قرآن مجید صرف احکام و قوانین کی کتاب نہیں ہے، بلکہ یہ ہدایت و عبرت کا ایک ایسا سرچشمہ ہے جو انسانوں کو رہنمائی فراہم کرنے کے لیے ماضی کے انبیاء کرام علیہم السلام کے واقعات کو بہترین اسلوب میں بیان کرتا ہے۔ ان ہی جلیل القدر پیغمبروں میں سے ایک حضرت یونس علیہ السلام ہیں، جن کا ذکر قرآن کریم میں نہایت سبق آموز اور منفرد انداز میں کیا گیا ہے۔ آپ علیہ السلام کا واقعہ انسان کو مایوسی کےاندھیروں سے نکال کر امیدِ الٰہی کی روشن شاہراہ پر گامزن کرتا ہے۔ قرآن مجید میں آپ کا تذکرہ جہاں ایک مصلح کی ذمہ داریوں کو واضح کرتا ہے، وہاں توبہ کی قبولیت اور اللہ کی بے پایاں رحمت کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔

قرآن مجید میں حضرت یونس علیہ السلام کا تذکرہ:قرآن کریم میں حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر مختلف مقامات پر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی دسویں سورت کا نام ہی آپ کے نام پر "سورۃ یونس" رکھا۔ اس کے علاوہ آپ کا تذکرہ سورۃ الانبیاء، سورۃ الصافات اور سورہ القلم میں بھی ملتا ہے۔

قرآن مجید میں آپ کو دو خاص القاب سے بھی نوازا گیا ہے:

(1)ذو النون: (مچھلی والے) (2)صاحب الحوت: (مچھلی کے ساتھی)

دعوتِ حق اور قوم کی سرکشی:حضرت یونس علیہ السلام کو عراق کے مشہور شہر نینویٰ کے لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا تھا، جن کی تعداد ایک لاکھ سے زائد تھی۔ اس قوم نے شرک اور بت پرستی کو اپنا رکھا تھا۔ آپ علیہ السلام نے طویل عرصے تک انہیں حق کی دعوت دی، مگر قوم اپنی سرکشی اور ضد پر اڑی رہی۔جب قوم کی طرف سے مسلسل انکار سامنے آیا، تو اللہ کے حکم سے آپ نے انہیں عذاب کی وعید سنائی۔ تاہم، مصلحتِ الٰہی کے حتمی اشارے سے پہلے ہی آپ علیہ السلام شدید رنجیدہ ہو کر بستی سے رخصت ہو گئے۔

قرآن مجید کی رو سے، حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی یہ انفرادی خصوصیت ہے کہ عذاب کی نشانیاں دیکھنے کے بعد جب انہوں نے سچے دل سے توبہ کی، تو اللہ نے ان کا عذاب ٹال دیا۔ قرآن پاک میں ارشاد ہے:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃیونس:98)

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبیاء: 87)

اللہ تعالیٰ نے اس مخلصانہ توبہ کو فوری قبول فرمایا اور مچھلی کو حکم دیا کہ وہ آپ کو ساحل پر اگل دے۔

رب تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے خالق ومالک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔