حضرت یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبروں میں سے ایک ہیں جن کا ذکر قرآن مجید میں نہایت محبت اور حکمت کے ساتھ کیا گیا ہے۔حضرت یونس علیہ السلام کو" ذوالنون" بھی کہا جاتا ہے، جس کے معنی ہیں مچھلی والے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے واقعے کے ذریعے انسانوں کو یہ سبق دیا کہ اگر بندہ اخلاص کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرے تو اللہ تعالی ہر مشکل آسان فرما دیتا ہے۔ آپ نے اپنی قوم کو توحید نیکی اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی لیکن قوم نے ابتدا میں آپ کی بات ماننے سے انکار کیا۔

حضرت یونس علیہ السلام کی زندگی صبر،توبہ،دعا اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کا خوبصورت نمونہ ہے۔ ان کا واقعہ قرآن پاک کے ان عظیم واقعات میں شامل ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور معافی کی امید دلاتے ہیں۔

قرآن پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکرمختلف مقامات پر آیا ہے۔ان کی طرح ان کا واقعہ قرآن پاک کے ان عظیم واقعات میں شامل ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور معافی کی امید دلاتے ہیں۔

(1) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(صافات:142)

(2) وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(صافات:139)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا: لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔(انبیاء:87)

حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ ہر مسلمان کے لیے نصیحت اور ہدایت کا خزانہ ہے۔ اس واقعے سے ہمیں صبر برداشت دعا اور اللہ تعالیٰ پر یقین کا درس ملتا ہے۔ انسان زندگی میں کتنی ہی مشکلات میں کیوں نہ آ جائے اسے کبھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت یونس علیہ السلام کی سیرت سے سبق حاصل کرنے اور اپنی زندگی کو نیکی صبر اور دعا سے روشن کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین