محمد
اویس (درجہ دارالحدیث مرکزی جامعۃالمدینہ فیضان مدینہ، کراچی،پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر حضرت یونس علیہ السّلام کا تذکرہ فرمایا ہے۔ آپ
علیہ السّلام اللہ کے جلیل القدر نبی تھے جنہیں نینویٰ کی قوم کی طرف ہدایت کے لیے
بھیجا گیا۔ قرآنِ کریم میں آپ کی دعوت، قوم کا رویہ، آپ پر آنے والی آزمائش، مچھلی
کے پیٹ میں جانا، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا کرنا اور پھر نجات پانا تفصیل کے
ساتھ بیان ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ
نے ارشاد فرمایا:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (سورۃ الصافات: 139)
تفسیر
خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت ہے کہ حضرت ابن عباس اور وہب کا قول ہے کہ حضرت یونس
علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا اس میں تاخیر ہوئی تو آپ ان سے
چھپ کر نکل گئے اور آپ نے دریائی سفر کا قصد کیا کشتی پر سوار ہوئے دریا کے درمیان
میں کشتی ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی سبب ظاہر موجود نہ تھا ملاحوں نے کہا
اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے قرعہ ڈالنے سے ظاہر ہو جائے گا،
قرعہ ڈالا گیا تو آپ ہی کے نام نکلا، تو آپ نے فرمایا: میں ہی وہ غلام ہوں اور آپ
پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ دستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق
نہ کر دیا جائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی ۔
جب قوم نے
مسلسل انکار کیا تو حضرت یونس علیہ السّلام ناراض ہو کر بستی سے چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ
نے فرمایا:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے ۔(سورۃ الانبیاء: 87)
تفسیر
صراط الجنان میں بیان کیا گیا ہے کہ ” ذَا النُّوْنِ“ حضرت یونس
علیہ السّلام کا لقب ہے، جس کا معنی “مچھلی والے" ہے۔ آپ اپنی قوم کے مسلسل
انکار کی وجہ سے رنجیدہ ہوکر روانہ ہوئے۔
پھر اللہ
تعالیٰ کی مشیت سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا۔(سورۃ
الصافات: 142)
پھر حضرت یونس
علیہ السّلام نے مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و استغفار کی اور اپنی
عاجزی کا اظہار فرمایا۔
قرآنِ مجید
میں آپ کی مشہور دعا بھی ذکر کی گئی ہے:لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ
اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ
الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃ
الانبیاء: 87)
اسی دعا کی
برکت سے اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السّلام کو نجات عطا فرمائی۔
اللہ تعالیٰ
نے فرمایا:فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی
الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (سورۃ
الانبیاء: 88)
قرآنِ کریم
میں حضرت یونس علیہ السّلام کو"ذَا النُّوْن" اور
"صَاحِبُ الْحُوْت" جیسے
القابات سے یاد کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے واقعے کے ذریعے صبر، عاجزی، رجوع
الی اللہ اور دعا کی اہمیت کو واضح فرمایا۔ ارو حضرت یونس علیہ السّلام کے واقعے
سے یہ سبق ملتا ہے کہ بندہ مشکلات اور آزمائشوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے
اور کبھی اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔
Dawateislami