محمد
شاہ زیب سلیم عطاری(درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی،
لاہور،پاکستان)
انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اس کائنات کی عظیم ترین ہستیاں
ہیں اور اللہ عزوجل کے مقرب بندے ہیں اور انہی انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام میں
سے ایک عظیم ہستی حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام بھی ہیں حضرت یونس علیہ الصلوۃ
والسلام کا مختصر تعارف ملاحظہ فرمائیے ۔
تعارف:آپ علیہ السلام کا نام یونس
بن متی جبکہ لقب ذوالنون اور صاحب الحوت ( یعنی مچھلی والے) ہے۔ آپ علیہ السلام
حضرت ہود علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ بستی نینوی کے نبی تھے جو موصل کے
علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ آپ علیہ السلام نے چالیس سال لوگوں کو بت
پرستی چھوڑنے اور توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ السلام کو جھٹلایا اور
اپنے شرک سے باز نہ آئے ، تب آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں عذاب
کی خبر دی اور خود علاقے سے باہر تشریف لے گئے۔ قوم نے علامات عذاب کا مشاہدہ کر
کے بارگاہ الہی میں سچی توبہ کر لی تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔(سیرت الانبیاء ،ص491،مکتبۃالمدینہ)
آئیے چند قرآنی مقامات سے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کا تذکرہ
ملاحظہ فرمائیے:
(1) اللہ عزوجل کے انعامات :اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ
السلام پر بہت سے انعامات فرمائے جن میں سے چند یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ
السلام کی دعا قبول فرمائی، آپ کا رجوع بھی قبول فرمایا۔ مچھلی کے پیٹ میں بھی
توجہ الی الله، رضا بالقضاء اور ذکر الہی کی توفیق بخشی۔ خاص فضل فرما کر مچھلی کے
پیٹ سے نجات دی۔ آپ علیہ السلام کو اپنے منتخب بندوں میں شامل فرمایا اور صالحین
کے گروہ میں اعلیٰ درجہ عطا فرمایا۔جیسا کہ اللہ عزوجل نے فرمایا:
فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ
نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸) لَوْ لَاۤ اَنْ تَدٰرَكَهٗ نِعْمَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ لَنُبِذَ بِالْعَرَآءِ
وَ هُوَ مَذْمُوْمٌ(۴۹) فَاجْتَبٰىهُ رَبُّهٗ فَجَعَلَهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۵۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا
جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا
تھا۔اگر اس کے رب کی نعمت اس کی خبر کو نہ پہنچ جاتی تو ضرور میدان پر پھینک دیا
جاتا الزام دیا ہوا۔تو اسے اس کے رب نے چن لیا اور اپنے قُربِ خاص کے سزاواروں میں کرلیا۔ (پ29،سورۃ قلم :48تا 50)
(2)آپ علیہ الصلاۃ والسلام پر وحی
نازل ہوتی تھی: حضرت یونس علیہ الصلاۃ والسلام پر جدا گانہ
کوئی صحیفہ یا کتاب نازل نہیں ہوئی البتہ وحی کے ذریعے بعض احکام آپ علیہ الصلوۃ
والسلام پر نازل ہوئے۔(سیرت الانبیاء ،ص492،مکتبۃ
المدینہ )
اللہ
عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے : اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ
كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖۚ-وَ
اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ
الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَۚ-وَ
اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ(۱۶۳)
ترجمۂ
کنزالایمان: بیشک اے محبوب ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی جیسے وحی نوح اور اس کے بعد
پیغمبروں کو بھیجی اور ہم نے ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحٰق اور یعقوب اور ان کے
بیٹوں اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو وحی کی اور ہم نے داؤد
کو زبور عطا فرمائی۔ (پارہ 6، سُورۃ
النساء ،آیت 163)
(3)آپ علیہ الصلوۃ والسلام مچھلی کے پیٹ میں :اللہ عزوجل قرآن کریم میں
ارشاد فرماتا ہے :
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ وَ هُوَ مُلِیْمٌ(۱۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو
ملامت کرتا تھا۔(پ23،سورۃ الصفت:142)
فَالْتَقَمَهُ الْحُوْتُ: پھر انہیں مچھلی نے نگل لیا۔ جب
حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام دریا میں ڈال دئیے گئے تو انہیں ایک بڑی
مچھلی نے نگل لیا اور اس وقت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حال یہ تھا
کہ آپ خودکو ا س بات پر ملامت کر رہے تھے کہ نکلنے میں جلدی کیوں کی اور قوم سے
جدا ہونے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا انتظار کیوں نہ کیا۔ مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ
نے مچھلی کواِلہام فرمایا: ’’میں نے حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو
تیرے لئے غذا نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کے لئے قید خانہ بنایا ہے لہٰذا تم
نہ تو ان کی کوئی ہڈی توڑنا اور نہ ہی ان کے گوشت کو کاٹنا۔(پارہ23، تفسر صراط الجنان ،تحت
الایہ 142)
(4)آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے
کدو کا پیڑا:اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍۚ(۱۴۶)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ
اگایا۔(پ23،سورۃ الصفت:146)
وَ اَنْۢبَتْنَا عَلَیْهِ شَجَرَةً مِّنْ یَّقْطِیْنٍ: اور ہم نے اس پرکدو کا
پیڑ اگادیا۔ جس جگہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مچھلی کے پیٹ سے
باہرتشریف لائے وہاں کوئی سایہ نہ تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر سایہ کرنے اور انہیں
مکھیوں سے محفوظ رکھنے کے لئے کدو کا پیڑ اگا دیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے
روزانہ ایک بکری آتی اور اپنا تھن حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے
دہنِ مبارک میں دے کر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو صبح و شام دودھ پلا
جاتی یہاں تک کہ جسم مبارک کی جلد شریف یعنی کھال مضبوط ہوئی اور اپنے مقام سے بال
اگ آئے اور جسم میں توانائی آئی۔(تفسیر صراط الجنان ،پ23، سُورۃ
الصافات ،آیت146)
Dawateislami