محمد
رضا عطاری(درجہ دورۃ الحدیث جامعۃ المدینہ فیضان غوث اعظم ،کراچی ،پاکستان)
حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ
کے جلیل القدر پیغمبروں میں سے ایک ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا
ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے نینویٰ (Nineveh) کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ آپ کی زندگی کا سب سے اہم واقعہ
مچھلی (وہیل) کے پیٹ میں جانا اور پھر اللہ کی رحمت سے نجات پانا ہے، جو صبر، توبہ
اور اللہ پر کامل بھروسے کی عظیم مثال ہے۔
قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر:قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ
السلام کا ذکر مختلف سورتوں میں آیا ہے، جیسے سورۃ یونس، سورۃ الانبیاء، سورۃ
الصافات وغیرہ۔
(1)دعوت اور قوم کا انکار:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَ اِنَّ یُوْنُسَ
لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (سورۃ الصافات، آیت 139)
حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم
کو اللہ کی طرف بلایا لیکن وہ لوگ نافرمانی کرتے رہی ۔
(2) قوم کو چھوڑ کر جانا:اِذْ اَبَقَ اِلَى
الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: جب کہ بھری کشتی
کی طرف نکل گیا۔ (سورۃ الصافات، آیت 140)
یہاں " اَبَقَ " کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے
ناراض ہو کر چلے جانا۔ حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کے انکار سے پریشان ہو کر
وہاں سے روانہ ہو گئے۔
(3) مچھلی کے پیٹ میں جانا:فَالْتَقَمَهُ
الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو
ملامت کرتا تھا۔ (سورۃ الصافات، آیت 142)
یہ واقعہ حضرت یونس علیہ السلام کی
آزمائش کا اہم مرحلہ تھا۔
(4) مچھلی کے پیٹ میں دعا (مشہور تسبیح):لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود
نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے
بے جا ہوا۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 87)
یہ دعا حضرت یونس علیہ السلام نے
مچھلی کے پیٹ میں پڑھی، جسے "دعائے یونس" کہا جاتا ہے۔
(5)نجات اور اللہ کی رحمت:فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی
پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ الانبیاء، آیت 88)
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول
فرمائی اور انہیں مچھلی کے پیٹ سے نجات عطا کی۔
(6)قوم کی ہدایت:فَلَوْ لَا كَانَتْ
قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ
اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ
مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ
کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم
نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے
دیا۔ (سورۃ یونس، آیت 98)
حضرت یونس علیہ السلام کی قوم وہ
واحد قوم ہے جس نے عذاب کے آثار دیکھ کر سچی توبہ کی اور اللہ نے انہیں معاف فرما
دیا۔
سبق اور نصیحتیں:
(1) توبہ کی طاقت: سچی توبہ
انسان کو مشکل سے نکال سکتی ہے۔
(2) اللہ کی رحمت: اللہ تعالیٰ
اپنے بندوں کو معاف کرنے والا ہے۔
(3) دعا کی قبولیت: اخلاص سے کی
گئی دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔
حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ
قرآن مجید میں ایک عظیم سبق کے طور پر بیان ہوا ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مشکل
حالات میں بھی اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور کبھی بھی اس کی رحمت سے مایوس نہیں
ہونا چاہیے۔ ان کی دعا قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے ایک عظیم خزانہ ہے۔
Dawateislami