محمد
ہلال رضا عطاری(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ بغداد،کراچی،پاکستان)
اسلام ایک
ایسا پاکیزہ دین ہے جس کی بنیاد توحید پر قائم ہے۔توحید کا مطلب یہ ہے کہ اللہ
تعالیٰ کو اس کی ذات، صفات، عبادت اور اختیارات میں یکتا مانا جائے اور اس کے ساتھ
کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ یہی تمام انبیاءِ کرام علیہم السلام کی دعوت کا اصل
پیغام تھا۔ نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں سب سے زیادہ توجہ عقیدۂ
توحید پر دی اور لوگوں کو ہر قسم کے شرک سے بچنے کی تعلیم فرمائی۔احادیثِ مبارکہ میں
نبی اکرم ﷺ نے نہایت واضح انداز میں توحید کی اہمیت بیان فرمائی اور اسے دین کی بنیاد
قرار دیا۔
(1)توحید اسلام کی پہلی بنیاد ہے:رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا:بُنِيَ الإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ:
شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِترجمہ:اسلام
کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے، جن میں سب سے پہلی گواہی دینا ہے کہ اللہ کے
سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔(بخاری، 8)
اس حدیث
سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام کی سب سے پہلی اور مضبوط بنیاد عقیدۂ توحید ہے۔ اگر عقیدہ
درست نہ ہو تو اعمال کی عمارت بھی مضبوط نہیں رہتی۔
یہ مختصر
مگر جامع دعوت اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی صرف اللہ
تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننے میں ہے۔
(3)توحید جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے:رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا:مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ
ترجمہ:جو
شخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ جانتا تھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں
داخل ہوگا۔(مسلم، 26)
یہ حدیث
توحید کی عظیم فضیلت کو بیان کرتی ہے۔ خالص دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر
ایمان رکھنا نجات کا سبب بنتا ہے۔
(4)شرک سب سے بڑا گناہ ہے:نبی کریم ﷺ
نے اپنی امت کو شرک سے بہت سختی کے ساتھ بچنے کی تلقین فرمائی۔آپ ﷺ نے فرمایا:أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الإِشْرَاكُ بِاللَّهِترجمہ:سب سے بڑا گناہ
اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے۔(بخاری، 2654)
اس حدیث
سے معلوم ہوا کہ شرک ایسا سنگین گناہ ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور
کر دیتا ہے۔
(5) نبی کریم ﷺ نے چھپے ہوئے شرک سے
بھی خبردار فرمایا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنَّ أَخْوَفَ مَا
أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُصحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی:
"یارسول اللہ! شرکِ اصغر کیا ہے؟"آپ ﷺ نے فرمایا:الرِّيَاءُترجمہ:آپ ﷺ نے فرمایا: "ریاکاری۔"(مسند احمد، 23630)
اس حدیث
سے معلوم ہوا کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہونی چاہیے۔ لوگوں کو دکھانے
کے لیے عبادت کرنا بھی خطرناک عمل ہے۔
(6) توحید اللہ تعالیٰ کی مغفرت کا
سبب ہے:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:يَا ابْنَ آدَمَ! لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ
لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةًترجمہ:اے
آدم کے بیٹے! اگر تو زمین بھر گناہ لے کر میرے پاس آئے، پھر میرے ساتھ کسی کو شریک
نہ ٹھہرایا ہو، تو میں اتنی ہی مغفرت لے کر تیرے پاس آؤں گا۔(ترمذی، 3540)
یہ حدیث
بتاتی ہے کہ خالص توحید اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتوں اور مغفرت کا ذریعہ ہے۔
اسلام کا پیغام:توحید دینِ اسلام کی روح اور تمام عبادات کی اصل بنیاد ہے۔ نبی کریم ﷺ نے
پوری زندگی لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی اور ہر قسم کے شرک، خواہ ظاہر
ہو یا چھپا ہوا، اس سے بچنے کی تعلیم فرمائی۔
ہر مسلمان
کو چاہیے کہ وہ اپنے عقیدے کی حفاظت کرے، ہر عبادت خالص اللہ تعالیٰ کے لیے انجام
دے، اور توحید پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح عقیدۂ توحید نصیب
فرمائے، شرک کے ہر فتنے سے محفوظ رکھے اور ایمان پر خاتمہ عطا فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami