خادم
حسین (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان عثمان غنی رضی اللہ عنہ ،کراچی ،پاکستان)
اللہ پاک
نے انسانیت کی ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ بندوں کو منصب نبوت ورسالت سے سرفراز
فرمایا تاکہ وہ پیغام الہی کو دنیا تک پہنچائیں یہ مقدس گروہ ہمیشہ کلمہ حق کی تبلیغ
میں مصروف رہا اور ہر طرح کی تکلیف کے سامنے ہمت و استقامت کا کوہ ہمالہ بنا رہا
اور حق تبلیغ ادا کرتارہا لیکن انکی قومیں بات ماننے کی بجائے جانی دشمن بن گئیں
ان ہی امتوں میں حضرت یونس علیہ السلام کی امت بھی ہے جس کے حالات کو قرآن پاک میں
متعدد مقامات پر بیان کیا گیا ہے۔
آپ عَلَیْہِ
السَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ
السَّلَام کی اولاد میں سے ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور
صَاحِبُ الْحُوْتْ ہے، آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ
کے کنارے پر واقع تھی ۔( صراط الجنان )
رب تعالیٰ فرماتا ہے :
وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(الصفت:139)
اور قوم یونس
کے متعلق فرمایا :
فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا
قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)
ترجمۂ
کنزالایمان: تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں
یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹادیا
اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔ (یونس:98)
یہ لوگ
موصل کے علاقے نینوٰی میں رہتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ نے
حضرت یونس عَلَیْہِ السلام کو ان کی طرف بھیجا، آپ نے انہیں بت پرستی چھوڑنے اور ایمان
لانے کا حکم دیا، ان لوگوں نے انکار کیا اور حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی تکذیب
کی، آپ نے انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عذاب نازل ہونے کی خبر دی، ان لوگوں نے آپس
میں کہا کہ حضرت یونس السَّلَام نے کبھی کوئی بات غلط نہیں کہی ہے، دیکھو اگر وہ
رات کو یہاں رہے جب تو کوئی اندیشہ نہیں اور اگر انہوں نے رات یہاں نہ گزاری تو سمجھ
لینا چاہیے کہ عذاب آئے گا۔ جب رات ہوئی تو آپ عَلَیْہ السَّلَام وہاں سے تشریف لے
گئے اور صبح کے وقت عذاب کے آثار نمودار ہوگئے ، آسمان پر سیاہ رنگ کا ہیبت ناک
بادل آیا ، بہت سارا دھواں جمع ہوا اور تمام شہر پر چھا گیا۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین
ہوگیا کہ عذاب آنے والا ہے ، انہوں نے آپ کو تلاش کیا اور نا پایا پھر اپنے جرائم
سے توبہ کی اور دین یونس علیہ السلام پر ایمان لائے تو اللہ نے ان سے عذاب اٹھا دیا
( ۔صراط الجنان )
آپ علیہ
الصلاۃ والسلام بستی سے ہجرت کرکے کشتی پر سوار ہوئے رب تعالیٰ فرماتا ہے:
اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)
ترجمۂ
کنزالایمان: جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔(الصفت:140)
حضرت آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم سے عذاب
کا وعدہ کیا تھا،جب اس میں تاخیر ہوئی تو آپ علیہ السلام نے قصد سفر کیا اور بھری
کشتی پر سوار ہوگئے، جب کشتی دریا کے درمیان پہنچی تو ٹھہر گئی اور اس کے ٹھہرنے
کا کوئی ظاہری سبب موجود نہ تھا۔ملاحوں نے کہا: اس کشتی میں اپنے مولا سے بھاگا
ہوا کوئی غلام ہے ،قرعہ اندازی کرنے سے ظاہر ہوجائے گا کہ وہ کون ہے۔ چنانچہ قرعہ
اندازی کی گئی توا س میں آپ عَلَیہ السَّلَام ہی کانام نکلا،اس پر آپ عَلَیْہِ
السَّلَام نے فرمایا کہ میں ہی وہ غلام ہوں ۔ اس کے بعد آپ علیہ السَّلَام پانی میں
ڈال دیئے گئے کیونکہ ان لوگوں کادستور یہی تھا کہ جب تک بھاگا ہوا غلام دریا میں
غرق نہ کردیاجائے اس وقت تک کشتی چلتی نہ تھی۔( صراط الجنان)
پھر آپ علیہ السلام کی حفاظت کے لیے باذن الہی
مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ ایک عرصے تک مچھلی کے پیٹ میں سلامت رہے پھر رب
تعالیٰ سے نجات کی دعا کی جو قبول ہوئی ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ
عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)
ترجمۂ
کنزالایمان: اور ذوالنون کو جب چلا غصہ میں بھرا تو گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے تو اندھیریوں میں پکارا کوئی معبود نہیں سوا تیرے
پاکی ہے تجھ کو بیشک مجھ سے بے جا ہوا۔ (سورۃا لانبیاء:87)
چونکہ آپ نے اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کا
انتظار نہ کیا تھا اس وجہ سےاللہ تعالیٰ نے انہیں مچھلی کے پیٹ میں ڈال دیا، وہاں
کئی قسم کی تاریکیاں تھیں جیسے دریا کی تاریکی ، رات کی تاریکی اور مچھلی کے پیٹ کی
تاریکی ، ان اندھیروں میں آپ نے اس طرح دعا کی کہ اے میرے رب! تیرے سوا کوئی معبود
نہیں اور تو ہرعیب سے پاک ہے، بیشک مجھ سے بے جا ہوا کہ میں اپنی قوم سے تیرا اِذن
اور اجازت پانے سے پہلے ہی جدا ہو گیا۔( صراط الجنان )
حضرت سیدنا
یونس علیہ السّلام کے واقعہ سے یہ بھی سبق حاصل ہوا کہ مشکلات میں جزع و فزع کی
بجائے رب العالمین کی بارگاہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
Dawateislami