سورۃ کا نام اور سُورۃ کی وجہ تسمیہ: اس سورۃ کا نام سورۃ یونس ہے کیونکہ یونس علیہ السلام کی قوم باقی انبیاء علیہم السلام کی اقوام سے اس صفت میں منفرد تھی کہ یونس علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور انہوں نے عذاب الہٰی کے آثار دیکھ لیے ۔تو وہ اللہ تعالیٰ اور حضرت یونس علیہ السلام پر ایمان لے آئے اور ان کا ایمان لانا نفع آور ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا اور ان سے عذاب اٹھالیا چنانچہ فرمایا:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔(سورۃیونس:98)

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ الصلٰوۃ والسلام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی قائم رہے تھے تو حضرت یونس علیہ الصلٰوۃ والسلام غضبناک ہوکر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ، لیکن آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار نہ کیا تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی رات کی تاریکی اور مچھلی کی تاریکی ان اندھیروں میں حضرت یونس علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اپنے پروردگار عزوجل سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب عزوجل تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو عیب سے پاک ہے بیشک مجھے سے بے جاہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اذن اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔ ( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)

حضرت یونس علیہ الصلٰوۃ والسلام کی دعا: مچھلی کے پیٹ میں جب دعا مانگی تو یہ کلمات کہے:

لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃالانبیاء:87)

فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ: تو اس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے: امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’ جس شخص نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ عاجز ہے وہ کافر ہے، اور یہ ایسی بات ہے کہ کسی عام مومن کی طرف بھی اس کی نسبت کرنا جائز نہیں تو انبیاءِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف یہ بات منسوب کرنا کس طرح جائز ہو گا (کہ وہ اللہ تعالیٰ کو عاجز گمان کرتے ہیں ۔ لہٰذا اس آیت کا یہ معنی ہر گز نہیں کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں پکڑنے پر قادر نہیں بلکہ ) اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ’’حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں فرمائے گا۔ ( تفسیرکبیر، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ۸ / ۱۸۰)