محمّد
آفتاب(درجہ رابعہ جامعۃ المدينہ فيضان عثمان غنى ،کراچی،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبروں میں سے ایک ہیں جن کا ذکر قرآن مجید
میں متعدد مقامات پر آیا ہے آپ کو اللہ تعالیٰ نے نینوٰی (موجودہ عراق کے علاقے) کی
قوم کی طرف ہدایت کے لیے بھیجا تھا آپ کی زندگی صبر، توبہ اور اللہ پر کامل بھروسے
کی ایک عظیم مثال ہے۔
حضرت یونس
نے اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی مگر ابتدا میں ان کی قوم نے انکار کیا
اس پر آپ ناراض ہو کر اللہ کے حکم کے بغیر ہی وہاں سے نکل گئے قرآن مجید میں اس
واقعے کو نہایت سبق آموز انداز میں بیان کیا گیا ہے وَ ذَا
النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ
فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔
(انبیاء:87)
تفسیر صراط الجنان:وَ ذَا النُّوْنِ:اور ذوالنون کو (یاد کرو)۔ یہاں سے
حضرت یونس بن متّٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں
نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے
تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے
علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ
اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے لیکن
آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سےاللہ تعالیٰ
نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی
تاریکی رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے
رب عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے
بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔(
مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
مقبول دعائیہ کلمات: حضرت سعدرَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ سے روایت ہے ،رسول کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے
پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَ‘‘ جو مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی مقصد کے لئے دعا مانگے تو اللہ تعالیٰ
اسے قبول فرماتا ہے۔( ترمذی، کتاب الدعوات، ۸۱-باب، ۵ / ۳۰۲، الحدیث: ۳۵۱۶)
حضرت سعدبن ابی وقاص رَضِیَ اللہ تَعَالٰی
عَنْہُ فرماتے ہیں ہم نبی کریم ﷺ کے قریب
بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے ارشاد فرمایا :کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں خبر
نہ دوں کہ جب تم میں سے کسی شخص پر کوئی مصیبت یا دنیا کی بلاؤں میں سے کوئی بلا
نازل ہو اور وہ اس کے ذریعے دعا کرے تو ا س کی مصیبت و بلا دور ہوجائے آپ ﷺ سےعرض کی گئی کیوں نہیں ارشاد فرمایا وہ چیز
حضرت یونس کی دعا لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ہے۔(مستدرک،کتاب الدعاء والتکبیر
والتہلیل۔۔۔الخ،من دعا بدعوۃ ذی النون استجاب اللہ لہ،۲
/ ۱۸۳،الحدیث:۱۹۰۷)
حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ
سے روایت ہے ،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا
جو مسلمان اپنی بیماری کی حالت میں چالیس مرتبہ لَاۤ اِلٰهَ
اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ
مِنَ الظّٰلِمِیْنَ کے ساتھ دعا مانگے ، پھر وہ اس مرض میں فوت ہوجائے تواسے شہید کا اجر دیا
جائے اور اگر تندرست ہوگیا تو اس کے تمام گناہ بخشے جا چکے ہوں گے۔( مستدرک کتاب
الدعاء و التکبیر و التہلیل الخ ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام الخ ، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث: ۱۹۰۸)
فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَعَلَیْهِ:تواس نے گمان کیا کہ ہم
اس پر تنگی نہ کریں گے۔ امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں جس شخص نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ عاجز ہے وہ کافر ہے، اور یہ ایسی
بات ہے کہ کسی عام مومن کی طرف بھی اس کی نسبت کرنا جائز نہیں تو انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف یہ بات منسوب کرنا کس طرح جائز ہو گا (کہ وہ اللہ
تعالیٰ کو عاجز گمان کرتے ہیں ۔ لہٰذا اس آیت کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں پکڑنے پر
قادر نہیں بلکہ ) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ’’حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں فرمائے گا۔( تفسیرکبیر،
الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ۸
/ ۱۸۰)
حضرت یونس
علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ کی وحدانیت
کی دعوت دی مگر ابتدا میں ان کی قوم نے انکار کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ
قبول فرمائی اور مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں کنارے پر چھوڑ دے اس کے بعد آپ دوبارہ
اپنی قوم کی طرف گئے، اور اس بار پوری قوم ایمان لے آئی یہ ایک منفرد واقعہ ہے کہ
کسی نبی کی پوری قوم نے اجتماعی طور پر توبہ کر کے ایمان قبول کیا۔قرآن میں حضرت یونس
کو ذوالنون(مچھلی والے) کے لقب سے بھی یاد کیا گیا ہے ان کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا
ہے کہ مشکل سے مشکل حالات میں بھی اللہ سے رجوع کرنا چاہیے کیونکہ وہی نجات دینے
والا ہے صبر توبہ اور اللہ پر بھروسہ انسان کو کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔
آخر میں
حضرت یونس کا واقعہ قرآن کا ایک اہم حصہ ہے جو ہمیں اپنی غلطیوں پر نادم ہو کر
اللہ کی طرف رجوع کرنے اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونے کی تعلیم دیتا ہے۔
Dawateislami