فراز
عزیز پنہور (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی، کراچی،پاکستان)
اللہ تعالیٰ
نے آپ کو نبوت عطا فرمائی، چنانچہ قرآن میں ہے:وَ اِنَّ
یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔ (الصافات 139)
حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی
قوم:حضرت یونس کی قوم نینویٰ میں رہتی تھی اور شرک و برائیوں میں مبتلا تھی۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی ہدایت کے لیے بھیجا۔ آپ نے طویل عرصہ انہیں توحید کی
دعوت دی مگر وہ انکار کرتے رہے۔ آخر آپ نے خبردار کیا کہ تین دن بعد عذاب آئے گا
اور وہاں سے چلے گئے۔جب عذاب کی نشانیاں ظاہر ہوئیں تو قوم خوفزدہ ہو گئی، میدان میں
نکل کر اللہ سے توبہ کی، اپنے گناہوں کی اصلاح کی اور سچے دل سے ایمان لے آئی۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کر کے عذاب ٹال دیا۔قرآن میں ہے:
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان
اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں
رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔ (سورۃ یونس، آیت
98)
حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی
سفر اور مچھلی کا نگلنا:حضرت یونس علیہ السلام اپنی قوم کی توبہ سے بے خبر تھے۔ عذاب میں تاخیر دیکھ
کر آپ ناراض ہو کر بغیر حکمِ الٰہی وہاں سے نکل گئے اور ایک کشتی میں سوار ہوئے۔
سمندر میں کشتی رک گئی تو قرعہ ڈالا گیا جس میں آپ کا نام نکلا، چنانچہ آپ کو دریا
میں ڈال دیا گیا۔اللہ کے حکم سے ایک مچھلی نے آپ کو نگل لیا مگر کوئی نقصان نہ
پہنچایا۔ اس حالت میں آپ نادم تھے اور اللہ کی تسبیح کرنے لگے۔قرآن میں ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰) فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیْنَۚ (۱۴۱) فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف
نکل گیا۔ تو کشتی والے نے قرعہ ڈالا تویونس دھکیلے جانے والوں میں سے
ہوگئے۔ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ
اپنے آپ کو ملامت کررہے تھے۔(سورۃ الصافات، آیت 139-142)
حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی
دعا کی قبولیت:مچھلی کے پیٹ کی تاریکی میں حضرت یونس علیہ السلام نے عاجزی سے دعا کی:
" لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ"۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا
قبول فرمائی اور انہیں غم سے نجات دی۔قرآن میں ہے:فَسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ۔
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان
والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔ (الانبیاء آیت 88)
مچھلی کے پیٹ سے نجات:اللہ تعالیٰ
نے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکال کر میدان میں ڈال دیا جبکہ آپ
کمزور تھے۔قرآن میں ہے:فَنَبَذْنٰهُ بِالْعَرَآءِ وَ هُوَ
سَقِیْمٌۚ(۱۴۵)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: پھر ہم نے اسے میدان میں ڈال دیا اور وہ بیمار تھا۔ (سورۃ الصافات: 145)
مچھلی کے پیٹ میں قیام کی مدت:علماء کے
نزدیک قیام کی مدت مختلف بیان ہوئی ہے، کسی کے نزدیک ایک دن، کسی کے نزدیک کئی دن یا
چالیس دن تک۔(جلالین الصافات تحت الآیت 145 ص 478)
کدو کا درخت:اللہ تعالیٰ نے آپ کے
آرام کے لیے کدو کا درخت اگایا جس نے سایہ اور حفاظت فراہم کی اور آپ کی صحت بحال
ہوئی۔
وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہم نے اس پرکدو کا پیڑ اگادیا۔ (سورۃ الصافات: 146)
حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی
قوم میں دوبارہ تشریف آوری:صحت یابی کے بعد آپ دوبارہ اپنی قوم
کی طرف بھیجے گئے جو اب ایمان لا چکی تھی۔ انہوں نے آپ کا استقبال کیا اور اطاعت
اختیار کی، جس کے نتیجے میں انہیں دنیاوی نعمتیں ملیں۔قرآن میں ہے:وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیْدُوْنَۚ(۱۴۷) فَاٰمَنُوْا
فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍؕ(۱۴۸)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور ہم نے اسے ایک لاکھ بلکہ زیادہ آدمیوں کی طرف بھیجا۔ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے
انہیں ایک وقت تک فائدہ اٹھانے دیا۔ (سورۃ الصافات، آیت 147-148)
حضرت یونس علیہ السلام کے واقعے سے
حاصل ہونے والی نصیحت:علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ صبر، توبہ
اور اللہ پر کامل بھروسے کا عظیم سبق ہے۔ مشکل حالات میں بھی اللہ کی یاد انسان کو
نجات دلاتی ہے اور سچی توبہ سے اللہ تعالیٰ مصیبتیں دور فرما دیتا ہے۔(عجائب
القرآن مع غرائب القرآن، ص 126، 127)
Dawateislami