اللہ عزوجل نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار(124000) انبیاء کرام مبعوث فرمائے جن میں سے 313 رسول ہیں اور ان میں سے اللہ عزوجل کے ایک جلیل القدر نبی اور رسول حضرت یونس علیہ السلام ہیں۔

حضرت یونس علیہ السلام کا تعارف:

نام: آپ کا نام "یونس بن متٰی" ہے۔القاب: ذوالنون اور صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے) نسب: آپ حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔

قرآن پاک میں تذکرہ: قرآن پاک میں آپ کا نام مبارک 4 بار ذکر کیا گیا ہے۔اور آپ کا تفصیلی تذکرہ درج ذیل چار سورتوں میں آیا ہے۔(1)سورۃ یونس آیت 98 (2) سورۃ انبیاء آیت87،88

(3)سورۃ صافات آیت 139تا148 (4)سورۃ قلم آیت 48تا50

حضرت یونس علیہ السلام کا مختصر واقعہ: حضرت یونس علیہ السلام بستی نینویٰ کے نبی تھے جو موصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی آپ علیہ السلام نے 40 سال لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور شرک سے باز نہ آئے تو اب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی کے حکم سے انہیں عذاب کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر کے بارگاہ الٰہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔

حضرت یونس علیہ السلام کا سفر:جب آپ نے قوم کے عذاب میں تاخیر دیکھی تو اپنی قوم کے کفر پر غضبناک ہو کر اللہ کا حکم آنے سے پہلے ہی ہجرت کی ارادے سے چل دیے آپ بھری کشتی میں سوار ہوئے جب کشتی درمیان میں پہنچی تو ٹھہر گئی ملاحوں نے کہا کہ اس کشتی میں اپنے آقا سے بھاگا ہوا غلام ہے انہوں نے قرعہ اندازی کی تو آپ کا نام نکلا تو انہوں نے آپ کو پانی میں ڈال دیا مگر اللہ کی قدرت کہ ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ(۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔(سورۃ صافات آیت 139 تا 142 )

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا اور قبولیت: آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو انہیں کئی قسم کی تاریکیوں کا سامنا ہوا دریا کی تاریکی، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی تو آپ نے اللہ عزوجل سے دعا :

فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ انبیاء آیت 87)

اللہ عزوجل نے حضرت یونس علیہ السلام کی دعا سن لی اور اسے شرف قبولیت سے نوازا چنانچہ ارشاد فرمایا:

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔(سورۃانبیاء،88)

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (سورۃصافات آیت 145)

اب اس میدان میں نہ کوئی سایہ تھا نہ کھانے پینے کی کوئی چیز تو اللہ نے وہاں ایک کدو کا پیڑ اگا دیا اور روزانہ اللہ کے حکم سے ایک بکری آتی اور اپنا تھن آپ کے منہ مبارک میں دے کر آپ کو صبح شام دودھ پلاتی حتی کہ آپ کی کھال مضبوط ہوئی اور جسم میں توانائی آئی۔ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:

وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس پرکدو کا پیڑ اگادیا۔ ( سورۃ صافات آیت 146)

اس کے بعد اللہ عزوجل نے آپ کو آپ کی قوم کی طرف واپس بھیجا اور آپ کی قوم آپ پر ایمان لے آئی۔

حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے ملنے والے اسباق:

(1)اللہ عزوجل کے احکام کو ہر کام میں مد نظر رکھنا چاہئے۔

(2)مشکلات میں مایوسی کی بجائے اللہ عزوجل سے رحمت کی امید رکھنی چاہیے۔

(3)ہر حال میں ذکر الہی کرنا چاہیے۔

(4)کاموں میں جلد بازی سے بچنا چاہیے۔

اللہ عز وجل ہمیں انبیاء کرام کی سیرت پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہ خاتم النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم۔