محمد
ارمان(درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضانِ جمالِ مصطفیٰ،لاہور،پاکستان)
اللہ
عزوجل نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق فرمایا اور ان کی پشت سے قیامت تک آنے والی
تمام ارواح کو نکال کر ان سے عہد لیا اور فرمایا: "کیا میں تمہارا رب نہیں
ہوں؟" سب نے اقرار کیا: "ہاں، تو ہی ہمارا رب ہے۔"پھر اللہ نے نسلِ
انسانی کو حضرت آدم علیہ السلام کی صلب سے جاری کیا۔ انسان کو دنیا میں بھیجنے کے
بعد اللہ نے ہدایت کے لیے انبیاء و رُسُل بھیجے اور کتابیں نازل فرمائیں، تاکہ لوگ
کفر کے اندھیروں سے نکل کر ایمان کی روشنی کی طرف آئیں۔ان انبیاء میں حضرت یونس علیہ
السلام بھی شامل ہیں، جنہیں اللہ نے نینویٰ کی بستی کی طرف بھیجا، جو موصل کے
علاقے میں دجلہ کے کنارے واقع تھی۔ آپ کا ذکر قرآن میں اس طرح ہوا:ارشادِ باری
تعالیٰ ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔(صافات:139)
آپ کا نام
یونس بن متی ہے آپ حضرت ھود علیہ السلام کی
اولاد میں سے تھے۔
حضرت یونس
علیہ السلام پر کسی آسمانی کتاب یا صحیفوں کا نزول نہیں ہوا بلکہ وحیِ الٰہی کے ذریعے
مختلف احکامات آپ علیہ السلام پر نازل ہوتے جو آپ اپنی قوم تک پہنچاتے تھے۔
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے:اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳) ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اے محبوب
ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد پیغمبروں کو بھیجی اور ہم
نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب
اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ (سورۃ
النساء، پارہ 4، آیت 163)
حضرت یونس علیہ السلام کا نیکی کی
دعوت دینا:
قرآنِ کریم
میں ہے:فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸) ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا
ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی
زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (پ11، یونس، آیت 98)
اس مقام
پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں
ذکر فرمایا کہ اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس
علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول کی گئی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟
امام فخر
الدین رازی اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس علیہ السلام
کی قوم کی توبہ میں واضح فرق ہے، وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد
توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو
عذاب کے قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی
وقت ہی توبہ کر لی تھی۔ (خازن، یونس، تحت الآیۃ 98، 335/2-336 ملتقطاً)
اللہ
عزوجل نے قرآن مجید میں اس واقعہ کو یوں بیان فرمایا:وَ اِنَّ
یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ
اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔ (صافات:139تا 142)
حضرت یونس
علیہ السلام کی دعا:حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں کئی قسم کی تاریکیوں
کا سامنا ہوا جیسے دریا کی تاریکی، رات کی تاریکی، مچھلی کے پیٹ کی تاریکی۔ ان
اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے
رب! تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے، بے شک مجھ سے خطا ہوئی کہ
میں اپنی قوم سے تیرا اِذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔
قرآن پاک
میں اللہ عزوجل نے اس کا ذکر فرمایا:وَ ذَا النُّوْنِ
اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی
الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان
کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے
اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (پ17، الانبیاء، 87)
اللہ
عزوجل نے حضرت یونس علیہ السلام کی پکار سن لی اور ان کی دعا کو شرفِ قبولیت سے
نوازا چنانچہ انہیں تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات دلائی اور مچھلی کو حکم دیا تو
اس نے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے کنارے لا کر اپنے پیٹ سے نکال دیا۔
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے:فَلَوْ لَاۤ اَنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیْنَۙ(۱۴۳) لَلَبِثَ فِیْ بَطْنِهٖۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَۚ(۱۴۴)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا۔ توضرور اس دن تک اس مچھلی کے
پیٹ میں رہتا جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔(صافات:143،44)
مچھلی کے پیٹ سے باہر تشریف آوری:مچھلی نے
اللہ کے حکم سے حضرت یونس علیہ السلام کو دریا کے کنارے آکر پیٹ سے نکال دیا اور
وہاں کوئی سایہ نہیں تھا تو اللہ پاک نے سایہ کرنے اور مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے
کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن
حضرت یونس علیہ السلام کے دہنِ مبارک میں دے کر آپ کو صبح شام دودھ پلا جاتی یہاں
تک کہ آپ کے جسمِ مبارک کی جلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال اگ
آئے اور جسم میں توانائی آئی۔ (خازن، الصافات، تحت الآیۃ 146، 27/4)
حضرت يونس علیہ السلام کی قوم میں
تشریف آوری:جب حضرت یونس علیہ السلام صحت مند ہوئے، تو ربِ کریم نے آپ کو دوبارہ سرزمینِ
موصل (نینویٰ) کے ایک لاکھ سے زائد لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ چونکہ وہ عذاب کے
آثار دیکھ کر پہلے ہی تائب ہو چکے تھے، اس لیے آپ کی تشریف آوری پر سب کے سب آپ علیہ
السلام پر ایمان لائے اور الٰہی رحمتوں سے فیضیاب ہوئے۔
ارشادِ
باری تعالیٰ ہے:وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا
فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے
انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔ (الصافات: 147-148)
Dawateislami