مجیب
الرحمٰن(درجہ رابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
آپ کا نام
پاک یونس بن متیٰ ہے اور چونکہ آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے گئے تھے
اسی وجہ سے آپ کو "ذوالنون“ اور "صاحب الحوت“(یعنی مچھلی والے) بھی کہا
جاتا ہےاور یہ دونوں آپ کے القاب ہیں۔ (سیرت الانبیاء، ص491،مکتبۃالمدینہ)
حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(صافات:139)
حضرت یونس
علیہ السَّلام حضرت ہود علیہ السَّلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نینویٰ کے نبی
تھے جو موصَل کے علاقے میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ آپ علیہ السَّلام نے چالیس
سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحیدِ باری تعالیٰ کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ
علیہ السَّلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ علیہ السَّلام نے
اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذابِ الٰہی کی خبر دی اور خود وہاں سے باہر تشریف لے
گئے۔ قوم نے علاماتِ عذاب کا مشاہدہ کرکے بارگاہِ الٰہی میں توبہ کرلی تو ان سے
عذاب اٹھا لیا گیا۔(تفسیر صراط الجنان،سورۃ صافات آیت139)
حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی
سفر اور مچھلی کا نگلنا :
اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲) ترجمۂ کنزالایمان: جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے
ہوؤں میں ہوا۔ پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور
وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔( سُورۃ صفات،آیت140تا 142)
حضرت یونس
علیہ السلام اپنی قوم کی توبہ سے باخبر نہیں تھے اور جب انہوں نے دیکھا کہ قوم کو
عذاب آنے کی جو خبر دی تھی اس میں تاخیر ہوگئی ہے تو آپ علیہ السلام اپنی قوم کے کفر
و نافرمانی پراِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی
ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا
کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی
بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک
ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت
ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ
مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا
نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل
کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے
حالانکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن
وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم
جھوٹا کہہ سکتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے)
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔
جب حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ
نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں
نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے
لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت
کو کاٹنا۔(سیرت الانبیاء،ص495،مکتبۃالمدینہ)
یہاں ایک
اہم بات قابلِ توجہ ہےعلامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں
:’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے کشتی میں
سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ انہیں شہید کر
دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے تو وہ اسے
قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا کشتی میں
سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ گنا ہ تھا
اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی مخالفت کی
بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار
کرتے۔
(سیرت الانبیاء، ص496 ، مکتبۃ المدینہ)
مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف آوری:جب حضرت یونس
علیہ السلام نے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے
نکال کر زمین میں ڈال دیا اور مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی وجہ سے آپ علیہ السلام ایک
کمزور، دبلے پتلے اور نازک ہوگئے تھے۔ جیسے بچہ پیدائش کے وقت ہوتا ہے، آپ علیہ
السلام کے جسم کی کھال نرم ہوگئی تھی اور بدن پر کوئی بال باقی نہ رہا تھا۔
مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت:حضرت یونس
علیہ السلام کے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ اسی دن
یا 3 دن یا 7دن یا 20 دن یا 40 دن کے بعد آپ مچھلی کے پیٹ سے نکالے گئے۔
(سیرت
الانبیاء،ص 499،مکتبۃ المدینہ)
قومِ یونس کی توبہ اور رفعِ عذاب:نزول عذاب
کی خبر سن کر لوگوں نے آپس میں کہا: حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ
نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب
رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور
صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ،
بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ
عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو
آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔(سیرت الانبیاء،ص493،94، مکتبۃ المدینہ)
Dawateislami