں ہے(کہ آپ کے سوا) فرمایا کہ کہو کہ مَیں الله پر ایمان لایا پھر اُس پرقائم رہو ۔

(مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 1 کتاب الایمان حدیث نمبر 15)

اللہ تبارک و تعالی سے سوال ہے کہ ہمیں حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمان پر دل و جان سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔