شکیل
احمد (درجہ دورۃالحدیث جامعۃالمدینہ فیضان غوث الاعظم ، کراچی،پاکستان)
میرے پیارے
اور میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت یونس علیہ السلام اللہ تبارک و تعالی کے پیغمبروں میں
سے ایک پیغمبر ہے۔ آپ کو اللہ پاک نے اپنی قوم کی رشد و ہدایت کیلئے مبعوث فرمایا ۔آپ
اللہ پاک کا حکم پاکر قوم کی طرف گئے لیکن قوم نے آپکی دعوت قبول کرنے سے انکار
کردیا ۔ اس کے متعلق قرآن مجید میں ذکر آیا ہےچنانچہ فرمایا:
اللہ پاک
ارشاد فرماتاہے : ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک
ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃا لانبیاء:87)
اس کا
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی
قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے
اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور
کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس
ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار
نہ کیا تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے
انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی
کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار
عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود
نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے
بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن
اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے علاوہ دیگر معتبر مفسرین نے بھی اس
آیت کا یہ معنی بیان کیا ہے ،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ نے بھی اسی معنی کو اختیار کیا ہے اور ہم نے بھی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور دیگر معتبر مفسرین کی پیروی کرتے ہوئے اس آیت میں لفظ
’’لَنْ نَّقْدِرَ‘‘کا
ترجمہ’’ ہم تنگی نہ کریں گے‘‘کیا ہے۔
اللہ
تبارک وتعالی حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے صدقے میں تمام مشکلات آسان فرمائے
اور ہمیں نیکی کی دعوت دینے اور دین کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
سراج
الدین ( درجہ دورۃالحدیث جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم ،کراچی ،پاکستان)
سورۃ کا نام اور سُورۃ کی وجہ تسمیہ: اس سورۃ
کا نام سورۃ یونس ہے کیونکہ یونس علیہ السلام کی قوم باقی انبیاء علیہم السلام کی
اقوام سے اس صفت میں منفرد تھی کہ یونس علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ
کے عذاب سے ڈرایا اور انہوں نے عذاب الہٰی کے آثار دیکھ لیے ۔تو وہ اللہ تعالیٰ
اور حضرت یونس علیہ السلام پر ایمان لے آئے اور ان کا ایمان لانا نفع آور ہوا اور
اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا اور ان سے عذاب اٹھالیا چنانچہ فرمایا:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃیونس:98)
اس کا
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ الصلٰوۃ والسلام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت
قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے تو حضرت یونس
علیہ الصلٰوۃ والسلام غضبناک ہوکر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ
گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے
ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ
کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں
ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی رات کی تاریکی اور
مچھلی کی تاریکی ان اندھیروں میں حضرت یونس علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے پروردگار
عزوجل سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب عزوجل تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو عیب
سے پاک ہے بیشک مجھے سے بے جاہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اذن اور اجازت پانے سے پہلے
ہی جدا ہو گیا۔ ( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
حضرت یونس علیہ الصلٰوۃ والسلام کی دعا: مچھلی کے
پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے:
لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ کنزالایمان:
کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو
بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃالانبیاء:87)
فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ: تو اس نے گمان کیا کہ
ہم اس پر تنگی نہ کریں گے: امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ جس شخص نے
یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ عاجز ہے وہ
کافر ہے، اور یہ ایسی بات ہے کہ کسی عام مومن کی طرف بھی اس کی نسبت کرنا جائز
نہیں تو انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف یہ بات منسوب کرنا کس طرح جائز ہو گا (کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز گمان کرتے ہیں ۔ لہٰذا اس
آیت کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ
گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں پکڑنے پر قادر نہیں بلکہ ) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ’’حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے گمان
کیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں فرمائے گا۔ ( تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ:
۸۷، ۸
/ ۱۸۰)
دل
جان رضا (درجہ دورۃ الحدیث جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم ، کراچی،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام کا ذکر قرآن پاک میں متعدد مقام پر آیا ہے لیکن ان تمام آیات کو اس
مضمون مین ذکر کرنا ممکن نہیں لہذا میں ایک آیت مبارکہ آپ کے سامنے پیش کر رہا
ہوں تاکہ ہمیں اس کے بارے میں آشنائی ہو جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ کنزالایمان:
تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم
جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت
تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃ یونس:98)
تفسیر صراط الجنان:فَلَوْ لَا:تو کیوں
ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم نے ہلاک کیا کوئی
قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ توبہ کر کے ایمان لے
آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ قوم نہ کرتی تاکہ اس کا
ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی وجہ سے اللہ
عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔ (مدارک، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ص۴۸۶)
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس
کی قوم۔حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ
لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ
نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت
پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے
عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں
رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے
کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے
تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت
ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں
یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ
لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن
کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے
بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں
نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے
حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ
پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں
توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔(
خازن، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۲ / ۳۳۵-۳۳۶)
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون
کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح
فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے
قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی
توبہ کر لی تھی ۔ (تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳) اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب
کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد
توبہ قبول ہوسکتی ہے۔
عبد
الباسط عطاری(درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
اللہ
عزوجل نے انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لیےاورلوگوں سے جہالت کو دور کرنے اور
صحیح اور غلط کے درمیان فرق کرنےکے لیے اوردنیا سے فساد کو ختم کرنے کےلئے کئی انبیاء
کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا ۔ہر زمانے میں اللہ عزوجل نے اس زمانے کے
اعتبار سے انبیاء علیہم السلام کو بھیجا۔ تاکہ وہ اس زمانےکی خرابیوں اور فسادات
کو ختم کریں اور ان خرابیوں میں مبتلا افراد کی ہدایت کی طرف رہنمائی کرے۔ اللّہ
عزوجل نے حضرت آدم علیہ السلام سے اس سلسلہ نبوت کو شروع فرمایا اور ہمارے آخری نبی
حضرت محمد مصطفی ﷺ پر اس سلسلہ نبوت کو ختم فرمایا اور اس طویل
عرصے کے درمیان کئی انبیاء کرام تشریف لائے جیسے حضرت موسیٰ ،حضرت عیسیٰ، علیہ
السلام، حضرت داؤد علیہ السلام ، حضرت یعقوب علیہ السلام ۔اور انہی میں سے ایک
حضرت یونس علیہ السلام بھی ہیں قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کے واقعات کو
بھی کئی مقامات پر ذکر کیا گیا ہے ۔
اللہ تعالیٰ
نے حضرت یونس علیہ السلام کی وحی کا ذکر فرمایا:
اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد
پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے
بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد
کو زبور عطا فرمائی۔(سورۃ النساء:163)
حضرت موسیٰ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سوا بکثرت انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام ہیں جن میں سے گیارہ کے اَسماء شریفہ یہاں آیت میں بیان فرمائے گئے ہیں
،رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھیجنے کا مقصد مخلوق کی ہدایت اور
ان کو اللہ تعالیٰ کی توحید ومعرفت کا درس دینا اور ایمان کی تکمیل اور عبادت کے
طریقوں کی تعلیم ہے اورکتاب کے متفرق طور پر نازل ہونے سے یہ مقصد بڑے کامل طریقے
سے حاصل ہوجاتا ہے کیونکہ تھوڑا تھوڑا بہ آسانی دل نشین ہوتا چلا جاتا ہے، اس حکمت
کو نہ سمجھنا اور اعتراض کرنا کمال درجے کی حماقت ہے۔سُبْحَانَ اللہ! کیسا دل نشین
اور پیارا جواب ہے۔
اللہ
عزوجل نے قران مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ کچھ اس طرح ارشاد فرمایا!
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(سورۃا
لصفت:139،140)
وَ اِنَّ یُوْنُسَ: اور بیشک یونس۔ یہاں سے حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا جا رہا ہے۔آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے،
آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور
اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے
کی خبردی ۔
اِذْ اَبَقَ: جب وہ نکل گیا۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم
کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اِصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر
اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے
گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی بازپُرس ہوگی۔ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو
قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے وحیِ
الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ
کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا
کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کے درپے تھے اور آپ عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ عَلَیْہِ
السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی مُتَعَیَّن وقت نہیں بتایا
تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو مَعَاذَ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔
حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے
اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے)
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا
کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ
تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی
کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک
بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ
فرماتے ہیں :’’ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنے اجتہاد کی وجہ سے
کشتی میں سوار ہوئے تھے کیونکہ جب عذاب میں تاخیر ہوئی تو حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو یہ گمان ہوا کہ اگر وہ اپنی قوم میں ٹھہرے رہے تو وہ
انہیں شہید کر دیں گے کیونکہ ان لوگوں کا دستوریہ تھا کہ جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو
جائے تو وہ اسے قتل کر دیتے تھے لہٰذا حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
کا کشتی میں سوار ہونا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں اور نہ ہی کوئی کبیرہ یا صغیرہ
گنا ہ تھا اور مچھلی کے پیٹ میں قید کر کے ان کا جو مُؤاخذہ ہوا وہ اَولیٰ کام کی
مخالفت کی بنا پر ہوا کیونکہ ان کے لئے اَولیٰ یہی تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے حکم
کا انتظار کرتے۔(صراط جنان، جلد 8, ص345,346)
اس واقعہ
میں بہت کچھ سیکھنے کو مل سکتا ہے اگر ہم اس واقعہ کا باغور مطالعہ کریں۔جیسے حضرت
یونس علیہ السلام کا اپنی قوم کو چالیس سال تک ایمان کی دعوت دینا اس سے ہمیں ثابت
قدمی اور مستقل مزاجی کا درس ملتا ہے کہ ہمیں کوئی بھی بامقصد کام ادھورا نہیں
چھوڑنا چاہیے مکمل کرنا چاہیے اگرچہ اس میں طویل عرصہ لگ جائے،دوسرا یہ پتا چلا کہ
اللّہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو غیب کا علم عطا فرماتا ہے تیسرا یہ کہ ہمیں ہر حال
میں اللّہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا چاہیے اور مشکلات پر صبر کرنا چاہیے ۔
ایک اور
مقام پر اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کے بارے میں ارشاد فرمایا!
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃ یونس:98)
فَلَوْ لَا:تو کیوں ایسا نہ ہوا۔ یعنی ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان بستیوں میں سے جنہیں ہم
نے ہلاک کیا کوئی قوم عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے کفر چھوڑ کر اِخلاص کے ساتھ
توبہ کر کے ایمان لے آتی اور جس طرح فرعون نے اپنا ایمان لانا مُؤخَّر کیا وہ
قوم نہ کرتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا کیونکہ اختیار کے وقت میں ایمان لانے کی
وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کا ایمان قبول کر لیتا۔
اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ:لیکن یونس کی قوم۔ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں
رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان لانے کا
حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
تکذیب کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں
نے آپس میں کہا کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے کبھی کوئی بات
غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر
انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی
توحضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت
عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا
دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے
والا ہے ، انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو تلاش کیاتو آپ
کو نہ پایا، اب انہیں اور زیادہ اندیشہ ہوا تو وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور
جانوروں کے ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا،
شوہر سے بیوی اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری
شروع کر دی اور عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام
لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان
سے ہوئے تھے انہیں دور کیا، پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی
کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔
اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم
کیا، دعا قبول فرمائی اور عذاب اٹھا دیا گیا۔
فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں فرق: اس مقام پر ایک سوال یہ
پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ
اس نے آخری وقت توبہ کی لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ
الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے بارے میں ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ فرعون
کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح
فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے
قریب ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی
توبہ کر لی تھی ۔ اس کا مطلب یہ نکلا کہ نزولِ عذاب کے بعد توبہ قبول نہیں البتہ
نزولِ عذاب سے پہلے صرف علاماتِ عذاب کے ظہور کے بعد توبہ قبول ہوسکتی ہے۔(صراط
الجنان ،جلد4,ص378,379)
اس واقعہ
سے ہمیں بہت ساری باتیں سیکھنے کو ملیں۔
(1) حضرت یونس
علیہ السلام کے القابات ،ذونون،صاحب حوت۔
(2) پیغمبروں
کو غیب کی خبروں کا علم ہونا۔
(3) مجتہدین
کا اجتہاد کرنا ضروری ہے ۔
(4) ہمیں
بھی اپنی مشکلات پر صبر کرنا اور ہر حال میں اللّہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ۔
(5)اپنے
گناہوں سے توبہ کرنے کے بعد دعا کرنا اور اپنے کمزوروں اور ضعیفوں کے وسیلے پیش
کرنا دعائیں قبول ہونے اور عذاب کے ٹلنے کا سبب ہے۔
اللّہ
عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں بھی انبیاء کرام علیہم السلام کے نقشے قدم پر چلتے رہنے کی
توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
قرآنِ مجید
اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جس میں گزشتہ انبیاءِ کرام علیہم السلام کے واقعات
محض قصے کہانی کے طور پر نہیں بلکہ ہدایت، نصیحت، صبر، توکل اور ایمان کے اسباق کے
طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ انہی جلیل القدر انبیاء میں ایک نام حضرت یونس علیہ
السلام کا بھی ہے۔ آپ علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر ذکر ہوا
ہے، اور ہر مقام پر انسان کے لیے ایمان افروز سبق موجود ہے۔ حضرت یونس علیہ السلام
کا ذکر ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بندہ اگر خطا کر بیٹھے تو اللہ کی رحمت سے ناامید نہ
ہو، بلکہ توبہ، دعا اور رجوع الی اللہ اختیار کرے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:حضرت یونس علیہ السلام
اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ نبی ہیں۔ آپ کو قومِ نینویٰ کی طرف مبعوث فرمایا گیا۔ نینویٰ
ایک بڑی بستی تھی جہاں لوگ شرک، گناہ اور نافرمانی میں مبتلا تھے۔ حضرت یونس علیہ
السلام نے اپنی قوم کو توحید، ایمان اور اللہ کی اطاعت کی دعوت دی۔ مگر قوم نے
ابتدا میں آپ کی بات قبول نہ کی اور سرکشی اختیار کی۔ آپ نے مسلسل تبلیغ فرمائی،
نصیحت کی، سمجھایا، مگر جب قوم اپنی ضد پر قائم رہی تو آپ ناراض ہوکر بستی سے نکل
گئے۔
یہاں ایک
نہایت باریک نکتہ ہے کہ نبی بھی بشر ہوتے ہیں، ان میں انسانی جذبات ہوتے ہیں، لیکن
اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی تربیت فرماتا ہے تاکہ امت کے لیے بہترین نمونہ باقی
رہے۔ حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ اسی ربانی تربیت کی ایک عظیم مثال ہے۔
کشتی اور مچھلی والا واقعہ:جب حضرت یونس
علیہ السلام بستی چھوڑ کر روانہ ہوئے تو دریا کے کنارے پہنچے اور ایک کشتی میں
سوار ہوگئے۔ کشتی سمندر میں پہنچی تو طوفان آگیا۔ کشتی والوں نے بوجھ ہلکا کرنے کے
لیے قرعہ اندازی کی، اور قرعہ حضرت یونس علیہ السلام کے نام کانکلا۔ آخرکار آپ
سمندر میں ڈال دیے گئے، اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔
یہاں غور
کرنے کی بات یہ ہے کہ مچھلی نے آپ کو کھایا نہیں بلکہ محفوظ رکھا، کیونکہ اللہ کا
حکم تھا۔ جس رب نے آگ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ٹھنڈا کردیا، اسی رب نے
مچھلی کے پیٹ کو حضرت یونس علیہ السلام کے لیے جائے پناہ بنادیا۔
تاریکیوں میں کی گئی دعا:قرآنِ مجید
میں آتا ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اندھیروں میں اللہ تعالیٰ کو پکارا:
لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(سورۃ الانبیاء:87)
یہ دعا
محض الفاظ نہیں بلکہ بندگی کا خزانہ ہے۔ اس میں توحید بھی ہے، اللہ کی پاکی کا
اقرار بھی ہے، اور اپنی خطا کا اعتراف بھی ہے۔ یہی کامل توبہ ہے۔ جب بندہ اپنی غلطی
مان لیتا ہے تو رحمتِ خداوندی جوش میں آتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نجات:اللہ تعالیٰ
نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا کردی۔
پھر آپ کو ایک کھلے میدان میں پہنچایا گیا، جہاں آپ کمزور حالت میں تھے۔ اللہ تعالیٰ
نے آپ کے لیے کدو کی بیل اگائی، سایہ دیا، غذا کا انتظام فرمایا، پھر دوبارہ آپ کو
قوم کی طرف بھیجا۔ اس مرتبہ پوری قوم ایمان لے آئی۔
یہ واقعہ
بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے حالات بدل دیتا ہے۔ جو شخص سمندر کی تہہ میں مچھلی
کے پیٹ میں ہو، اس کے لیے بھی نجات کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ لہٰذا کوئی گناہگار،
کوئی پریشان حال، کوئی بیمار، کوئی مقروض، کوئی غم زدہ شخص اللہ سے مایوس نہ ہو۔
اس واقعہ سے حاصل ہونے والے اسباق:دعوت و
تبلیغ میں صبر ضروری ہے۔نیک کام کرنے والے کو جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔غلطی ہو
جائے تو فوراً توبہ کرنی چاہیے۔حضرت یونس علیہ السلام نے فوراً اللہ کی طرف رجوع
فرمایا۔دعا مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔تاریکیوں میں کی گئی دعا نے نجات دلائی۔اللہ
کی رحمت بہت وسیع ہے۔وہ چاہے تو ناممکن کو ممکن بنا دے۔توحید سب سے بڑی طاقت ہے۔مشکل
کے وقت انسان کو صرف اللہ کو پکارنا چاہیے۔
آج کے دور میں ہماری ذمہ داری:آج انسان
پریشانی، بے سکونی، گناہوں اور مادہ پرستی میں ڈوبا ہوا ہے۔ ایسے وقت میں حضرت یونس
علیہ السلام کا واقعہ ہمیں امید دیتا ہے۔ اگر ہم بھی اخلاص سے اللہ کو پکاریں،
گناہوں سے توبہ کریں، نماز قائم کریں، حقوق ادا کریں اور سچی زندگی گزاریں تو اللہ
تعالیٰ ہمارے حالات بھی بدل سکتا ہے۔
افسوس یہ
ہے کہ ہم دعا کو آخری سہارا سمجھتے ہیں، حالانکہ مومن کے لیے دعا پہلا سہارا ہونی
چاہیے۔ حضرت یونس علیہ السلام کی دعا ہر مسلمان کو یاد ہونی چاہیے اور کثرت سے
پڑھنی چاہیے۔
حضرت یونس
علیہ السلام کا واقعہ قرآنِ مجید کے روشن موتیوں میں سے ایک موتی ہے۔ اس میں صبر
بھی ہے، توبہ بھی، دعا بھی، رحمت بھی، اور کامیابی بھی۔ جو شخص اس واقعہ کو سمجھ
لے وہ کبھی ناامید نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم سے ہدایت لینے، انبیاءِ
کرام علیہم السلام کے واقعات سے سبق حاصل کرنے اور اپنی زندگی کو ایمان و تقویٰ سے
سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
محمد
رضا عطاری(درجہ دورۃ الحدیث جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم ،کراچی ،پاکستان)
حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ
کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے ایک ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا
ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے نینویٰ (Nineveh) کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ
مچھلی (وہیل) کے پیٹ میں جانا اور پھر اللہ کی رحمت سے نجات پانا ہے، جو صبر، توبہ
اور اللہ پر کامل بھروسے کی عظیم مثال ہے۔
قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر:قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ
السلام کا ذکر مختلف سورتوں میں آیا ہے، جیسے سورۃ یونس، سورۃ الانبیاء، سورۃ
الصافات وغیرہ۔
(1)دعوت اور قوم کا انکار:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اِنَّ یُوْنُسَ
لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (سورۃ الصافات، آیت 139)
حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم
کو اللہ کی طرف بلایا لیکن وہ لوگ نافرمانی کرتے رہی ۔
(2) قوم کو چھوڑ کر جانا:اِذْ اَبَقَ اِلَى
الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: جب کہ بھری کشتی
کی طرف نکل گیا۔ (سورۃ الصافات، آیت 140)
یہاں " اَبَقَ " کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے
ناراض ہو کر چلے جانا۔ حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کے انکار سے پریشان ہو کر
وہاں سے روانہ ہو گئے۔
(3) مچھلی کے پیٹ میں جانا:فَالْتَقَمَهُ
الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو
ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ الصافات، آیت 142)
یہ واقعہ حضرت یونس علیہ السلام کی
آزمائش کا اہم مرحلہ تھا۔
(4) مچھلی کے پیٹ میں دعا (مشہور تسبیح):لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود
نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے
بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 87)
یہ دعا حضرت یونس علیہ السلام نے
مچھلی کے پیٹ میں پڑھی، جسے "دعائے یونس" کہا جاتا ہے۔
(5)نجات اور اللہ کی رحمت:فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی
پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 88)
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول
فرمائی اور انہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا کی۔
(6)قوم کی ہدایت:فَلَوْ لَا كَانَتْ
قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ
اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ
مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ
کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم
نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے
دیا۔ (سورۃ یونس، آیت 98)
حضرت یونس علیہ السلام کی قوم وہ
واحد قوم ہے جس نے عذاب کے آثار دیکھ کر سچی توبہ کی اور اللہ نے انہیں معاف فرما
دیا۔
سبق اور نصیحتیں:
(1) توبہ کی طاقت: سچی توبہ
انسان کو مشکل سے نکال سکتی ہے۔
(2) اللہ کی رحمت: اللہ تعالیٰ
اپنے بندوں کو معاف کرنے والا ہے۔
(3) دعا کی قبولیت: اخلاص سے کی
گئی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ
قرآن مجید میں ایک عظیم سبق کے طور پر بیان ہوا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مشکل
حالات میں بھی اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور کبھی بھی اس کی رحمت سے مایوس نہیں
ہونا چاہیے۔ ان کی دعا قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے ایک عظیم خزانہ ہے۔
Dawateislami