اللہ پاک
نے انسانوں کو پیدا فرمایا اور اُن پر بیشمار انعامات عطا فرمائیں اُن کی رہنمائی
اور ہدایت کی لیے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرمایا جن میں ایک حضرت یونس علیہ
السلام بھی ہے۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا نام یونس بن متٰی جبکہ لقب ذوالنون اور
صاحِبُ الْحُوْت (یعنی مچھلی والے) ہے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ
السَّلَام کی اولاد میں سے ہیں۔آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں
دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے چالیس سال لوگوں کو بت پرستی
چھوڑنے اورتوحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو جھٹلایا اور
اپنے شرک سے باز نہ آئے، تب آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں
عذاب کی خبردی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے۔قوم نے علاماتِ عذاب کا مشاہدہ
کر کے بارگاہِ الٰہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا آپ عَلَیْہِ
السَّلَام پرجداگانہ کوئی کتاب یا صحیفہ نازل نہیں ہوا،البتہ وحی کے ذریعے آپ
عَلَیْہِ السَّلَام پر بعض احکام نازل ہوئے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ
النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ
اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ
وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد
پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے
بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد
کو زبور عطا فرمائی۔ (پ6، النساء:163 )
اللہ تعالیٰ
نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں کہ:
اللہ تعالیٰ نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی
دعاقبول فرمائی، آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا۔مچھلی کے پیٹ میں بھی تَوَجّہ اِلَی
اللہ ، رضا بالقضاء اور ذکر ِ الٰہی کی توفیق بخشی۔ خاص فضل فرماکرمچھلی کے پیٹ سے
نجات دی۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین
کے گروہ میں اعلیٰ درجہ عطا فرمایا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ
كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ
رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ
الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا
جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا
تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا
جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں
میں کرلیا۔ (پ۲۹،القلم:۴۸، ۵۰)
حضرت
یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کا واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ موصل کے علاقے نینوٰی میں
رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس عَلَیْہِ
السَّلَام ان کی طرف رسول بنا کربھیجے۔ آپ نے انہیں ایک عرصے تک بت پرستی چھوڑنے
اور ایمان لانے کا حکم دیا، لیکن یہ لوگ دعوت قبول کرنے سے انکار اور حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام کی تکذیب کی راہ پر ہی گامزن رہے۔ طویل عرصے تک پوری کوشش کے
باوجود جب لوگ راہِ راست پر نہ آئے تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نےبارگاہِ الٰہی میں
دعا کی :اے اللہ !قوم مجھے جھٹلانے پر ہی قائم ہے،پس تو ان پر اپنا عذاب نازل کر
دے ۔اس پر ان سے فرمایا گیا:آپ انہیں خبر دے دیں کہ تین دن بعد صبح کے وقت ان پر
عذاب نازل ہو جائے گا۔چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے قوم کو نزولِ عذاب کی خبر
دےدی۔(خازن،یونس،تحت الاٰیۃ:۹۸، ۲/۳۳۵، روح البیان،یونس،تحت الاٰیۃ:۹۸،۴/۸۲، ملتقطاً)
نزولِ
عذاب کی خبر سن کرلوگوں نے آپس میں کہا : حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے کبھی
کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں
اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات
ہوئی توحضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام وہاں سے تشریف لے گئے اور صبح کے وقت عذاب کے
آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع
ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ،
انہوں نے حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کو تلاش کیالیکن آپ کو نہ پایا، اب انہیں
اور زیادہ اندیشہ ہوا ۔ یہ سب دیکھ کر وہ لوگ اپنی عورتوں ، بچوں اور جانوروں کے
ساتھ جنگل کی طرف نکل گئے، موٹے کپڑے پہن کر توبہ و اسلام کا اظہار کیا، شوہر سے بیوی
اور ماں سے بچے جدا ہوگئے اور سب نے بارگاہِ الٰہی میں گریہ و زاری شروع کر دی اور
عرض کرنے لگے کہ جودین حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام لائے ہیں ہم اس پر ایمان لاتے
ہیں۔ چنانچہ انہوں نے سچی توبہ کی اور جو جَرائم ان سے ہوئے تھے انہیں دور کیا،
پرائے مال واپس کئے حتّٰی کہ اگر دوسرے کا ایک پتھرکسی کی بنیاد میں لگ گیا تھا تو
بنیاد اکھاڑ کر وہ پتھر نکال دیا اور واپس کردیا ۔ اللہ تعالیٰ سے اخلاص کے ساتھ
مغفرت کی دعائیں کیں توپروردگارِ عالَم نے ان پر رحم کیا، دعا قبول فرمائی اور
عذاب اٹھا دیا گیا۔(خازن،یونس،تحت الاٰیۃ:۹۸، ۲/۳۳۵- ۳۳۶، ملتقطاً. )
قرآنِ کریم میں ہے:فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ ( پ۱۱،یونس:۹۸)
اس مقام پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآنِ
پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں ذکر فرمایا کہ اس نے آخری وقت توبہ کی
لیکن اس کی توبہ قبول نہ ہوئی جبکہ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کے بارے میں
ذکر فرمایا کہ انہوں نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی، دونوں
کی توبہ میں کیا فرق ہے؟ امام فخر الدین رازی رحمۃاللہ علیہ اس کے جواب میں فرماتے
ہیں کہ فرعون کی توبہ اور حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کی توبہ میں واضح
فرق ہے وہ یہ کہ فرعون نے عذاب کا مشاہدہ کرنے کے بعد توبہ کی تھی جبکہ حضرت یونس
عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم پر جب وہ نشانیاں ظاہر ہوئیں جو عذاب کے قریب ہونے پر
دلالت کرتی ہیں تو انہوں نے عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے اسی وقت ہی توبہ کر لی تھی۔
(تفسیرکبیر، یونس، تحت الآیۃ: ۹۸، ۶ / ۳۰۳)
دوسری طرف
حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام اپنی قوم کی توبہ سے باخبر نہیں تھے اور جب انہوں نے
دیکھا کہ قوم کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی اس میں تاخیر ہوگئی ہے تو آپ عَلَیْہِ
السَّلَام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی طرف سے
اجازت نازل ہوئے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے یہ
خیال کیاکہ اللہ تعالیٰ مجھ پرکوئی تنگی نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی
بازپرس ہوگی۔حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک
وجہ یہ بھی تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو
جائے، آپ عَلَیْہِ السَّلَام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے وحی
الٰہی سے ہی انہیں بتایا کہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عَزَّ
وَجَلَّ کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں
آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اس لیے آپ قتل کے اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ
آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی متعین وقت نہیں
بتایا تھا کہ جس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو معاذ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔
حضرت
عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کا قول ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ
السَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو(قتل سے
بچنے کے لئے ) آپ عَلَیْہِ السَّلَام اُن سے چھپ کر نکل گئے ، آپ عَلَیْہِ السَّلَام
نے دریائی سفر کا قصد کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان
پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے
کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر
ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ عَلَیْہِ
السَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام
ہوں۔اس کے بعد آپ عَلَیْہِ السَّلَام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں
کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی
چلتی نہ تھی۔( خازن،والصافات،تحت
الاٰیۃ:۱۴۰، ۴/۲۶)
Dawateislami