شکیل
احمد (درجہ دورۃالحدیث جامعۃالمدینہ فیضان غوث الاعظم ، کراچی،پاکستان)
میرے پیارے
اور میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت یونس علیہ السلام اللہ تبارک و تعالی کے پیغمبروں میں
سے ایک پیغمبر ہے۔ آپ کو اللہ پاک نے اپنی قوم کی رشد و ہدایت کیلئے مبعوث فرمایا ۔آپ
اللہ پاک کا حکم پاکر قوم کی طرف گئے لیکن قوم نے آپکی دعوت قبول کرنے سے انکار
کردیا ۔ اس کے متعلق قرآن مجید میں ذکر آیا ہےچنانچہ فرمایا:
اللہ پاک
ارشاد فرماتاہے : ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک
ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃا لانبیاء:87)
اس کا
خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کے لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی اور نہ ہی نصیحت مانی بلکہ وہ اپنے کفر پر ہی
قائم رہے تھے، تو حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام غضبناک ہو کر اپنی قوم کے علاقے سے تشریف لے گئے
اور آپ نے یہ گمان کیا کہ یہ ہجرت آپ کے لئے جائز ہے کیونکہ اس کا سبب صرف کفر اور
کافروں کے ساتھ بغض اور اللہ تعالیٰ کے لئے غضب کرنا ہے، لیکن آپ نے اس
ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار
نہ کیا تھا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے
انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی
کے پیٹ کی تاریکی ، ان اندھیروں میں حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنے پروردگار
عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، تیرے سوا کوئی معبود
نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے
بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن
اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( مدارک، الانبیاء، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۷۲۴)
امام فخر
الدین رازی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے علاوہ دیگر معتبر مفسرین نے بھی اس
آیت کا یہ معنی بیان کیا ہے ،اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی
عَلَیْہِ نے بھی اسی معنی کو اختیار کیا ہے اور ہم نے بھی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ
اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اور دیگر معتبر مفسرین کی پیروی کرتے ہوئے اس آیت میں لفظ
’’لَنْ نَّقْدِرَ‘‘کا
ترجمہ’’ ہم تنگی نہ کریں گے‘‘کیا ہے۔
اللہ
تبارک وتعالی حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کے صدقے میں تمام مشکلات آسان فرمائے
اور ہمیں نیکی کی دعوت دینے اور دین کا کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
Dawateislami