محمد
اکمل عطّاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ عثمان غنی، کراچی ،پاکستان)
حضرت یونس
علیہ السلام کا تذکرہ قرآنِ مجید میں نہایت مؤثر اور ایمان افروز انداز میں آیا
ہے۔ آپ علیہ السلام ان جلیل القدر(یعنی)بڑے بڑے انبیاءِ کرام میں سے ہیں جن کی حیاتِ
مبارکہ ہمیں صبر، توبہ، رجوع الی اللہ اور امید کا درس دیتی ہے۔ آپ کو ایک نافرمان
قوم کی طرف بھیجا گیا، آپ نے انہیں اللّہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دی، مگر جب
انہوں نے مسلسل انکار کیا تو آپ رنجیدہ ہو کر بستی چھوڑ گئے۔ یہی وہ مرحلہ تھا
جہاں آزمائش کا در کھلا اور ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو رہتی دنیا تک کے لیے نصیحت
بن گیا۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(پ23، سورۃ الصافات، آیت 139)
پھر جب آپ
کشتی میں سوار ہوئے تو طوفان آیا، قرعہ اندازی ہوئی اور آپ کو سمندر میں ڈال دیا گیا:
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت
کررہے تھے۔ (پ23، سورۃ الصافات، آیت 142)
مچھلی کے
پیٹ، سمندر کی گہرائی اور رات کے اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے رب
کو پکارا:
لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ
ترجمہ
(کنزالایمان): “تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو پاک ہے، بیشک مجھ سے بےجا ہوا۔(پ17،
سورۃ الانبیاء، آیت 87)
یہ وہ عظیم
دعا ہے جو قیامت تک آنے والے ہر مومن کے لیے نجات کا ذریعہ ہے۔ اسی دعا کی برکت سے
اللہ تعالیٰ نے آپ کو نجات عطا فرمائی:فَاسْتَجَبْنَا
لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات
دیں گے مسلمانوں کو۔ (پ17، سورۃ الانبیاء، آیت 88)
یہ آیات
ہر صاحبِ ایمان کو یقین دلاتی ہیں کہ اللّہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مشکلات سے نکالنے
پر قادر ہے، بشرطیکہ بندہ اخلاص کے ساتھ اس کی طرف رجوع کرے۔
ایک نصیحت
آموز بات یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام جب مچھلی کے پیٹ میں تھے تو بظاہر کوئی
سہارا نہ تھا، مگر انہوں نے مایوسی اختیار نہ کی بلکہ اللہ کی بارگاہ میں جھک گئے۔
یہی طرزِ عمل ایک مومن کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں،
اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:ذوالنون (حضرت یونس علیہ السلام) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی،
کوئی مسلمان جب بھی اس کے ذریعے دعا کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے
گا۔(جامع ترمذی، کتاب الدعوات، باب دعاء ذی النون، حدیث: 3505)
رسول اللہ
ﷺ نے فرمایا:جو شخص اللہ تعالیٰ سے کثرت کے ساتھ توبہ کرتا ہے، اللّہ تعالیٰ اس کی
توبہ قبول فرماتا ہے۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب ذکر التوبہ، حدیث: 4250)
حضور نبی
اکرم ﷺ نے فرمایا:اللہ کو خوشحالی میں یاد رکھو، وہ تمہیں تنگی میں یاد رکھے
گا۔(جامع ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، حدیث: 2516)
نبی کریم ﷺ
نے فرمایا:کوئی بھی مسلمان کسی مصیبت میں مبتلا ہو اور یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالیٰ
اس کی مشکل دور فرما دیتا ہے۔(مسند احمد، حدیث: 17340)
حضرت یونس
علیہ السلام کا واقعہ ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے کہ بیشک انسان خطا کا پتلا ہے، مگر
اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے۔ اصل کامیابی اپنی غلطی کو پہچان کر عاجزی کے
ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنے میں ہے۔ مایوسی شیطان کا ہتھیار ہے جبکہ امید مومن کی
پہچان ہے۔اگر ہم اپنی زندگی میں اس ایک دعا کو اپنا لیں اور سچے دل سے اللّہ کو
پکاریں تو یقیناً ہماری زندگیوں میں بھی آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔اور یہ بھی پتا
چلتا ہے کہ اندھیری رات کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، روشنی کا سویرا ضرور طلوع ہوتا
ہے،بس شرط یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھے ۔اللہ پاک ہمیں
اپنے پیاروں سے سچی محبت نصیب فرمائے آمین۔
Dawateislami