الله تعالٰی نے انسانوں کی ہدایت رہنمائی کے لیے کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار(124000) انبیاء علیہم السلام کو بھیجا ۔ ان مقدس ہستیوں میں سے حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر قرآن مجید میں خاص اہمیت رکھتا ہے ۔حضرت یونس علیہ السلام کا یہ قصہ تاریخی ہی نہیں بلکہ اندھیروں میں ایک امید کی کرن ہے جو انسان کو رب تعالیٰ سے جوڑتی ہے قرآن مجید میں آپ کو ذوالنون (مچھلی ولا) اور "صاحب الحوت" کے القاب سےیاد کیا گیا ہے۔

چالیس(40) سال دعوت حق:حضرت یونس علیہ السلام بستی ''نینوی'' کے نبی تھے جو موصل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔آپ علیہ السلام نے چالیس سال ان لوگوں کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبردی ۔ (روح البیان، الصافات، تحت الآیۃ: 139، 7/ 486)

حضرت یونس علیہ السلام کا دریائی سفر:حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم کو عذاب آ نے کی جو خبر دی تھی جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ علیہ السلام اپنی قوم کے کفر و نافرمانی پر اصرار کرنے کی وجہ سے غضبناک ہو کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر ہی ہجرت کے ارادے سے چل دئیے اور آپ علیہ السلام نے یہ خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی تنگی نہیں کرے گااورنہ ہی اس فعل پرمجھ سے کوئی پوچھ گچھ ہوگی حضرت یونس علیہ السلام کے ہجرت کرنے اور غضبناک ہونے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ لوگ اس شخص کو قتل کر دیتے تھے جس کا جھوٹاہونا ثابت ہو جائےآپ علیہ السلام یقینی طور پر سچے تھے کہ آپ علیہ السلام نے وحی الٰہی سے ہی انہیں بتایاکہ اگر تم نے میری بات نہ مانی تو تم پر اللہ عزوجل کا عذاب آئے گا لیکن چونکہ فی الحال عذاب آیا نہیں تھا تو قوم کی نظر میں آپ کا کہنا واقع کے خلاف تھا اسی لئے وہ آپ کے قتل کرنے کا ارادہ کرلیاتھا اور آپ علیہ السلام اسی اندیشے سے وہاں سے چل دئیے حالانکہ آپ علیہ السلام نے عذاب کا تو فرمایا تھا لیکن انہیں کوئی متعین وقت نہیں بتایا تھا کہ جس پر آپ علیہ السلام کو معاذ اللہ آپ کی قوم جھوٹا کہہ سکتی۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت وہب رضی اللہ تعالی عنہما کا قول ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام نے اپنی قوم سے عذاب کا وعدہ کیا تھا جب اس میں تاخیر ہوئی تو (قتل سے بچنے کے لئے) آپ علیہ السلام اُن سے چھپ کر نکل گئے آپ علیہ السلام نے دریائی سفر کا ارادہ کیا اور بھری کشتی پر سوار ہوگئے جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا ملاحوں نے کہا اس کشتی میں اپنے آقا سے بھاگا ہوا کوئی غلام ہے قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے چنانچہ قرعہ اندازی کی گئی توا س میں آپ علیہ السلام ہی کانام نکلا اس پر آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں اس کے بعد آپ علیہ السلام پانی میں ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( خازن، والصافات، تحت الآیۃ: 140، 4 / 26، مدارک، الصافات، تحت الآیۃ: 140، ص1009، ملتقطاً)

الله پاک نے قرآن پاک میں اس کا ذکر یوں فرمایا:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک یونس ضرور رسولوں میں سے ہے۔ جب وہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (سورۃالصفت :139،140)

حضرت یونس علیہ السلام کی دعا:پھر دریا میں ڈالنے کے بعد جب حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں تشریف لائے تو انہیں کئی قسم کی تاریکیوں کا سامنا ہوا جیسے دریا کی تاریکی رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی تاریکی ان اندھیروں میں حضرت یونس علیہ السلام نے اپنے پروردگار عزو جل سے اس طرح دعا کی۔ اے میرے رب تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیری اجازت لینے سے پہلے ہی جدا ہوگیا ۔قرآن پاک میں اللہ پاک نے اس کا ذکر یوں فرمایا:

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (سورۃ الانبیاء:87)

بندوں پرخدا کی آزمائش اور ان کا صبر: علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت یونس علیہ السلام کی دل ہلا دینے والی مصیبت اور مشکلات سے یہ ہدایت ملتی ہے کہ اللہ تعالی اپنے خاص بندوں کو کس کس طرح امتحان میں ڈالتا ہے لیکن جب بندے امتحان میں پڑ کر صبر واستقامت کا دامن نہیں چھوڑتے اور عین بلاؤں کے طوفان میں بھی خدا کی یاد سے غافل نہیں ہوتے تو ارحم الرحمین اپنے بندوں کی نجات کا غیب سے ایسا انتظام فرمادیتا ہے کہ کوئی اس کو سوچ بھی نہیں سکتا غور کیجئے کہ حضرت یونس علیہ السلام کو جب کشتی والوں نے سمندر میں پھینک دیا تو ان کی زندگی اور سلامتی کا کون ساذریعہ باقی رہ گیا تھا ؟ پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا تو اب بھلا ان کی حیات کا کون سا سہارا رہ گیا تھا ؟ مگر اسی حالت میں آپ نے جب آیت کریمہ کا وظیفہ پڑھا تو اللہ تعالی نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں بھی زندہ و سلامت رکھا اور مچھلی کے پیٹ سے انہیں ایک میدان میں پہنچا دیا اور پھر انہیں تندرستی و سلامتی کے ساتھ ان کی قوم اور وطن میں پہنچا دیا۔ اور ان کی تبلیغ کی بدولت ایک لاکھ سے زائد آدمیوں کو ہدایت مل گئی۔(عجائب القرآن مع غرائب القرآن، ص 127/136)