ابو
حامد ( درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی،پاکستان)
توحید یعنی
اللہ پاک کو یکتا و معبودِ برحق ماننا اسلام کی اساس اور تمام انبیائے کرام علیہم
السلام کی دعوت کا مرکزی نقطہ ہے۔ قرآنِ مجید برہانِ رشید میں اللّہ جَلّ مَجدُہ
ارشاد فرماتا ہے: وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ
الرَّحِیْمُ۠ (۱۶۳)ترجمۂ کنزالایمان:اور تمہارا معبود ایک معبود ہے اس
کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی بڑی رحمت والا مہربان۔ (البقرۃ: 163)
اِس آیتِ
کریمہ کے تحت مفسرین کرام لکھتے ہیں: کفار نے حضورِ اقدس ﷺ سے اللّٰه تعالیٰ کی
شان و صفت معلوم کی تو یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی کہ تمہارا معبود ایک معبود ہے۔(صراط
الجنان ، البقرۃ، تحت الآیۃ: 163)
مزید دیکھیے!
نبئ اکرم نورِ مجسم ﷺ نے توحید کو نہ صرف قولاً بیان فرمایا بلکہ اپنے عمل سے بھی
اس کی کامل تعلیم عطاء فرمائی، سیدِ عالم ﷺ اور بشمول تمام انبیاء کرام علیہم
السلام نے ہر قسم کے شرک، بت پرستی اور غیر اللہ کی پرستش کی سختی سے تردید فرمائی
کہ تمام اَنبیاء اور رُسُل علیہم السلام کو مبعوث فرمانے کی بنیادی حکمت اللّٰه
تعالیٰ کی وحدانیت کو ثابت کرنا اور اخلاص کے ساتھ اللّٰه تعالیٰ کی عبادت کرنا
ہے،توحید کا بیان نبئ کریم ﷺ کی سیرت میں اس قدر واضح اور جامع ہے کہ ہر گوشۂ حیات
میں اس کی جھلک نظر آتی ہے، نبی کریم ﷺ نے توحید کی حفاظت کے لیے نہ صرف تعلیم دی
بلکہ عملی تربیت فرمانا بھی آپ کا معمول شریف تھا، درج ذیل دو مثالوں سے سیدِ عالم
ﷺ کی سیرتِ مبارکہ کے ان پہلوؤں کو واضح کیا جاۓ گا جن میں آپ ﷺ نے جابجا اپنے قول یا فعل سے توحیدِ باری تعالیٰ کی تعلیم
و تربیت فرمائی:
٣٦٠ بتوں کا زوال! حضرتِ سیّدنا
عبداللّٰه بن عباس رضی اللّٰه عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ فتحِ مکہ کے دن جب
مکۂ مکرمہ میں داخل ہوئے تو مشرکین نے کعبۂ مقدسہ کے گرد تین سو ساٹھ (360) بُت
نَصب کئے ہوئے تھے جن کے قدموں کو ابلیس نے مشرکوں کے لئے لوہے اور رانگ سے جوڑ کر
مضبوط کر دیا تھا، سرکارِ دو عالَم ﷺ کے دستِ مبارک میں ایک لکڑی تھی، حضور پُر
نور شافعِ یوم نشور ﷺ یہ آیت "وَ قُلْ جَآءَ
الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا" ترجمۂ
کنز الإیمان: اور فرماؤ کہ حق آیا اور باطل مٹ گیا بیشک باطل کو مٹنا ہی تھا (بنی
اسرائیل: 81) پڑھ کر اس لکڑی سے جس بت کی طرف اشارہ فرماتے جاتے تھے وہ گرتا جاتا
تھا۔(معجم الصغیر، حرف الیاء، من اسمہ: یوسف، ص: 134، الجزء الثانی)
جنابِ رسالتِ مآب ﷺ کا صحابی کو توحید
کی تعلیم فرمانا:وَعَنْ سُفْيَانَ ابْنِ عَبْدِ
اللهِ الثَّقَفِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ قُلْ لِيْ فِيْ الْإِسْلَامِ
قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ وَفِي رِوَايَةٍ غَيْرَكَ قَالَ
قُلْ اٰمَنْتُ بِاللهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ رَوَاهُ مُسْلِمٌترجمہ: روایت ہے حضرت سفیان
ابن عبد اللہ ثقفی سے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللّٰه ﷺ مجھے اسلام کے متعلق ایسی
بات بتائیں کہ آپ کے بعد اس کےمتعلق کسی سے نہ پوچھوں دوسری روایت میں ہے(کہ آپ کے
سوا) فرمایا کہ کہو کہ مَیں اللہ پر ایمان لایا پھر اُس پر قائم رہو۔
شرحِ حدیث: اللّٰه پر ایمان لانے سے مراد سارے
عقائدِ اسلامیہ ماننا ہیں، لہذا اس میں توحید و رسالت، حشر و نشر، ملائکہ، جنت و
دوزخ سب پر ایمان لانا داخل ہے، جیسے کسی کو اپنا باپ مان کر اس کے سارے اہلِ
قرابت کو اپنا عزیر ماننا پڑتا ہے کہ اس کا باپ ہمارا دادا ہے، اس کی اولاد ہمارے
بھائی بہن، اس کے بھائی ہمارے چچا تائے اور استقامت سے مراد سارے اعمال اسلامیہ پر
سختی و پابندی سے عمل کرنا ہے، لہذا یہ حدیث ایمان و تقویٰ کی جامع ہے اور اس پر
عامل یقینًا جنتی ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، جلد:1، حدیث نمبر: 15)
یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے قول،
عمل، تعلیم اور تربیت ہر پہلو سے توحید کو مضبوط کیا، آج بھی امت کی کامیابی اسی میں
ہے کہ وہ عقیدۂ توحید کو مضبوطی سے تھامے رکھے تاکہ دہریت اور لادینیت کے دامنِ
تزویر سے محفوظ رہا جاۓ اور رسول اللّٰه ﷺ کی
تعلیمات کے مطابق سنتوں کو اپناتے ہوۓ زندگی
بسر کرنے کی کوشش کی جائے،اللّٰه پاک ہمیں سیدِ عالم ﷺ کی تعلیمات پر صدقِ دل سے
عمل پیرا ہونے کی توفیق مرحمت فرماۓ. آمین
بجاہ النبی الأمین ﷺ۔
Dawateislami